سری نگر کا کرکٹ میچ جس کا نتیجہ اگست 2019 سے نامکمل ہے

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
دسمبر کی سرد صبح اور دھند کے باوجود انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بچوں کی ایک کرکٹ ٹیم اپنا فیصلہ کن میچ کھیلنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ صحافی عادل حسین بتاتے ہیں کہ یہ میچ اہم اس لیے ہے کیونکہ اگست 2019 میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹورنامنٹ معطل ہوگیا تھا۔
سری نگر کے رہائشی فدیق حسین اپنے سکول کے دوستوں کے ہمراہ اکثر اتوار کو میچ کھیلتے تھے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خودمختاری تو ختم کردی لیکن ان کے دلوں میں کرکٹ کا جنون اب بھی باقی ہے۔ ہاں موسم کی سختی ایک رکاوٹ ضرور بنی ہوئی ہے۔
ان کی ٹیم خیام ٹائیگرز میں ان کے دوست فرحان، فاضل، عاصم، عماد، شایان، نعمان، صفیان، میراب، ولید اور ریعان شامل ہیں۔ ان سب ان کی عمر آٹھ سے 12 سال کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
رواں سال اگست کی ابتدا میں خیام ٹائیگرز کا پچھلا 10 اوورز کا میچ اس لیے ٹائی ہوگیا تھا کیونکہ مقامی انتظامیہ نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو کرفیو کی وجہ سے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت انڈین حکومت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے انتظامات کر رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کچھ ماہ بعد کشمیر کے کرفیو میں نرمی کے باوجود ان کا نیا میچ شروع نہ ہوسکا۔
’گلی میں بھی کرکٹ کی اجازت نہیں‘
نومبر کے دوران کشمیر بھر میں برف باری سے معمولات زندگی متاثر ہوئی۔ صبح اور شام شدید دھند نے کھیل کود شروع ہونے سے پہلے روک دیا۔
وادی میں ان مہینوں سردی اپنی شدت پر ہے۔ صبح کے اوقات میں دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ کم ہوجاتی ہے جبکہ نلکوں میں پانی جما رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
اس کے باوجود خیام ٹائیگرز کا عزم قائم رہا۔ تپتی دھوپ یا کڑاکے کی ٹھنڈ میں انتظامیہ کچھ کرے نہ کرے، حسین اور ان کے دوست اپنے کرکٹ کے جنون میں کسی صورت رُکنے والے نہیں تھے۔
8 دسمبر کو خیام ٹائیگرز کی ٹیم چار ماہ کے وقفے کے بعد اپنے حریف سے مدمقابل ہو رہی تھی۔ اسی دوران محمکہ موسمیات نے موسم سرما کے اس پہر میں بچوں، خواتین اور بوڑھے لوگوں کو احتیاطی تدابیر لینے کی نصیحت کی ہوئی تھی۔
ٹیم کے کھلاڑی ریعان بتاتے ہیں کہ: ’مجھے ہر کھیل پسند ہے۔ یہاں کشمیر میں سب سے زیادہ کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ یہ محض ایک گیم نہیں بلکہ ایک شخص کا دل اور روح ہے۔

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
’اس میں کم از کم دو کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایک بال کرا سکے اور دوسرا بیٹنگ کر سکے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ٹیم کے سب کھلاڑی ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہم اپنی گلی میں بھی کھیل نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ سختیوں اور مواصلاتی نظام کی بندش کی وجہ سے ہمارے والدین ہمیں گھر سے باہر جانے سے منع کرتے تھے۔
’لیکن تین دن قبل باہر چلنے پھرنے کے لیے صورتحال میں بہتری دیکھنے پر ہم نے میچ اس اتوار کھیلنے کا فیصلہ کیا۔‘
ٹیم کا آل راؤنڈر کپتان

