کیا دولتِ اسلامیہ حلب پر بھی قبضہ کر لے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP
شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے شمال میں حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان جاری شدید لڑائی سے یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ حلب پر قبضہ کر سکتی ہے۔
اس کے قریب واقع صوبہ ادلب سے فوجوں کو نکالنے کے بعد باغیوں کے نئے اتحاد جیش النصرہ کی توجہ اب حلب پر مرکوز ہے۔
ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر حلب ایک قدیم تجارتی مرکز ہے اور گذشتہ تین سال سے یہ میدان جنگ بنا ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجو شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ شامی حزب اختلاف اور امریکہ نے شامی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت مخالف باغیوں پر فضائی بمباری کر کے جہادیوں کی مدد کر رہی ہے، بالخصوص حلب کے شمال میں واقع مارع شہر میں۔
امریکہ نے شامی حکومت پر ’(دولت اسلامیہ) کو نظر انداز‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو شام کے اس کے خلاف لڑنے کے دعوے کے برعکس ہے۔
امریکہ کی قیادت میں جنگی اتحاد عراق اور شمالی شام کے شہر رقہ میں کارروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جہاں دولت اسلامیہ نے اپنا ہیڈکوارٹر قائم کیا ہوا ہے۔
گذشتہ ماہ شامی حکومتی فوج اور جنگی اتحاد دولت اسلامیہ کے سینکڑوں جنگجوؤں کو قدیم شہر پیلمائرا میں قبضے کی غرض سے داخل ہونے سے روک نہیں سکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت اور دولت اسلامیہ کے مابین جھڑپیں ہوتی رہی ہیں تاہم شامی حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ کو پیلمائرا پر قبضہ کرنے دیا اور ٹنوں اسلحہ شہر میں چھوڑ دیا جسے اب یہ شدت پسند تنظیم استعمال کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب یہ خدشہ ہے کہ ایسے ہی حالات حلب میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہر کا مغرب سرکاری فوج، جب کہ مشرقی حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔
شہر کے جنوبی علاقے بھی حکومت کے زیرانتظام ہیں جبکہ مشرق کی جانب دولت اسلامیہ کا قبضہ رقہ صوبے اور تیل سے مالا مال شہر دیرالزور تک پھیلا ہوا ہے۔
حلب کے مغرب میں فوج اور باغیوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، جہاں حکومت مخالف جنگجو نبل اور زہرہ کے حکومتی حمایت یافتہ شہروں کے گھیرے میں ہیں۔
اب توجہ کا مرکز شمالی علاقہ ہے، جو حلب میں باغیوں کی اہم سپلائی لائن ہے، اور جہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اگر شدت پسند کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ترکی کے ساتھ اہم سرحدی راستے باب السلام کا کنٹرول حاصل کر لیں گے جو اس کے لیے فنڈنگ کا ایک اور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے دولت اسلامیہ ترکی کے مزید قریب پہنچ جائے گی، جس پر بشارالاسد کی حکومت دولت اسلامیہ کو مدد فراہم کا الزام عائد کرتی ہے۔ تاہم ترکی اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
دوسری جانب جیش النصرہ کا کہنا ہے کہ وہ حلب دفاع کے لیے تیار ہیں اور دولت اسلامیہ اور حکومت سے اس کو محفوظ رکھیں گے۔ لیکن لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
صدر بشارالاسد کا شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے شروع ہوتے وقت سے ہی یہ کہنا ہے کہ شام میں تبدیلی کا کوئی مطالبہ نہیں، اور انھوں نے مسلح جدوجہد کو تسلسل سے ایسی ’دہشت گرد‘ سنی انتہاپسند تحریک کے طور پر بیان کیا ہے جس کے خلاف لڑنا چاہیے۔
سنہ 2013 میں جب رقہ میں پہلی بار دولت اسلامیہ سامنے آئی تھی تو حکومت نے ان کے خلاف بمشکل کوئی کارروائی کی جس کی وجہ سے اس شدت پسند تنظیم کو پھیلنے میں مدد ملی۔
دوسری جانب شام میں تمام مخالف تنظیموں کے خلاف بیرل بمباری اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کا نشانہ اکثر و بیشتر عام شہری بنتے ہیں۔
صدر بشارالاسد مغرب کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو ان کا متبادل صرف دولت اسلامیہ جیسی کوئی شدت پسند تنظیم ہو گی۔
شمالی شام کی صورت حال اور ادلب اور پیلمائرا سے انخلا کے بعد ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شامی صدر شام کو شاید دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، جس میں دمشق اور مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے حکومت کے زیرانتظام اور شمالی علاقے جہادیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
لیکن اسی دوران حکومت کو باغیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کا بھی سامنا ہے۔ وہ ملک میں اپنے حامیوں اور بین الاقوامی اتحادیوں کو ادلب کے ہاتھ سے نکل جانے کی کوئی توجیح پیش نہیں کر سکتا، بالخصوص ایران کو، جو مدد کے لیے فوجیں اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
جیسے جیسے باغی حکومتی گڑھ اور ساحلی شہر ذقیہ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تہران بشارالاسد کی فوجوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے حال ہی میں ذقیہ شہر کا دورہ کیا ہے، جہاں ان کا کہنا تھا: ’ہم اور شام کی فوجی قیادت آئندہ آنے والے دنوں میں جو اقدامات کرنے جارہے ہیں اس سے دنیا حیران رہ جائے گی۔‘
شامی حمایت یافتہ لبنانی اخبار اسفر کا کہنا ہے کہ حلب کے دفاع کے لیے تقریبا 20 ہزار ایرانی اور عراقی جنگجو شام پہنچ چکے ہیں۔
جنگجوؤں کا شام پہنچنا اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ حکومت کس قدر کمزور ہو چکی ہے اور اب کس طرح حکمت عملی بیرون ملک ترتیب دی جا رہی ہے۔







