جموں و کشمیر کی ٹیم پہلی بار رنجی ٹرافی کی فاتح: ’عاقب نبی انڈین ٹیم میں آنے کے راستے پر ہیں‘

جموں ٹیم ٹرافی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنجموں و کشمیر کی ٹیم نے پہلی بار رنجی جیت کر تاریخ رقم کی
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

10 دسمبر 2014 کو ممبئی کے تاریخی وانکھیڈے سٹیڈیم میں فرسٹ کلاس کرکٹر پرویز رسول کی قیادت میں جموں و کشمیر کی ٹیم نے جب رنجی ٹرافی ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں بمبئی کی ٹیم کو چار وکٹوں سے ہرایا تھا تو اسے کسی عجوبے سے کم نہیں سمجھا گیا تھا کیونکہ بمبئی کی ٹیم 40 بار رنجی ٹرافی چیمپیئن رہ چکی تھی۔

اب کئی برسوں بعد گذشتہ دنوں جموں و کشمیر کی ٹیم نے آٹھ بار کی چیمپیئن کرناٹک کی ٹیم کو فائنل میں ہرا کر جب رنجی ٹرافی چیمپیئن شپ اپنے نام کی تو اسے پریوں کی کہانی سے تعبیر کیا گیا۔

انڈیا کے سابق کرکٹر اور کوچ روی شاستری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جموں و کشمیر کی جیت پر لکھا کہ ’جموں و کشمیر نے پہلی بار رنجی ٹرافی اٹھائی۔ کیا سفر، کیا کہانی ہے۔ پارس ڈوگرا، اجے شرما اور اس نڈر گروپ نے ہیوی ویٹ ٹیموں کو چت کرتے ہوئے طویل راستہ طے کیا، ایک میچ سے دوسرے میچ تک، ہمت اور خود اعتمادی کے ساتھ، کوئی شارٹ کٹ نہیں، بس سخت محنت سے بھرے کرکٹ کے کھیل اور بڑے دل کے ساتھ۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہی رنجی ٹرافی کی خوبصورتی ہے۔ یہ پریوں کی کہانیوں کو جنم دیتی ہے اور یہ جیت مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ جموں و کشمیر کے لڑکوں کو بہت بہت مبارک ہو۔ آپ نے پوری کرکٹ برادری کا سر فخر سے بلند کیا۔‘

عاقب نبی

،تصویر کا ذریعہABID BHAT

،تصویر کا کیپشنفاسٹ بولر عاقب نبی نے پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 60 وکٹیں لیں

گنگولی کی عاقب نبی کے لیے حمایت

فائنل سے ایک دن قبل ہی انڈیا کے سابق کپتان سوراو گنگولی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جموں و کشمیر کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کے سٹار کھلاڑی اور رواں سیزن میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے عاقب نبی کو مبارکباد دی۔

انھوں نے لکھا کہ ’جموں و کشمیر نے دنیا کو دکھا دیا کہ کوشش اور ارادہ کیا کر سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے خطے کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا۔ عاقب نبی قومی ٹیم میں آنے کی راہ پر ہیں۔‘

اسی بابت معروف صحافی ایاز مینن لکھتے ہیں کہ ’کئی دہائیوں تک، یہ خطہ شورش، سیاسی انتشار اور بیگانگی کے گہرے احساس سے متاثر تھا یہاں تک کہ سنہ 2019 میں دہلی نے جموں و کشمیر کی خود مختاری کو منسوخ کر دیا اور ریاست کو دو نئے وفاقی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر بھی ان ہنگاموں کے باوجود کرکٹ کا جنون وہاں بہت گہرا تھا۔ اگرچہ کامیابی اس سے دور دور ہی رہی۔‘

بہرحال 12 سال قبل بمبئی کے خلاف جیت کے بعد کارکردگی میں تسلسل نظر نہیں آیا لیکن جب اس ٹیم نے رواں سال کولکتہ جیسی بڑی ٹیم کو ان کے ہی ہوم گراؤنڈ پر سیمی فائنل میں شکست دے کر فائنل میں قدم رکھا تو کرکٹ کے ناقدین نے ایک نئے سورج کے طلوع ہونے کی پیشگوئی شروع کر دی۔

حالانکہ فائنل میں ان کے مدمقابل آٹھ بار کی رنجی چیمپیئن کرناٹک جیسی مضبوط ٹیم تھی جو کہ کے ایل راہل، میانک اگروال، کپتان دیو دت پڈڈیکل، کرون نایر اور پرسدھ کرشنا جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم تھی۔ یہ سب کھلاڑی انڈین ٹیم کی ٹیسٹ اور ون ڈے میں نمائندگی کر چکے ہیں۔

پرویز رسول

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنپرویز رسول کی قیادت میں کشمیر کی ٹیم نے پہلی بار بمبئی کی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا تھا

