شام جانے والے تین برطانوی نوجوان ترکی میں گرفتار

لندن سے تعلق رکھنے والے تینوں افراد کو استنبول سے گرفتار کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلندن سے تعلق رکھنے والے تینوں افراد کو استنبول سے گرفتار کیا گیا

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر شام جانے والے تین برطانوی نوجوانوں کو ترک حکام نےگرفتار کرلیا ہے۔

شمال مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ دو نوجوانوں اور ایک 19 سالہ شخص کو استنبول سے گرفتار کیا گیا ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق یہ نوجوان جمعے سے لاپتہ تھے اور برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے ترکی کے حکام کو اس بارے میں باخبر کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ان کی خاندانوں کو اس پیش رفت سے آگاہ رکھا گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کو ابتدا میں باخبر کیا گیا تھا کہ 17،17 سال کے دو نوجوان لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ شام جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پولیس کے مطابق تفتیش سے یہ امر سامنے آیا کہ دونوں نوجوانوں نے ایک اور شخص کے ساتھ سفر کیا تھا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’اہلکاروں نے ترک حکام کو باخبر کیا اور انھوں نے ان تینوں کو شام جانے سے روک لیا۔ وہ ترکی میں زیرحراست ہیں۔‘

 (دائیں سے بائیں) شمیمہ بیگم، عامرہ عباسی اور خدیجہ سلطانہ فروری میں برطانیہ سے ترکی کے راستے شام کے لیے روانہ ہوئیں

،تصویر کا ذریعہMET POLICE

،تصویر کا کیپشن (دائیں سے بائیں) شمیمہ بیگم، عامرہ عباسی اور خدیجہ سلطانہ فروری میں برطانیہ سے ترکی کے راستے شام کے لیے روانہ ہوئیں

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈی مور کے مطابق یہ واقعہ برطانوی پولیس اور ترک حکام کے درمیان لندن سے تین طالبات کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں ’جوابی الزام تراشی‘ کے بعد پیش آیا ہے۔

15 سالہ شمیمہ بیگم، 16 سالہ خدیجہ سلطانہ اور 15 سالہ عامرہ عباسی گذشتہ ماہ لندن سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں اور ان کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان کا ارادہ شام میں دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنا تھا۔

ان طالبات کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے ترکی کے نائب وزیراعظم نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے حکام کو ان طالبات کی گمشدگی کے بارے میں ضرورت کے مطابق مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ’اس بار ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برطانیہ میں خبردار کیے جانے کے بعد ترکی کو بروقت مطلع کیا گیا۔‘