’یہ کرکٹ ہے، اسے کشمیر کا مسئلہ نہ بنائیں‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BCCI

،تصویر کا کیپشنمیچ شروع ہونے سے قبل مہندر سنگھ دھونی نے پلوامہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری ٹیم میں کیمو فلاج کیپ تقسیم کیں
    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

جمعے کے روز مہندر سنگھ دھونی کے آبائی شہر رانچی میں انڈیا اور آسٹریلیا ایک روزہ میچ میں مدِ مقابل تھے۔ ویسے تو یہ ایک معمول کا میچ تھا مگر چونکہ دھونی کے آبائی شہر میں ہو رہا تھا اور ورلڈ کپ کے بعد ان کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کے پیشِ نظر یہ ان کا ہوم گراونڈ پہ الوداعی میچ سمجھا جا رہا تھا، سو یہ میچ نہایت خاص ہو گیا۔

یہ میچ اس لیے بھی خاص ہو گیا کہ انڈیا کو پانچ میچز کی سیریز میں پہلے ہی دو صفر کی برتری حاصل تھی۔ دھونی کے ہوم گراونڈ پہ انڈیا یہ میچ جیت جاتا تو دھونی، رانچی اور انڈیا سبھی کے لیے یہ جیت تاریخی حیثیت اختیار کر جاتی۔

مگر انڈین کرکٹ بورڈ اس میچ کو کچھ اور خاص کرنا چاہتا تھا۔ اسے کوئی ایسی تاریخی نشانی بنانا چاہتا تھا کہ یہ میچ کرکٹ گراونڈ کی حدود سے نکل کر خطے کے دو ڈھائی ارب لوگوں کے ذہن و دل پہ چھا جائے۔ یہ حالیہ دنوں کی انڈین سفارتکاری کا سرخیل بن جائے۔ اور کم از کم اقوامِ متحدہ تک اس کی بازگشت سنائی دے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ راہول جوہری کا بادی النظر میں کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان کی خاصیت یہ ہے کہ نہ صرف وہ کمال منتظم ہیں بلکہ اپنے کرئیر کے دوران ڈسکووری چینل، ہندوستان ٹائمز اور ’آج تک‘ جیسے اداروں سے وابستگی کے سبب وہ میڈیا کی نبض پہ ہاتھ رکھنا بھی خوب جانتے ہیں۔

اس سے پیشتر گذشتہ چند دنوں کے پاک انڈیا جنگی جنون میں بھی وہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ جہاں پہلے انہوں نے پاکستان کی ورلڈ کپ میں شمولیت پہ پابندی لگوانے کا شوشہ چھوڑا، پھر اسی موقف میں قدرے نرمی لاتے ہوئے آئی سی سی سے التجا کی کہ تمام ممبرز ’دہشت گرد‘ ممالک سے تعلقات منقطع کریں۔

اب جب کہ چند ہفتے گزرنے کے بعد جنگی جنون کی گرد ذرا چھٹنے لگی تھی اور چند ہی روز پہلے راہول جوہری کے آئی سی سی کو لکھے گئے خط پہ بھی استرداد کی مہر لگ چکی تھی، تو بعید نہیں کہ جوہری نے اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ پلاٹ سیٹ کیا ہو۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس کے لیے موقع کا انتخاب کمال درستی سے کیا گیا۔ اور اس ’تاریخی‘ کام کے لئے دھونی کا انتخاب بھی عین بجا تھا کہ میچ شروع ہونے سے قبل جب پلیئرز سٹریٹیجی بنانے کو اکٹھے ہوتے ہیں، تب بجائے کوئی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے سبھی کے مرکزِ نگاہ مہندر سنگھ دھونی پلوامہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری ٹیم میں کیمو فلاج کیپ تقسیم کر رہے ہوں۔

بی سی سی آئی کی ٹویٹ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی کاوش تھی تا کہ متاثرین کی فیملیز کے لیے عطیات کا بندوبست کیا جا سکے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BCCI

