وہ بیماری جس سے متاثرہ خاتون کا قد تقریباً ایک فٹ کم ہو گیا

،تصویر کا ذریعہCaroline King
- مصنف, جیمز ڈائمنڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
مختلف بیماریاں ہمارے جسم اور ذہن پر کئی اثرات مرتب کرنے کا باعث بن جاتی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی ایسی بیماری سے متعلق سنا ہے جس میں متاثرہ مریض کا قد ایک فٹ تک کم ہو جائے۔
انگلینڈ کی کاؤنٹی ولٹ شائر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنی ایسی کہانی بیان کی ہے تاکہ دوسروں کو کبھی ہمت نہ ہارنے کا پیغام دے سکیں۔
63 سالہ کیرولین کنگ جب آنکھوں میں خراش جیسی کیفیت کے باعث ڈاکٹر کے پاس گئیں تو انھیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ ایک جان لیوا جگر کی بیماری کی ابتدائی علامت سے گزر ہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو اب بھی یقین نہیں آتا کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ ہوا اور میں آج بھی زندہ ہوں۔‘
’ریئر ڈیزیز ڈے‘ کے موقع پر انھوں نے اپنی بیماری ’گرینولومیٹس ہیپاٹائٹس‘ کا تجربہ شیئر کیا تاکہ جگر کی بیماریوں اور ان کے اثرات کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔
’انسانی جسم حیرت انگیز ہے‘

،تصویر کا ذریعہBritish Liver Trust
جگر کی پیوندکاری سے پہلے کیرولین کنگ میں اس مرض کی علامات اس قدر شدید ہو گئی تھیں کہ انھیں وہیل چیئر استعمال کرنا پڑی۔ شدید تھکن اور ذہنی الجھن کے باعث وہ عام زندگی گزارنے سے قاصر تھیں۔
ان کی کہانی کی شروعات جاننے کے لیے ہمیں 2018 میں جانا ہو گا جب وہ گھر پر ٹی وی دیکھ رہی تھیں اور اچانک ان کی نظر دھندلا گئی اور انھیں آنکھوں میں خراش محسوس ہونے لگی۔
کیرولین کنگ نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سوچا یہ واقعی کچھ عجیب ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بعد میں ایک ماہر چشم نے ان کی آنکھ کے ایک حصے میں سوزش کی بیماری کی تشخیص کی لیکن 2019 میں جب ان کی آنکھیں اور جلد کا رنگ پیلاہٹ کی جانب مائل ہوا تو جگر کی بائیوپسی کروانا تجویز کیا گیا۔
اب کی رپورٹس میں گرینولومیٹس ہیپاٹائٹس کی نشاندہی ہوئی۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شاید 10 سال میں صرف ایک کیس ہی ان کے سامنے آتا ہے۔
کیرولین کنگ کو جگر کی پیوندکاری کے لیے چھ ماہ انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران ادویات کے اثرات سے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی بیماری جس میں متاثرہ ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں) کے باعث ان کا قد پانچ فٹ چار انچ (1.63 میٹر) سے کم ہو کر چار فٹ چھ انچ (1.37 میٹر) رہ گیا۔
چھ برس بعد اب ان کی آنکھوں اور جگر کی کارکردگی قدرے بہتر ہے اور ان کا قد دوبارہ پانچ فٹ (1.52 میٹر) تک پہنچ گیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیغام دوسروں کے لیے یہی ہے کہ ’کبھی ہمت نہ ہاریں۔ انسانی جسم حیرت انگیز ہے۔‘
زندگی بدل دینے والے اثرات
برٹش لیور ٹرسٹ کے مطابق برطانیہ میں ہزاروں افراد جگر کی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جن کی تشخیص میں اکثر برسوں لگ جاتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں آگاہی کم اور تحقیق محدود ہے۔
برٹش لیور ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو پامیلا ہیلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بیماریاں ’کم عام‘ ہیں لیکن ان کا اثر ’زندگی بدل دینے والا‘ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آگاہی کی کمی کے باعث تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے اور مریضوں کو درست علاج تک مساوی رسائی نہیں ملتی۔‘
ان کے مطابق ’ہمیں زیادہ سمجھ بوجھ، بروقت تشخیص اور تحقیق میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی شخص جو جگر کی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو وہ بروقت تشخیص اور علاج کروا سکے۔‘