نسلوں کے لیے ترغیب

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کشمیر کی جانب سے رنجی کھیلنے والے اور انڈیا کی قومی ٹیم میں صرف ایک ون ڈے اور ایک ٹی 20 میں جگہ بنانے والے پرویز رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہم سارے لوگوں کے لیے فخر اور جذبات سے لبریز لمحہ ہے۔ یہ ان سب کے لیے خوشی کی بات ہے جو جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سے منسلک ہیں اور جنھوں نے جس بھی سطح پر اس جیت میں اپنا تعاون کیا، سب کے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’67 سال کے بعد بالآخر ہم اس لائق ہوئے کہ ہم نے یہ ٹرافی اٹھائی۔ یہ ہم سب کے لیے عظیم لمحہ ہے اور یہ جیت آنے والی نسلوں کو ترغیب دیتی رہے گی۔‘

ہم نے جموں و کشمیر کے لیے رنجی کھیلنے والے آل راؤنڈر سمیع اللہ بیگ سے بھی بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر رنجی ٹیم کی کامیابی میں کون کون سے عوامل شامل رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے مایہ ناز کرکٹر اور سابق کپتان بشن سنگھ بیدی نے جب سنہ 2011 میں ٹیم کی مینٹورشپ شروع کی اس دن سے ہم اس راہ پر گامزن ہوئے۔‘

2003 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھنے والے سمیع اللہ بیگ نے بتایا کہ ’بیدی صاحب کے آنے سے قبل ہم مخالف ٹیم کی طاقت کے مطابق کھیلتے تھے لیکن انھوں نے ہمیں اپنی طاقت پر کھیلنے کی ترغیب دی جس نے کھلاڑیوں میں بھرپور اعتماد پیدا کیا اور پھر دو سال بعد ہی ہم رنجی کے کوارٹر فائنل میں پہنچے۔‘

انھوں نے کہا کہ بیدی کے بعد ٹیم کو بنانے میں سب سے اہم کردار کرکٹر اور بی سی سی آئی کے حالیہ صدر متھن منہاس کا ہے جنھوں نے ٹیم کے کھلاڑیوں کو حوصلہ دیا اور انھوں نے اجے شرما کو کوچ مقرر کیا اور رنجی کے تجربہ کار کھلاڑی پارس ڈوگرا کو کپتانی کی ذمہ داری سونپی۔

’انھوں نے یہ واضح پیغام دیا کہ ایک دو میچ کی خراب کارکردگی سے کھلاڑیوں کو ٹیم سے نہیں ہٹانا، جس نے کھلاڑیوں میں بھروسہ پیدا کیا جس کے سبب اس ٹیم نے پچھلے دو تین سال میں بڑی بڑی ٹیموں کو کئی مرحلے پر شکست سے دو چار کیا۔‘

پارس ڈوگرا

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکپتان پارس ڈوگرا نے رواں سیزن میں رنجی ٹورنامنٹس میں اپنے 10 ہزار رنز مکمل کیے

رنجی کے لیے سپیشل تربیت

کرکٹر عرفان پٹھان نے بھی 2019-2018 سیزن کے لیے جموں و کشمیر ٹیم کے کوچ اور مینٹور کی ذمہ داری نبھائی تھی۔

کشمیر میڈیا کے مطابق انھوں نے پورے خطے میں نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو فروغ دینے، سری نگر میں ٹیلنٹ ہنٹ کرنے اور مختلف عمر کے گروپوں کے لیے سیلیکشن کے عمل پر توجہ مرکوز کرائی جبکہ ڈوگرا اور اجے شرما کی رہنمائی میں، جموں و کشمیر کی ٹیم نے سخت، طویل مدتی تیاری پر توجہ مرکوز کی۔

ڈوگرا نے فٹنس کے معیارات کو سخت کیا اور تربیت کے لیے زیادہ منظم، نظم و ضبط والا طریقہ متعارف کرایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹیم ہائی پریشر حالات کے لیے تیار ہے۔

فائنل سے پہلے، ڈوگرا اور اجے شرما نے اپنی ٹیم کی مخصوص، ٹارگٹڈ تیاریوں پر توجہ مرکوز کی، جیسے کہ ایک گھنٹہ روزانہ شارٹ پچ بولنگ کے خلاف خصوصی مشق۔

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ ہی مینجمنٹ نے جیتنے والی ذہنیت کو فروغ دیا، ٹیم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ شروع سے ہی رنجی ٹرافی جیت سکتے ہیں۔

صرف چند افراد پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، ڈوگرا نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سکواڈ کے تمام 14-15 کھلاڑی تیاری میں شامل ہوں اور ٹیم کی کامیابی کے لیے ذمہ دار محسوس کریں۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں 20 سال سے زیادہ تجرہہ رکھنے والے اور رنجی میں دس ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے کپتان ڈوگرا نے ڈریسنگ روم میں پیشہ ورانہ، پرسکون اور نظم و ضبط کا ماحول بنایا جسے سابق کوچ اور ایڈمنسٹریٹر متھن منہاس نے جموں و کشمیر کی کامیابی کی کلید قرار دیا۔

