شام: ادلب پر باغیوں کا حملہ، ہلاکتوں کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور دیگر باغی گروہوں نے حکومت کے زیرِ قبضہ شہر ادلب پر حملہ کر دیا اور مختصر وقت کے لیے متعدد سرکاری عمارتوں پر قابض رہے۔
شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت سے برسر پیکار النصرۃ فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے حکومت کے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کر کے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔
سنہ 2012 میں باغیوں کے مختصر کنٹرول کے بعد سے ملک کے شمال مغربی شہر ادلب پر حکومت کا کنٹرول قائم ہے۔
شام میں جاری خانہ جنگی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب بظاہر دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو میں انھوں نے شام کے شہر کوبانی سے اغوا کیے جانے والے برطانوی صحافی جان کینٹلی کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ویڈیو میں کینٹلی گذشتہ دو ہفتوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہیں جن میں کرد جنگجوؤں کے لیے امریکی طیاروں سے اسلحے گرائے جانے کی بات بھی شامل ہے۔
ترکی کی سرحد کے قریب کوبانی میں شدید جنگ جاری ہے اور امریکہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے متعلق شام کی آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ ادلب پر پیر کی صبح حملہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باغیوں نے چوکیوں پر حملہ کر دیا اور تھوڑی دیر کے لیے گورنر کے دفتر اور پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا، لیکن بعد میں انھیں نکال باہر کر دیا گیا۔
ایس او ایچ آر نے ایک رضاکار کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ ترحملے شہر کے جنوبی حصے مستومہ پہاڑی کے قریب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
باغیوں نے مبینہ طور پر پہاڑی پر قبضہ کر لیا جس کے بعد شامی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جوابی حملہ کیا جس میں درجنوں باغیوں اور فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔
اگرچہ ادلب صوبے کا زیادہ تر حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے تاہم ادلب نامی شہر ابھی تک صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔
بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ النصرۃ فرنٹ جنوبی شام کے شمال مغربی علاقوں میں رفتہ رفتہ قدم جما رہا ہے جبکہ دنیا کی توجہ کا مرکز دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فضائی حملہ ہے۔







