شام میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں نیلے رنگ کے ہیلی کاپٹر کو تباہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم آزاد ذرائع سے ان تصاویر کے تصدیق نہیں ہو سکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں نیلے رنگ کے ہیلی کاپٹر کو تباہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم آزاد ذرائع سے ان تصاویر کے تصدیق نہیں ہو سکی

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو باغیوں کے زیرانتظام شمال مغربی علاقے میں شامی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

سیرین آبرویرٹری فار ہیومن رائیٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر حزب اختلاف کے جنگجوؤں اور النصرہ فرنٹ کے زیرانتظام صوبہ ادلب کے علاقے جبل الزاویہ میں گرکر تباہ ہوا۔

شام کے اس مبصرگروپ کے مطابق ہیلی کاپٹر کے عملے کے چار اراکان کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے۔

شام میں چار سال پہلے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ شامی افراد ہلاک اور ایک کروڑ دس لاکھ نقل مکانی کر چکے ہیں۔

سیرین آبرویرٹری فار ہیومن رائیٹس کے مطابق شمالی شہر معرت النعمان میں ہیلی کاپٹر کو ‘تکنیکی خرابی کی بنا پر ایمرجنسی لینڈنگ‘ کرنا پڑی تھی۔

مبصر گروپ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کم از کم چھ افراد سوار تھے اور عملے کے چھٹے رکن کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے شمال مغربی علاقے میں ہنگامی لینڈنگ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ عملے کے اراکین کی تلاش جاری ہے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں نیلے رنگ کے ہیلی کاپٹر کو چٹانوں کے درمیان تباہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شامی حکومت پر اقوام متحدہ کی سکیوٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سینکڑوں مقامات پر بیرل بم گرانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

تاہم فروری میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر بشارالاسد نے بیرل بموں کے استعمال کی تردید کی تھی۔