شام: ادلب شہر پر باغیوں کا قبضہ

،تصویر کا ذریعہReuters
شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار اسلامی گروہوں نے شمال مغربی شہر ادلب پر قبضہ کر لیا ہے۔
شام کے حالات پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزویٹری فار ہومین رائٹس کے مطابق احرار الشام، جند الاقصی اور القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ نے کئی دنوں کی شدید لڑائی کے بعد شمالی مغربی شہر ادلب پر سنیچر کے روز قبضہ کر لیا ہے۔
ادلب صوبے کا دوسرا شہر ہے جو شدت پسندوں کے قبضہ میں آیا ہے۔ اس سے قبل دولت اسلامیہ نامی شدت پسند گروہ نے رقہ پر قبضہ کر کے اسے اپنا مرکز بنا رکھا ہے۔
شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام کے ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔
شام کے سرکاری ٹیلویژن نے ابھی تک شہر کا قبضہ حکومتی افواج سے نکل جانے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ شہر کی پرانی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔ ادلب کی آبادی ایک لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
ادلب دمشق اور حلب کو ملانے والی اہم شاہراہ کے قریب واقع ہے۔ ادلب صدر بشار الاسد کی حمایت کےگڑھ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے۔
احرار الشام اور نصرا فرنٹ کے حامیوں نے شہر پر قبضے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کی ہیں۔یہ ایک ہفتے میں دوسرا شہر ہے جو شدت پسند باغیوں کے قبضے میں آیا ہے۔ رواں ہفتے باغیوں نے دیرا صوبے میں بسرا شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔
سنیچر کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ وہ شام میں جاری خانہ جنگی کو بند نہ کرا پانے پر شرمندہ اور غصے میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں سیکریٹری جنرل نے شام میں جنگ بندی کےلیے سفارتی کاروائیاں کو بڑھانے کیا وعدہ کیا ہے۔