گلی محلے میں کھیل

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں انڈیا کے دوسرے علاقوں کی طرح ہی کرکٹ کا جنون پایا جاتا ہے

بین الاقوامی تجربے کی کمی

جب ہم نے آل راؤنڈر سمیع اللہ بیگ سے گنگولی کے جملے کے حوالے سے چیلنجز کی بات کی تو انھوں نے کہا کشمیر کے نوجوانوں میں کرکٹ جنون کی حد تک شامل ہے۔ ’اگرچہ اس خطے کو اس کی خغرافیائی حیثیت کے تحت صرف چھ ماہ ہی کھیلنے کو ملتے ہیں کیونکہ بقیہ چھ ماہ بڑا حصہ برف سے ڈھکا ہوتا ہے ایسے میں دوسری ریاستوں کی ٹیموں کے مقابلے میں اسے تیاری کا کم وقت ملتا ہے۔‘

انھوں نے انفراسٹرکچر کی کمی کا بھی گلہ کیا کہ ان کے ہاں اکیڈمیاں نہیں اور فرسٹ کلاس کے میچز کے لیے خاطر خواہ میدان بھی نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سری نگر میں ڈل جھیل کے پاس ہی ایک میدان ہے اس میں اسی طرح کرکٹ کھیلنے والوں کا ہجوم رہتا ہے جیسا ممبئی کے آزاد میدان میں جہاں بیک وقت درجنوں ٹیمیں کھیل رہی ہوتی ہیں۔

جبکہ دوسری جانب انھوں نے کشمیر کی کشیدہ تاریخ کی جانب بھی اشارہ کیا جس کی وجہ سے سورش اور کرفیو جیسے حالات بار بار کھیل کو متاثر کرتے رہے اور اس کے سبب یہ انٹرنیشنل تجربے سے محروم رہا۔

یہ ایک المیہ ہی ہے کہ جہاں کرکٹ کے بیٹ کی روایتی لکڑی وِلو پیدا ہوتی ہو اور جہاں بیٹ بنانے کی صنعت گھر گھر نظر آتی ہو وہاں کی ٹیم کو ابھرنے اور قومی سطح پر خود کو منانے میں 67 سال لگ گئے۔

کشمیر کی ٹیم سنہ 1960-1959 میں رنجی ٹرافی مقابلوں میں پہلی بار شامل ہوئی تھی اور اسے پہلی جیت حاصل کرنے میں کوئی 20-21 سال لگ گئے تھے۔جبکہ پہلی بار کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے لیے کوئی 50 سال لگے۔

کشمیر کی تاریخی جیت پر مداح ایک دوسرے کو مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنکشمیر کی تاریخی جیت پر مداح ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے

رنجی ٹرافی ریڑھ کی ہڈی

خیال رہے کہ رنجی ٹرافی کو انڈیا کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے اور یہ آسٹریلیا کے شیفل شیلڈ اور انگلینڈ کی کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی اور انڈیا میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ہے جس کی بنیاد سنہ 1934 میں پڑی تھی جب مدراس اور میسور کے درمیان ایم اے چدم برم سٹیڈیم (مدراس) میں میچ ہوا تھا۔ یہ پاکستان کے قائد اعظم ٹرافی کی طرح ہے۔

رواں سال رنجی ٹرافی میں تہلکہ مچانے والے عاقب نبی کو بڑے پیمانے پر انڈین ٹیم میں شامل ہونے کے لائق قرار دیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بڑے میچوں میں پرفارم کرنے پر کہا کہ ’میرا منصوبہ سیدھا سادہ ہے۔ میں ہر میچ میں اپنا بہترین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس میں اپنا سب کچھ جھونک دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ناک آؤٹ میں، ہر میچ جیتنا ضروری ہے۔ اس لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔‘

جموں و کشمیر کرکٹ کے سفر پر نگاہ رکھنے والے صحافی اور کرکٹر محسن کمال نے بی بی سی کے قیصر اندرابی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور یہ کھلاڑیوں کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے عاقب نبی کے بارے میں کہا کہ ’جب عاقب نبی ابھی عاقب نبی نہیں بنے تھے تو ان کی گیند کو فیس کرتے ہوئے مجھے گھبراہٹ ہوتی تھی اور آج یہ عالم ہے کہ ان کی گیند کو فیس کرنے میں بڑے بڑے کھلاڑیوں یہاں تک کہ ناظرین میں بھی گھبراہٹ نظر آتی ہے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جموں و کشمیر کی ٹیم نے جو کامیابی حاصل کی، وہ ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں کرکٹ کا انفرا سٹرکچر جو سنہ 1972 میں تھا اس میں کوئی بہتری نہیں آئی اور اس کے پاس صرف دو سٹیڈیم ہیں ایک سری نگر میں اور ایک جموں میں۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس جیت کے بعد حکام کرکٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے آگے آئیں گے۔