شامی باغیوں کا ’صوبہ ادلب کے شہر اریحا پر قبضہ‘

،تصویر کا ذریعہReuters
مبصرین کے مطابق شام میں القاعدہ منسلک النصرہ فرنٹ سمیت شدت پسند گروہوں کے اتحاد نے صوبہ ادلب میں آخری حکومتی گڑھ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے جیش الفتح نے اریحا شہر پر ’برق رفتاری سے ہلہ بول کر‘ قبضہ قائم کر لیا ہے۔
تاہم شامی فوج کا کہنا ہے وہاں اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔
اریحا میں شکست کے بعد ترکی کی سرحد کے ساتھ بیشتر علاقہ باغیوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔
مارچ سے اب تک باغیوں نے صوبے کے متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا ہے جن میں ادلب اور جسر الشغور بھی شامل ہیں۔
ترکی کا سرحدی علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ صوبہ الذقیہ کے قریب بھی ہے، جو صدر بشار الاسد اور شامی حکومت کا گڑھ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب النصرہ فرنٹ کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سربرہ ایمن الزواہری نے حکم دیا تھا کہ مغرب کو نشانہ بنانے کے لیے شام کی سرزمین کو استعمال نہ کیا جائے۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ابو محمد جلانی کا کہنا تھا کہ النصرہ فرنٹ کی توجہ دمشق پر قبضہ کرنا اور صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کی سب ایک گھنٹے کی دورانیے پر مشتمل یہ انٹرویو 2013 میں دولت اسلامیہ سے النصرہ کے علیحدگی کے بعد الجزیرہ کے ساتھ ان کا دوسرا انٹرویو تھا۔
انھوں نے شامی فوجوں کے ساتھ لیبان کے شیعہ گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا صرف ایک مقصد ہے، حکومت اور اس کے ایجنٹوں کے ساتھ لڑنا جن میں حزب اللہ اور دیگر بھی شامل ہیں۔‘







