پاکستان کی پانچ رنز سے فتح مگر ورلڈ کپ سے باہر: ’سوری سری لنکا، آپ کی صلاحیتوں پر شک کیا‘

Reuters

،تصویر کا ذریعہReuters

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان نے سری لنکا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں پانچ رنز سے شکست دے دی ہے۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں کوالیفائی کرنے کے لیے اس میچ میں سری لنکا کو 65 رنز سے شکست دینا ضروری تھی مگر ایسا مُمکن نہیں ہو سکا اور ایک موقع پر سری لنکا کو 213 رنز کے ہدف حاصل کرنے کے لیے میچ کی آخری دو گیندوں پر صرف چھ رنز کی ضرورت تھی۔

یاد رہے کہ گروپ بی سے انگلینڈ پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے اور آج کے میچ کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔

سری لنکا کی اننگز

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سری لنکا کی ٹیم نے 213 رنز کے ہدف کے تعاقب میں چھ وکٹ پر 207 رنز سکور کیے۔ کپتان شناکا نے 76 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس کے علاوہ پوون رتنائیکے نے 58 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے ابرار احمد نے تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نواز، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی ایک، ایک وکٹ لے سکے۔

پاکستان کی اننگز

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کینڈی میں جاری اس میچ میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

پاکستان کی جانب سے اوپنرز نے اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ وکٹ کے دونوں ہی جانب سے سری لنکن بولرز کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ آج کے اس اہم میچ میں پاکستان کے اوپنرز مکمل طور پر اپی شاندار فارم میں نظر آئے۔

پاکستان نے صاحبزادہ فرحان اور فخرزمان کی دھواں دار اننگز کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 212 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان نے 100 اور فخرزمان نے 84 رنز کی اننگز کھیلی، دونوں کے درمیان 176 رنز کی ریکارڈ شراکت داری ہوئی۔

تاہم ان دونوں کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جم کر سری لنکن بولرز کا سامنا نہیں کر سکا، خواجہ نافع دو، شاداب خان سات، محمد نواز اور سلمان آغا صفر پر آؤٹ ہوئے۔

سنیچر کے روز ہونے والے اس اہم میچ میں بابراعظم، صائم ایوب اور سلمان مرزا کو ڈراپ کر دیا گیا اور ان کی جگہ نسیم شاہ، خواجہ نافع اور ابرار احمد کو شامل کیا گیا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پالیکیلے کے کینڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ہونے والے میچ میں پاکستان نے دو اہم ریکارڈز اپنے نام کیے۔

ان میں سے پہلا ریکارڈ پاکستان کے اوپننگ بلے بازوں نے بنایا اور وہ یہ کہ صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان کے درمیان 176 رنز کی اوپنگ پارٹنرشپ ہوئی۔

کسی بھی ٹیم کے اوپنگ بلے بازوں نے اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کسی میچ میں اتنے رنز کی اننگز نہیں کھیلی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی یہ اعزاز پاکستان کے ہی پاس تھا۔ پاکستان کے ہی اوپنرز محمد رضوان اور بابر اعظم نے سنہ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میں انڈیا کے خلاف میچ میں پہلی وکٹ کی شراکت داری میں 152 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوں صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان نے اپنے ہی سابق ساتھی کھلاڑیوں کا ریکارڈ توڑ کر نیا ریکارڈ بنایا ہے۔

اس کے بعد روز دوسرا ریکارڈ صاحبزادہ فرحان نے بنایا انھوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں دوسری اپنی سنچری بنائی جس کے بعد وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک ہی ایڈیشن میں دو سنچریاں بنانے والے دُنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں۔

صاحبزادہ فرحان نے پانچ چھکوں اور نو چوکوں کی مدد سے 60 گیندوں پر 100 رنز بنائے اور دلشان مادوشنکا کی گیند پر جینتھ لیانگا نے اُن کا کیچ پکڑا۔

’پاکستان کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے کی وجہ مڈل آرڈر تھا‘

x.com

،تصویر کا ذریعہx.com

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے اہم میچ کے دوران سوشل میڈیا پر جہاں پاکستانی کرکٹ فینز صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان کی تعریفیں کرتے نظر آئے تو وہیں انھوں نے پاکستان کے مڈل آرڈر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی کمینٹیٹر زینب عباس نے ایک پر لکھا کہ ’پاکستان کے لیے یہ ایک ضائع شدہ موقع تھا، غلط کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنا اور اہم لمحات میں حکمتِ عملی کی غلطیاں کرنے کی وجہ سے ٹیم کو اس صورتحال میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اس میچ میں واحد مثبت پہلو صاحبزادہ فرحان۔‘

آنارون میتی نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’سوری سری لنکا، آپ کی صلاحیتوں پر شک کیا، سری لنکا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘

کھیلوں کی تجزیہ کار اور کمینٹیٹر لینا عزیز نے ایکس پر لکھا کہ 'ایک بار تو اس سبز پاکستانی جرسی کی عزت کا خیال کریں اور درست پلیئنگ الیون منتخب کریں!'

لینا کی ہی طرح عبدالغفار نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ 'اس مڈل آرڈر کو پہلے فرحان اور فخر سے معافی مانگنی چاہیے اور اس کے بعد انھیں ہمیشہ کے لیے ٹیم سے ڈراپ کر دینا چاہیے۔'

مظہر ارشد نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’یہ مسلسل چوتھا آئی سی سی ٹورنامنٹ ہے جس میں پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا، ورلڈ کپ 2023، ٹی 20 ورلڈ کپ 2024، چیمپئنز ٹرافی 2025 اور ٹی 20 ورلڈ کپ 2026۔‘