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
میچ کی صبح خیام ٹائیگرز حسین کی رہائش گاہ سے ڈیڑھ کلو میٹر دور شری پرتاب کالج کے سپورٹس گراؤنڈ پہنچ گئی جو سری نگر شہر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع ہے۔
ان کے ارادے پختہ تھے کہ وہ خیام ٹائیگرز کرکٹ کلب کی نمائندگی کرتے ہوئے اس فیصلہ کن میچ میں جیت جائیں گے۔
ٹیم کے کپتان کوئی معمولی پلیئر نہیں ہیں۔ وہ اپنی ٹیم کی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
وہ اوپننگ بلے باز ہیں لیکن بولنگ کے اعتبار سے بھی خیام ٹائیگرز ان پر انحصار کرتی ہے۔ وہ بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو کچھ میچ بھی جتوا چکے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ وہ خود ایک دن بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلیں گے۔
میچ سے قبل ایک ٹیم میٹنگ کا احوال بتاتے ہوئے حسین نے بتایا ’جب میں نے پہلی مرتبہ ہر طرف دھند دیکھی تو اپنے دوستوں سے کہا کہ اپنی حریف ٹیم کو بغیر کھیلے فاتح قرار دے دیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
لیکن ان کے ساتھی اوپنر فرحان نے کپتان کو ٹوکتے ہوئے کہا ’ہم نے عید پر اپنے لیے کچھ نہیں خریدا تاکہ ہم ٹورنامنٹ کے لیے نئے پیڈ، بیٹ اور وکٹ کیپنگ گلوورز لے سکیں۔ اب ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہمیں سریز کا یہ آخری میچ کھیلنا ہے جس کا انعام 450 روپے اور (آٹھ ڈالر مالیت کی) ایک نئی گیند ہے۔‘
حسین کہتے ہیں ’ہم نے فرحان کی بات مان لی اور ہماری پوری ٹیم گراؤنڈ کی طرف چل پڑی۔ ہماری فیملی نے ہمیں جانے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن ہم نے انھیں کہا کہ ہم بس آدھا گھنٹہ کھیل کر 12 بجے تک واپس آجائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
میچ شروع ہوا مگر۔۔۔
میچ کے آغاز میں خیام ٹائیگرز نے 10 اوورز میں 101 رنز بنا لیے اور دوسری ٹیم کی باری شروع ہوگئی۔ لیکن دوسری ٹیم نے ابھی صرف تین اوورز کھیل کر محض چھ رنز ہی بنائے تھے کہ میچ اچانک روکنا پڑ گیا۔
افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریعان کا کہنا تھا کہ ’اب لگ رہا ہے کہ دوسری اننگز ممکن نہیں ہو پائے گی کیونکہ کافی دھند ہے، پِچ گیلی ہے اور گراؤنڈ میں پھسلن ہے۔‘
اپنی بیٹنگ چھوڑنا شاید کسی کو پسند نہیں ہوگا۔ لیکن دوسری ٹیم نے ان حالات میں میچ ختم کرنا عقلمندی سمجھا۔ اس طرح یہ میچ بھی بغیر کسی نتیجے کے اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
ٹورنامنٹ کا آخری میچ گرمیوں میں کھیلا گیا تھا اور اب اس کا اگلا میچ اپریل 2020 کے موسم بہار میں کھیلا جا سکے گا کیونکہ بیچ کے مہینوں میں موسم کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔
انڈیا کے زیر اتنظام کشمیر کے کئی نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ اور فٹبال میں انڈیا کی نمائندگی کرنے کے خواہش مند رہے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAdil Hussain
نوجوان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے وادی میں کھیلیوں کے حوالے سے انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔ سیاسی غیر یقینی اور موسم کی کروٹوں کے باوجود یہاں کے نوجوان اپنے شوق سے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
2019 میں تو خیام ٹائیگرز اپنا میچ نہیں کھیل پائی۔ لیکن امید ہے 2020 میں ان کی تیاری اچھی ہوگی اور اس کے ساتھ کرکٹ کے لیے سری نگر کے حالات بھی۔











