تاریخی مقامات کو بچانے کے لیے تھری ڈی کیمروں کا استعمال

،تصویر کا ذریعہ
ایک نئے منصوبے کے تحت لوگوں کو تھری ڈی تصاویر لینے والے کیمرے دیے جا رہے ہیں تاکہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کی طرف سے تباہ ہونے والے قدیم تاریخی مقامات کو محفوظ کیا جا سکے۔
آکسفورڈ اور ہارورڈ میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے اس منصوبے کے تحت ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو کیمرے دے کر ان مقامات کی تصاویر لینے کو کہا جائےگا۔
ان تصاویر کی مدد سے ماہرین متاثرہ عمارتوں اور نوادرات کے تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے ان کی نقل بنا سکیں گے۔
اس بات کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب دولت اسلامیہ نے شام کے شہر پیلمائرہ میں ایک مندر کو تباہ کردیا۔
انسٹیٹیوٹ فار ڈیجیٹل آرکیالوجی کے اس منصوبے کے تحت دنیا بھر میں تنازعات کا شکار علاقوں میں لوگوں کو 5000 کیمرے دیے جائیں گے جن کے ذریعے 2016 کے آخر تک نقصان کا شکار ہونے والی تاریخی عمارتوں اور نوادرات کی دس لاکھ تصاویر حاصل کی جائیں گی۔
منصوبے کے ایگزیکٹو ڈایئریکٹر راجر میشل نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بتایا کہ ’یہ وقت کے خلاف ایک جنگ ہے، ہم نے اپنے اوقات کار ان تباہ ہوتے مقامات کو بچانے کے لیے تبدیل کر لیے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
حالانکہ ان مقامات کی ان گنت تصاویر پہلے ہی لی جا چکی ہے، لیکن تھری ڈی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیم کو ان حصوں کو دوبارہ تخلیق کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
ٹیم نے ایک کم قیمت تھری ڈی کیمرہ ڈیزائن کیا ہے جس کے ذریعے ناتجربہ کار لوگ بھی اس سے اعلیٰ معیار کی تصاویر لے سکیں گے اور یہ ایک خودکار پروگرام کے ذریعے آن لائن ڈیٹا بیس میں منتقل ہو جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راجر میشل کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ڈیجیٹل آرکیالوجی ہمارے پاس ان مقامات کی فن تعمیر اور تاریخ کو محفظ کرنے کی سب سے بڑی امید ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کیمروں کی تقسیم سب سے بڑا چیلنج ہے۔‘
حکام یونیسکو کے ساتھ مل کر بھی کام کریں گے تاکہ یہ کیمرے ان مقامی لوگوں کو دیے جا سکیں جو اس منصوبے میں مدد کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔
راجر مشیل نے کہا کہ ’پورے مشرق وسطیٰ میں لوگ اپنی تاریخ اور شناخت کے ساتھ ایک گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘







