دولتِ اسلامیہ نے ’پیلمائرا تھیئٹر میں 20 افراد کو مار دیا‘

ابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کھنڈرات کو نقصان پہنچایا ہو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کھنڈرات کو نقصان پہنچایا ہو

ایک مانیٹرنگ گروپ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام میں یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دی جانے والی جگہ پیلمائرا کے قدیم تھیئٹر میں 20 افراد کو ہلاک کر دیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق علاقے کے رہائشی کو بھی وہاں لایا گیا اور انھیں زبردستی زیرِ حراست آدمیوں کو گولیاں لگتے دکھایا گیا۔

آبزرویٹری کے مطابق جب گذشتہ ہفتے قدیم شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سے دولتِ اسلامیہ نے 240 افراد کو ہلاک کیا جن میں سے زیادہ تر تعداد فوجیوں کی ہے۔

اس سے قبل شام کے اس تاریخی شہر پر قبضے کے چند دنوں بعد دولت اسلامیہ نے شہر کے میوزیم کو بند کر دیا تھا اور دروازے پر پہرے بٹھا دیے تھے۔

تاہم اس بات کا خدشہ ضرور ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو 2,000 پرانے رومن دور کے کھنڈرات کو تباہ کر دیں گے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ ماہ عراق کے قدیم شہر نمرود کو بھی تباہ کیا تھا۔ تنظیم نے اس تاریخی شہر کو تباہ کرنے میں بلڈوزر اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا تھا۔

نمرود کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کا قیام 13 ویں صدی قبل مسیح میں عمل میں لایا گیا ہوگا۔ یہ شہر موصل کے جنوب مشرق میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کا شمار عراق کے سب سے بڑے آثارِ قدیمہ میں ہوتا ہے۔

پیلمائرا پر قبضے کے بعد دولتِ اسلامیہ نے فوجی ہوائی اڈے اور قریبی بدنامِ زمانہ جیل پر بھی قبضہ کر لیا۔

پیلمائرا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نوادرات پیلمائرا سے دمشق منتقل کر دیے گئے ہیں

ابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا کے تاریخی ورثے کو نقصان پہنچایا ہو، جسے مقامی طور پر تدمر کہا جاتا ہے۔

خبر راساں ادارے روئٹرز کے مطابق دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے آن لائن جہادی میڈیا پر نشر کیے جانے والی فٹیج کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے جان بوجھ کر دکھایا ہے کہ آثارِ قدیمہ کو نقصان نہیں پہنچا۔

نیوز ایجنسی کے مطابق اگرچہ زمینی طور پر ان تصاویر کی بھی کوئی تصدیق نہیں ہوئی لیکن علاقے میں رہائشیوں نے کہا ہے کہ کھنڈرات سلامت ہیں۔

شامی حکام کے مطابق میوزیم کے زیادہ تر نوادرات کو اس سے قبل ہی دمشق منتقل کر دیا گيا تھا تاہم وہ بڑے نوادرات نہ لے جا سکے تھے۔

جن افراد کو بدھ کو ہلاک کیا گیا ان پر شامی فوجیوں کے ہمراہ لڑنے کا الزام تھا، جو گذشتہ ہفتے پیلمائرا پر داعش کے حملے کے بعد شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

شاہدین کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شہر پر قبضے کے فوراً بعد حکومتی فوجیوں کی تلاش میں گھر گھر گئے اور مسجد سے اعلان بھی کروایا کہ رہائشی فوجیوں کو ان کے حوالے کر دیں۔

دی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شہر میں ہلاک ہونے والے 240 افراد میں تقریباً 70 خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ جیل سے حراست میں لیے گئے 600 قیدیوں کو بھی اسی قسم کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پیلمائرا کے قدیم کھنڈرات دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیر الزور کی طرف جانے والی سڑک پر واقع ہیں۔ دیر الزور پر قبضے کے لیے بھی دولتِ اسلامیہ اور شامی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے۔