شامی فوج کی ادلب کو باغیوں سے چھڑوانے کی تیاری

ادلب پر باغیوں کے قبضے کو حکومتی افواج کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنادلب پر باغیوں کے قبضے کو حکومتی افواج کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے

شام میں حکومتی افواج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے شمال مغربی شہر ادلب کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار لینا سنجاب کا کہنا ہے کہ شامی فوج اس کارروائی کے لیے اتوار کو ادلب کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ شہر کی پرانی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار اسلامی گروہوں نے سنیچر کو صوبائی دارالحکومت ادلب پر قبضہ کیا تھا۔

شہر پر قابض ہونے والے گروپوں میں احرار الشام، جند الاقصی اور القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ شامل ہیں۔

شہر پر قابض ہونے والے گروپوں میں القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشہر پر قابض ہونے والے گروپوں میں القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ بھی شامل ہے

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں جنگجوؤں کو ادلب میں سابق صدر حافظ الاسد کے مجسمے کو تباہ کرتے اور ان کے بیٹے اور موجود صدر بشار الاسد کے پوسٹرز پھاڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ادلب کی آبادی ایک لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے اور یہ شام میں دوسرا صوبائی دارالحکومت ہے جو شدت پسندوں کے قبضہ میں آیا ہے۔ اس سے قبل دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رقہ پر قبضہ کر کے اسے اپنا مرکز بنا رکھا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق کہ اگرچہ ادلب پر قبضے کی کارروائی میں تو دولتِ اسلامیہ شامل نہیں تھی تاہم خدشہ ہے کہ اب وہ اس شہر پر قبضہ کر سکتی ہے۔

شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک اور ایک کروڑ سے زیادہ پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔

ادلب صدر بشار الاسد کے حمایتیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے لاذقیہ کے قریب دمشق اور حلب کو ملانے والی اہم شاہراہ پر واقع ہے۔