ایک لمحے کو بھارتی کرکٹ بورڈ اور راہول جوہری کی اس ساری کاوش کو نیک نیتی پہ محمول کر بھی لیا جائے تو نہایت بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ شرفا کے کھیل میں ایسے گمبھیر ایشوز کو اس طرح سے اجاگر کرنا کہاں تک درست ہے جو کھیل سے بھی زیادہ توجہ کے متقاضی ہوں۔

شاید یہی نفسیاتی خلجان انڈین پلیئرز کے سر پہ بھی سوار ہوا کہ پہلے دو میچز میں واضح برتری دکھانے والی انڈین ٹیم تیسرے میچ میں شدید مشکلات کا شکار دکھائی دی۔ اور بلیو کیپ میں دو میچز جیتنے والی ٹیم کیمو فلاج کیپ پہن کر شکست کی خفت سے دوچار ہو گئی۔

مگر حسبِ توقع راہول جوہری کا تیر عین نشانے پہ لگا اور اس ’اظہارِ یکجہتی‘ کی کاوش پہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کی جانب سے ’شدید ردِعمل‘ سامنے آ گیا۔ اگرچہ اس ’حرکت‘ کی مذمت کی حد تک تو فواد چوہدری کا موقف بالکل درست تھا مگر ساتھ ہی جو دوسرا جملہ انہوں نے ٹوئٹر پہ رقم کیا، وہ دلیل کے اعتبار سے نہایت ہی بودا تھا کہ ’اگر ایسا ہے تو پھر کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی کشمیریوں کے مظالم کا اظہار کھیل کے میدان میں آ کر کرے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

یہ ٹاک شوز پہ کف اڑانے اور چند تالیاں سمیٹنے والا جملہ تھا جو حسبِ توقع ٹوئٹر پہ پانچ ہزار ری ٹویٹس، اٹھارہ ہزار لائیکس لے گیا۔

راہول جوہری کی الجھن بھی عجیب ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ان پہ جنسی ہراسگی کے جو الزام لگے، ان میں وہ بری تو ہو گئے مگر جس طرح سے اس انکوائری کو برتا گیا، اس پہ جواب ملنے کی بجائے الٹا اور سوالات اٹھے ہیں۔ اس لئے اگرچہ بطور بی سی سی آئی سربراہ جوہری کی کرسی محفوظ ہے مگر عوامی سطح پہ انہیں کافی حد تک ناپسندیدگی کا سامنا بھی ہے۔

ایسے میں پاک انڈیا تعلقات جیسے حساس معاملے میں اپنی طرف داری کا ایسا کھلم کھلا اظہار شاید عوامی سطح پہ ان کی ناپسندیدگی میں کمی کا باعث بھی بن جائے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BCCI

،تصویر کا کیپشنشاید یہی نفسیاتی خلجان انڈین پلئیرز کے سر پہ بھی سوار ہوا کہ پہلے دو میچز میں واضح برتری دکھانے والی انڈین ٹیم تیسرے میچ میں شدید مشکلات کا شکار دکھائی دی اور بلیو کیپ میں دو میچز جیتنے والی ٹیم کیمو فلاج کیپ پہن کر شکست کی خفت سے دوچار ہو گئی

لیکن جناب! یہ کھیل اپنے قد کاٹھ میں ذاتیات، رنگ و نسل، علاقائیت اور قومیت سے کہیں بڑا ہے۔ یہ امن کا پرچارک ہے، یہ تو ہارنے والے کو جیتنے والے سے مصافحہ کرنا سکھاتا ہے۔ اسے خدارا اس کے حال پہ چھوڑ دیں۔

کرکٹ صرف ایک کھیل ہے۔ یہ دو قومی نظریے کی الجھنوں کو نہیں سلجھا سکتا، نہ ہی اسے اوسط درجے کی سفارتکاری کا متبادل بنایا جا سکتا ہے۔ پلیز اسے کشمیر یا فلسطین کا مسئلہ نہ بنائیں۔