’دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا میں بارودی سرنگیں بچھا دیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں جاری خانہ جنگی پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پیلمائرا کے مشہور کھنڈرات کے گرد بارودی سرنگیں اور گولہ بارود نصب کر دیا ہے۔
سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس سے منسلک کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ آیا دولت اسلامیہ نے یہ بارودی سرنگیں ان تاریخی کھنڈرات کو تباہ کرنے کے لیے بچھائی ہیں یا انھیں شامی فوجوں سے بچانے کی غرض سے لگایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پیلمائرا کے کھنڈرات پر رواں سال مئی میں قبضہ کر کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق سرکاری فوجیں ان مقامات سے دولت اسلامیہ کا قبضہ چھڑانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے رامی عبدالرحمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ شہر کے باہر موجود شامی فوجیوں نے گذشتہ دنوں مزید کمک طلب کر لی ہے جس سے ’ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین دنوں کے دوران حکومتی فورسز نے پیلمائرا کے رہائشی علاقوں پر بھی فضائی بمباری کی ہے جس میں کم از کم گیارہ افراد مارے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سیرئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم برطانیہ میں قائم ہے جو شام سے معلومات کے لیے اپنے ذرائع اور کارکنوں پر انحصار کرتی ہے۔
دولت اسلامیہ نے پیلمائرا پر گذشتہ ماہ قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ رومیوں کے دور کے دو ہزار سال پرانے کھنڈرات کو تباہ کر دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب شام میں نوادرات اور تاریخی کھنڈرات کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ مامون عبدالکریم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ انھیں بھی اس بات میں سچائی نظر آتی ہے کہ دولت اسلامیہ نے کھنڈرات کے گرد بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کے بقول پیلمائرا شہر ’دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اغوا ہو چکا ہے اور یہاں صورتحال خطرناک ہو چکی ہے۔‘
مئی میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے یہاں کے فوجی ہوائی اڈّے اور قریب میں واقع ایک بدنام زمانہ جیل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق کے بہت سے تاریخی مقامات کو تباہ کر دیا ہے جن میں نمرود کا قدیمی شہر بھی شامل ہے جسے عراق کے آثار قدیمہ کے بڑے خزانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ جنگوں میں ثقافتی ورثے کو بچانے کے ایک اہم بین الاقوامی معاہدے کی بالآخر توثیق کرنے جا رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ ثقافت جان وہیٹنگڈیل کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کے ہاتھوں شام اور عراق میں ثقافتی ورثوں کی تباہی کے پیش نظر اب اس کی توثیق ضروری ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ دنیا کے اہم ممالک میں واحد ملک ہے جس نے ہیگ کنوینشن کی توثیق نہیں کی تھی۔







