برطانوی ڈاکٹروں کے شام چلے جانے کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے نو ڈاکٹروں اور میڈیکل کے طالب علموں کے بارے میں خدشات ظاہرے کیے جارہے ہیں کہ وہ شام میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں میں طبی کام کرنے کے لیے چلے گئے ہیں۔
ان نوجوان ڈاکٹروں اور میڈیکل کے طالب علموں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ تمام کے تمام سوڈان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
طلبہ اور ڈاکٹروں کی تلاش میں ترکی اور شام کی سرحد پر پہنچنے والے ان کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے عزیزوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ برطانوی شہری تقریباً ایک ہفتہ قبل شام میں داخل ہوئے۔
ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شام جانے والے کچھ نوجوانوں نے اپنے والدین کو پیغامات بھیجے تھے کہ وہ رضاکارانہ طور پر شام میں فلاحی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق شام جانے والے تمام نوجوان سوڈانی نژاد برطانوی شہری ہیں اور ان کے خاندان والے ان کی تلاش میں شام کی سرحد کے قریب واقع گازینٹیپ نامی ترک شہر پہنچے ہیں۔
ایک طالبعلم کے والد کا کہنا ہے کہ ان کو برطانوی اور ترک حکام سے مناسب مدد نہیں مل رہی اور ان کی سمجھ سے یہ بالا تر ہے کہ ترکی نے کیسے ان افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی۔
دوسری جانب برطانیہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے متاثرہ خاندانوں کو سفارتی مدد مہیا کی ہے اور ترک پولیس سے کہا ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں پتا چلایا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال کیا جا رہا ہے کہ نو برطانوی شہریوں کے ساتھ دو اور سواڈانی ڈاکٹر جن میں سے ایک امریکی اور ایک کینیڈین شہری ہیں بھی شام گئے ہیں۔







