’دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں حضر کے آثار قدیمہ کی تباہی کا آغاز‘

حضر وہ شہر ہے جو رومیوں کے حملے کے بعد بھی باقی رہا مگر دولتِ اسلامیہ اسے تہس نہس کرنے پر تلی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحضر وہ شہر ہے جو رومیوں کے حملے کے بعد بھی باقی رہا مگر دولتِ اسلامیہ اسے تہس نہس کرنے پر تلی ہے

شمالی عراق میں موجود کرد ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیم قدیم شہر نمرود کے بعد اب اس کے قریب واقع حضر نامی شہر کو تباہ کر رہی ہے۔

طویل قامت دیواروں کے ساتھ حضر شہر کو قدیم یونانی دور میں آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے آباد کیا گیا تھا۔

اسے اس دور کے عمدہ شہروں کی فہرست میں بطور مثال شمار کیا جاتا ہے۔

ایک روز قبل ہی آثارِ قدیمہ میں شمار ہونے والے تاریخی شہر نمرود کو تباہ کیا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نےدولتِ اسلامیہ کے اس اقدام کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

نمرود کے کھنڈرات کا شمار عراق کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں ہوتا ہے۔

نمرود نامی شہر 13ویں صدی قبل مسیح میں موصل کے نزدیک دریائے دجلہ کے کنارے بسایا گیا تھا۔

عراقی آثارِ قدیمہ کے ماہر لامیہ الگیلانی کا کہنا ہے کہ ’وہ ہماری تاریخ مٹا رہے ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ نے کچھ عرصہ قبل موصل کے عجائب گھر میں موجود آثارِ قدیمہ خصوصاً انمول مجسموں کی تباہی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

اس ویڈیو میں سیاہ عبا پہنے ایک شخص کو دکھایا گیا جو مجسموں کو دھکیلتا ہے اور پھر بھاری ہتھوڑوں اور سوراخ کرنے والی مشینوں سے انھیں تباہ کرتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس سے قبل موصل کے عجائب خانے میں موجود انمول مجسموں کی تباہی کی ویڈیو جاری کی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ نے اس سے قبل موصل کے عجائب خانے میں موجود انمول مجسموں کی تباہی کی ویڈیو جاری کی تھی

دولتِ اسلامیہ کی اس ویڈیو میں عراق میں آثارِ قدیمہ کے مقام بابِ نرغال پر بھی مجسموں کی تباہی دکھائی گئی ہے۔

اسی ویڈیو میں ایک جنگجو مذہبی طور پر ان مجسموں کی تباہی کا جواز دینے کے لیے یہ وضاحت پیش کرتا ہے کہ سنگ تراشی کا یہ غلط تصور ہے۔

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جون 2014 میں عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ اس وقت عراق میں موجود آثارقدیمہ کے 12 ہزار رجسٹرڈ مقامات میں سے 1800 کے قریب پر قابض ہے۔