شام میں النصرہ کے ہاتھوں 20 دروز شہری ہلاک

النصرہ ایک ایسے باغی اتحاد کا حصہ ہے جس نے گذشتہ تین ماہ میں ادلیب کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالنصرہ ایک ایسے باغی اتحاد کا حصہ ہے جس نے گذشتہ تین ماہ میں ادلیب کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے

اطلاعات کے مطابق شمال مغربی شام میں القاعدہ سے منسلک تنظیم النصرہ فرنٹ نے دروز فرقے کے کم از کم 20 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ بدھ کی دوپہر ادلب صوبے کے دیہات قلب لوزہ میں مارے گئے افراد میں بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں۔

دروز عقیدے میں ابراہیمی مذاہب کے مختلف عناصر پائے جاتے ہیں اور جہادی تنظیم انھیں مشرک تصور کرتی ہیں۔

تاہم النصرہ کے سربراہ نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کی تنظیم ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی جو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔

النصرہ ایک ایسے باغی اتحاد کا حصہ ہے جس نے گذشتہ تین ماہ میں ادلب کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور اس صوبائی دارالحکومت سے حکومتی فوج کو باہر نکال دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بدھ ہونے والے اس واقعے کی وجہ تیونس سے تعلق رکھنے والے النصرہ کے ایک رہنما کی جانب سے ایک دروز شخص کے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی۔ یہ دروز شخص شامی حکومت کا حامی بتایا جاتا ہے۔

تنظیم کے مطابق گھر کے مالک کے رشتے داروں نے کمانڈر کو گھر پر قبضہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو تنازع اٹھ کھڑا ہو گیا اور ایک دیہاتی شخص کو گولی لگ گئی جس کے جواب میں دروز افراد نے ایک جہادی کو ہلاک کر دیا۔ تنظیم کے مطابق کمانڈر نے کمک بلا کر 20 دورز افراد مار ڈالا۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ النصرہ فرنٹ کے کمانڈر نے دروز افراد کو کفار ہونے کا الزام لگانے کے بعد قتل عام کا حکم جاری کیا تاہم ان کے ساتھی گروہوں نے مداخلت کر کے فساد روک دیا۔

مغربی حمایت یافتہ سب سے بڑے گروپ نیشنل کولیشن نے واقعے کی مذمت کی ہے اور ان کے مطابق اس میں درجنوں دروز ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر شامی ریاستی خبر رساں ایجنسی سانا نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔

ادھر لبنان میں دروز برادری کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ حالات کو پرسکون کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