شام کے قدیم شہر پیلمائرا پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ

جنگجو ابھی تک شہر کے جنوب میں واقع تاریخی کھنڈرات تک نہیں پہنچ سکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنگجو ابھی تک شہر کے جنوب میں واقع تاریخی کھنڈرات تک نہیں پہنچ سکے ہیں

شام کی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تاریخی شہر پیلمائرا کی جانب پیش قدمی کے سبب سرکاری فوج شہر سے پسپا ہو گئی ہے۔

دولت اسلامیہ ایک ہفتے سے قدیم تاریخی شہر پیلمائرا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔

پیلمائرا کو تدمر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں اسلام کی آمد سے قبل پہلی اور دوسری صدی کے آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگجو شہر پر قبضے کے بعد اس تاریخی ورثے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

<link type="page"><caption> ریگستان کے وینس کو شدت پسندوں سے خطرہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/05/150516_palmyra_pics_atk" platform="highweb"/></link>

شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے شہر خالی کر دیا ہے اور بیشتر شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اب شہر کے جنوب میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات کا رخ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے عراق میں نمرود اور حضر جیسے قدیم شہروں پر قبضے کے بعد وہاں موجود صدیوں پرانے تاریخی آثار کو تباہ کر دیا تھا۔

ایک عینی شاہد نے تصدیق کی ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اب پیلمائرا کے شمالی حصے پر مکمل طور پر قابض ہو گئے ہیں اور ان کی پیش قدمی جاری ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیلمائرا میں موجود ایک سیاسی کارکن عمر حمزہ کا کہنا تھا کہ شدت پسند حکومتی افواج اور حکومت کی حامی ملیشیا سے شدید لڑائی کے بعد شہر کے مرکزی ہسپتال اور مغربی علاقے کے کچھ حصوں پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگجو پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے

،تصویر کا ذریعہEuropean Photopress Agency

،تصویر کا کیپشنخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگجو پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے

انھوں نے بتایا کہ شہر کے مشرقی حصے میں بھی پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں جبکہ شہر پر دولتِ اسلامیہ اور حکومتی افواج دونوں کی جانب سے گولہ باری کی گئی ہے۔

جنگجو ابھی تک شہر کے جنوب میں واقع ان تاریخی کھنڈرات تک نہیں پہنچ سکے ہیں جن کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے سب سے قیمتی تاریخی ورثے میں ہوتا ہے۔

شام کے تاریخی ورثے کے محکمے کے سربراہ مامون عبدالکریم نے کہا ہے کہ وہاں سے سینکڑوں مجسموں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ساری دنیا کی جنگ ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت یونیسکو کی سربراہ کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

پیلمائرا کے نوادرات کو ’ریگستان کی دلہن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پیلمائرا کی تاریخی عمارتیں دوسری صدی عیسوی میں تعمیر ہوئیں اور وہ یونانی، ایرانی اور رومن فن تعمیر کا امتزاج ہیں۔