’ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم رن ریٹ پر باہر ہوئی‘: پاکستانی ٹیم کے دفاع پر محمد رضوان کو تنقید کا سامنا

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحمد رضوان پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں، تاہم بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اُنھیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان کی جانب سے قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باوجود محمد رضوان کی جانب سے اس کا دفاع کرنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کس جانب جا رہی ہے۔ لیکن کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اتنی بھی بُری کارکردگی نہیں دکھائی۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں بیٹنگ پریکٹس کے لیے آنے والے محمد رضوان سے ایک کرکٹ فین سوال جواب کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ محمد رضوان کو دورہ بنگلہ دیش کے لیے پاکستان کے ون ڈے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے اور اس کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں نے جمعے کو پریکٹس کی۔

پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف تین ون ڈے میچ کی سیریز کے لیے اتوار کو ڈھاکہ روانہ ہو رہی ہے۔

پریکٹس سیشن کے دوران ایک صحافی محمد رضوان سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے متعلق سوال کرتا ہے جس پر محمد رضوان کہتے ہیں کہ ’ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم رن ریٹ پر باہر ہوئی۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس پر صحافی سوال کرتا ہے کہ سری لنکا کے خلاف تو ہم نے بہت برا میچ کھیلا؟ اس پر محمد رضوان کہتے ہیں کہ ’بُرا اور اچھا کی بات نہیں ہے، ہم جیت تو گئے ناں۔ آپ دیکھیں زمبابوے اور آسٹریلیا کے ساتھ کیا ہوا، یہ کرکٹ ہے۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔‘

صحافی سوال کرتا ہے کہ آپ دیکھیں انڈیا کس طرح کی کرکٹ کھیل رہا ہے، اس پر محمد رضوان کہتے ہیں کہ ’معذرت کے ساتھ میں وہ میچ دیکھتا نہیں ہوں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہو گئی تھی۔ سپر ایٹ میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کا میچ بارش کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا۔

پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے سری لنکا کو بڑے مارجن سے ہرانا ضروری تھا۔ کینڈی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 213 رنز کا ہدف دیا تھا۔ لیکن نیٹ رن ریٹ پر نیوزی لینڈ سے اُوپر جانے کے لیے پاکستان کو سری لنکا کی ٹیم کو147 رنز تک محدود رکھنا تھا۔

لیکن سری لنکا نے نہ صرف آسانی سے 147 رنز بنا لیے بلکہ ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ سری لنکا یہ میچ جیت بھی سکتا ہے، لیکن صرف پانچ رنز کی دُوری سے سری لنکا کو اس میچ میں شکست ہوئی۔

’کرکٹرز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی نہیں مانیں گے‘

حسن عبداللہ نامی صارف لکھتے ہیں کہ محمد رضوان کبھی بھی نہیں مانیں گے کہ پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں نے اچھا پرفارم نہیں کیا۔

گوند مشرا نامی صارف لکھتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ یہ بڑا مسئلہ ہے۔ وہ اپنی غلطی نہیں مانیں گے۔۔۔۔‘ انھوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم جلد ایسوسی ایٹ ٹیم بن کر رہ جائے گی۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ سوال تو محمد رضوان سے بنتا ہی نہیں تھا۔ وہ ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل نہیں تھے۔ یہ سوال تو عاقب جاوید سے پوچھا جانا چاہیے۔

صہیب فرقان نامی صارف نے محمد رضوان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں، لیکن آپ کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

گوسوامی نامی نے لکھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ میں سات میچ کھیلے ان میں سے چار کمزور ٹیموں کے خلاف جیتے اور جب مضبوط ٹیموں سے سامنا ہوا تو یہ ٹیم دونوں میچ ہاری۔

X/@Akhilesh_goswam

،تصویر کا ذریعہX/@Akhilesh_goswam

مکھن لال نامی صارف نے لکھا کہ بطور انڈین میں سمجھتا ہوں کہ محمد رضوان تیکنیکی طور پر درست کہہ رہے ہیں۔

علی نامی صارف لکھتے ہیں کہ محمد رضوان 100 فیصد دُرست کہہ رہے ہیں۔ اس کی بہترین مثال انڈیا اور انگلینڈ کے میچ کی ہے۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ انگلینڈ نے آخر تک کوشش کی، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں، آخر میں انڈیا ہی سات رنز سے یہ میچ جیتا۔

خیال رہے کہ محمد رضوان کو ایک وقت میں پاکستان کی ٹی 20 ٹیم کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا، لیکن سنہ 2024 کے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد وہ ٹی 20 سکواڈ کا مستقل حصہ نہیں رہے۔

اُنھیں انڈیا اور سری لنکا میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ تاہم وہ پاکستان کے ون ڈے سکواڈ اور ٹیسٹ سکواڈ میں شامل رہے ہیں۔