پیلمائرا کا تاریخی ورثہ دولتِ اسلامیہ کے رحم و کرم پر

پہلی صدی قبل از مسیح میں وجود میں پیلمائرا شہر اس شہر نے رومن دور میں ترقی کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپہلی صدی قبل از مسیح میں وجود میں پیلمائرا شہر اس شہر نے رومن دور میں ترقی کی

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجو تاریخی شہر پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس کے نواح میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات پر بھی قابض ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند انھیں تباہ و برباد کر سکتے ہیں۔

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے ایک اہلکار نے امریکی سربراہی میں دولت اسلامیہ کے خلاف مغربی ممالک کے اتحاد سے کہا ہے کہ وہ اس تاریخی ورثے کو شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانے کے لیے کارروائی کریں۔

یونیسکو کا کہنا ہے کہ ان تاریخی باقیات کی تباہی ’انسانیت کے لیے بڑا بہت نقصان ہوگا۔‘ تاہم تاحال ان آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچائے جانے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ ماضی میں عراق میں نمرود اور حضر کے تاریخی ورثے کو تباہ و برباد کر چکی ہے۔

شام کی حکومتی افواج نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشام کی حکومتی افواج نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے ساری دنیا کی توجہ پیلمائراکے ثقافتی ورثے پر مرکوز ہونے کی وجہ سے شدت پسند شاید پہلی فرصت میں ہی اس قیمتی تاریخی ورثے کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

پیلمائراکے تاریخی کھنڈرات اس اہم فوجی راستے پر واقع ہیں جو دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیرالزور کو جاتا ہے۔ پیلمائرا کے قریب تیل اور گیس کی تنصبات بھی ہیں جن کی مدد سے شامی حکومت علاقے کے لیے بجلی پیدا کرتی ہے۔

پیلمائرا کے قدیم شہر کو مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ پہلی صدی قبل از مسیح میں وجود میں آنے والے اس شہر نے رومن دور میں ترقی کی اور پھر پیلمائرا کے باسیوں نے رومن سلطنت کو شکست دے کر اپنی سلطنت قائم کی جس کی سرحدیں ترکی سے مصر تک پھیلی ہوئی تھیں۔

یہ ساری دنیا کی جنگ ہے: شامی اہلکار مامون عبدالکریم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ ساری دنیا کی جنگ ہے: شامی اہلکار مامون عبدالکریم

پیلمائرا کا شہر مشرق وسطیٰ کی اہم تجارتی راہداری کے طور پر مشہور تھا جس کی وجہ سے اسے’ریگستان کا وینس‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ابھی تک پیلمائرا کے ایک چھوٹے حصے کی کھدائی ہوئی ہے اور اب بھی بیش بہا آثار قدیمہ زیرِ زمین ہیں اور ان کی باآسانی کھدائی کر کے انھیں لوٹا جا سکتا ہے۔

اگر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پیلمائرا کے تاریخی ورثے کو تباہ کر دیا تو مشرق وسطیٰ کا ایک اور ثقافتی ورثہ خطے میں جاری جنگ کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔

پیلمائرا کے نوادرات کو ’ریگستان کی دلہن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پیلمائرا کی تاریخی عمارتیں دوسری صدی عیسوی میں تعمیر ہوئیں اور وہ یونانی، ایرانی اور رومن فن تعمیر کا امتزاج ہیں۔