پیلمائرا میں آثار قدیمہ کے نگران قتل

،تصویر کا ذریعہGetty
شام کے معروف قدیمی شہر پیلمائرا (تدمر) میں رومی دور کے آثار کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کا قتل ہو گیا ہے۔
خالد الاسعد کے قتل کا الزام دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر لگایا جا رہا ہے۔
اس سال مئی کے مہینے میں جب دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اس آثار قدیمہ پر قبضہ کیا تو انھوں نے جولائی میں خالد اسعد کو یرغمال بنا لیا تھا۔
شام کے آثار قدیمہ کے ڈائرکٹر مامون عبدالکریم نے بتایا کہ 82 سالہ محقق اسعد کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ان کا سر قلم کر دیا ہے۔
خالد الاسعد نے 50 سال سے زیادہ عرصے تک پیلمائرا کے آثار قدیمہ پر کام کیا ہے۔ وہ پیلمائرا کے آثار قدیمہ کے سربراہ تھے جو کہ مشرق وسطی کے اہم ترین تاریخی مقامات میں شامل ہے۔
منگل کو عبدالکریم نے کہا کہ خالد اسعد کے اہل خانہ نے انھیں بتایا کہ انھیں قتل کر کے ان کی لاش کو پیلمائرا کے بڑے چوک پر ایک ستون سے لٹکا دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
عبدالکریم نے کہا: ’ذرا تصور کیجیے ایک ایسے شخص کو جس نے اس جگہ اور اس کی تاریخ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں ان کا سر اس طرح قلم کر دیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شہر میں ان مجرموں کی مسلسل موجودگی پیلمائرا کے ہر ستون اور آثار قدیمہ کی ہر چیز کے لیے برا شگون ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولت اسلامیہ کے جنگجو شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قابض ہیں اور انھوں نے مئی میں شام کی حکومت سے اس شہر کو چھین لیا تھا۔
اس تنظیم نے شام اور عراق میں پہلے بھی کئی آثار قدیمہ کو نقصان پہنچایا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے پیلمائرا کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔
اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ اس کی تباہی ’انسانیت کے لیے بہت بڑا نقصان‘ ہو گا۔
شام کی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں شدید جنگ جاری ہے لیکن یہ تنظیم پیلمائرا پر ابھی تک قابض ہے۔







