دولتِ اسلامیہ کی ویڈیو میں نمرود کی تباہی

،تصویر کا ذریعہAFP
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اس کے جنگجو عراق کے قدیم شہر نمرود کو تباہ کر رہے ہیں۔
ان تصاویر سے مارچ میں آنے والی ان رپورٹوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جہادیوں نے عراقی آثار قدیمہ کے اہم ترین شہر نمرود میں تباہی کی ہے۔
اس ویڈیو میں دِکھایا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اس قدیم تاریخی شہر میں بلڈوزر اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا ہے۔
دولت اسلامیہ نے نمرود اور عراق کے دوسرے قدیمی شہروں کو ’جھوٹے معبود‘ کے خلاف اپنی جنگ کے تحت نشانہ بنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مارچ میں عراق کی وزارتِ سیاحت نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ نے اسیریائی باقیات کو تباہ کرنے کے لیے بھاری مشینوں کا استعمال کیا ہے۔
نمرود کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کا قیام 13ویں صدی قبل مسیح میں عمل میں لایا گیا ہوگا۔ یہ شہر موصل کے جنوب مشرق میں تقریبا 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے موصل اور اس کے نواحی علاقے پر گذشتہ سال جون سے قبضہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ویڈیو میں یہ نظر آ رہا ہے کہ جنگجو نے وہاں موجود پتھر کے فن پاروں کو کاٹنے اور مسمار کرنے کے لیے طاقتور مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے دھماکہ خیز مادے کے ذریعے اسے اڑا دیا ہے تاکہ وہاں موجود تمام چیزیں زمیں بوس ہو جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نمرود کے بہت سے خزانے غیر ملکی عجائب خانوں میں ہیں لیکن ’لاماسو‘ کی کئی بڑی مورتیاں وہاں ہیں جن میں انسانی سروں کے ساتھ پروں والے درندوں کی عکاس کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہALAMY
جس علاقے پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے وہاں ملک کے 12 ہزار آثار قدیمہ کے مقامات میں سے 1800 تاریخی مقامات ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دولتِ اسلامیہ نے موصل کی لائبریری کو نذر آتش کردیا ہے جہاں 8000 سے زیادہ قدیمی نسخے محفوظ تھے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے مارچ کے اوائل میں عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں آثارِ قدیمہ میں شمار ہونے والے تاریخی شہر نمرود کی تباہی کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔
دولتِ اسلامیہ نے کچھ عرصہ قبل موصل کے عجائب گھر میں موجود آثارِ قدیمہ خصوصاً انمول مجسموں کی تباہی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔







