’خالی سٹیڈیم مجھے تکلیف دیتے ہیں‘: پی ایس ایل میچوں میں شائقین کی غیر موجودگی، فرنچائز مالکان کی مایوسی اور محمد یوسف کی تجویز

،تصویر کا ذریعہgettyimages
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی مختلف فرنچائزز کی جانب سے میچز کے دوران شائقین کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت دینے کے مطالبے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا موجودہ حالات میں سٹیڈیمز میں لوگوں کو آنے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔
پی ایس ایل فرنچائز لاہور قلندرز، حیدر آباد کنگز مین اور پشاور زلمی کے مالکان کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اپیل کی گئی ہے کہ پی ایس ایل میں شائقین کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے اُنھیں سٹیڈیمز میں آنے کی اجازت دی جائے۔
خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث کفایت شعاری مہم کے تحت پی ایس ایل میچز خالی سٹیڈیمز میں کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔
پی سی بی نے پشاور اور فیصل آباد کے وینیوز میں میچز منسوخ کر کے پی ایس ایل 11 کے میچز کو لاہور اور کراچی تک محدود کر دیا تھا۔
پہلے مرحلے میں اس وقت لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں میچز کا سلسلہ جاری ہے، تاہم خالی سٹیڈیمز پر بعض شائقین اور اب پی ایس ایل فرنچائز کی جانب سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
فرنچائز مالکان کا کیا کہنا ہے؟
جمعے کو لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف رانا کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ پی ایس ایل کرکٹ کے جشن کی شکل اختیار کر گیا ہے اور لوگ ہی اس کی طاقت ہیں۔ لیکن مداحوں کے بغیر یہ ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ شائقین پاکستان سپر لیگ کی اصل روح ہیں۔ ہم احترام کے ساتھ وزیر اعظم سے گزارش کرتے ہیں کہ شائقین کو سٹیڈیمز میں آنے کی اجازت دی جائے۔
پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پی ایس ایل لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کا ایک لازمی حصہ ہے اور پوری قوم کے لیے اتحاد کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ہمارے مداحوں کا جذبہ، رنگ اور موجودگی اس لیگ کی اصل روح ہے ان کے بغیر اس کی روح کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
حیدر آباد کنگز مین کے مالک فواد سرور نے ایکس پر لکھا کہ ہم پی ایس ایل میچز کے دوران شائقین کی عدم موجودگی کو بُری طرح محسوس کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ جب شائقین موجود ہوں تو ٹیموں کے جذبے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ شائقین کو آنے کی اجازت دی جائے۔
کراچی کنگز کے سلمان اقبال نے ایکس پر لکھا کہ بطور فاؤنڈنگ ٹیم کے مالک جو پی ایس ایل کے آغاز سے ہی اس کا حصہ رہا ہے، خالی سٹیڈیمز دیکھ کر دل دکھتا ہے۔
’میں وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کرتا ہوں کہ شائقین کو دوبارہ سٹیڈیم میں آنے کی اجازت دی جائے۔ پی ایس ایل کھیل عوام کے جوش و خروش پر منحصر ہے، اس لیے لوگوں کو دوبارہ کھیل کا حصہ بننے دیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@HHKingsmen
سوشل میڈیا پر ردِعمل
ایسے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیدل افراد یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سٹیڈیم آنے والے شائقین کو اجازت دے اور سٹیڈیم کی پارکنگ کو نجی گاڑیوں کے لیے بند رکھا جائے۔
ایکس پر اپنے بیان میں محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات کے ذریعے کرکٹ شائقین کو تفریح کے مواقع مل سکتے ہیں۔
اس پر کاشف منور نامی صرف نے لکھا کہ یہ بہت اچھی تجویز ہے، پیدل آنے والے افراد کو پی ایس ایل میچز دیکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
زلمی لور نامی صارف نے لکھا کہ پی سی بی کو محمد یوسف کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ کراؤڈ کے بغیر کھیلے جا رہے میچز کافی بورنگ محسوس ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق لکھتے ہیں کہ جیسے جیسے سوشل میڈیا مہم زور پکڑ چکی ہے اور ٹیم مالکان کے بیانات سامنے آرہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ شائقین کو پی ایس ایل میں واپس لانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ پاکستان کرکٹ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے دُنیا بھر کا سفر کرنے والے چاچا کرکٹ بھی پی ایس ایل میں شائقین کے نہ ہونے سے مایوس ہیں۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں چاچا کرکٹ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سپر لیگ شائقین کے بغیر کھوکھلی لگتی ہے۔ پاکستانی شائقین دنیا میں سب سے زیادہ پرجوش ہیں اور پی ایس ایل شروع ہونے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ میں پاکستان حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ شائقین کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی جائے۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف
بی بی سی نے اس معاملے پر موقف کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا، ایک اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کرکٹ بورڈ فرنچائز مالکان کے مطالبات سے آگاہ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سٹیڈیم میں شائقین کو آنے کی اجازت دینے کے معاملے پر پی سی بی حکومتی ہدایات کا منتظر ہے۔


























