’جنگی ساز و سامان پر قبضے کی ویڈیو کی تحقیقات‘

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی اس ویڈیو کا جائزہ لے رہا ہے جس میں شام کے اہم شہر کوبانی میں کرد جنگجوؤں کے لیے گرائے جانے والے امریکی ہتھیار شدت پسندوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔
پیر کو امریکی جنگی طیاروں نے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں کے لیے اسلحہ، گولہ بارود اور طبی سازو سامان گرایا تھا۔
پینٹاگون کے ایک ترجمان کے مطابق کوبانی میں گرائے جانے والے 27 بنڈل صحیح ہاتھوں میں گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق کوبانی کے زیادہ تر حصے پر کرد فورسز کا کنٹرول ہے تاہم دولتِ اسلامیہ شہر کے لیے اب بھی ایک خطرہ ہے۔
دولت اسلامیہ کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے گرائے جانے والے ہتھیار اس کے قبضے میں ہیں۔ برطانیہ سے حقوق انسانی کی لیے کام کرنے والی ایک شامی تنظیم نے بھی کہا ہے کہ شدت پسندوں نے ایک رسد پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم پینٹاگون کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی کے مطابق وہ ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
پیر کو ہی کوبانی میں دو دنوں کے نسبتاً سکون کے بعد دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے شہر پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا تھا اور اس دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، لیکن ریئر ایڈمرل جان کربی کے مطابق امریکی قیادت میں فضائی حملوں اور کرد فورسز کی کوششوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کو شہر پر قبضے سے دور رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ویڈیو جاری ہونے سے ایک دن پہلے ترکی نے کرد جنگجوؤں کو سرحد پر کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق سی 130 سامان بردار طیارے نے کئی بار کوبانی میں جنگی ساز و سامان گرایا۔
اس سے قبل امریکی فضائی حملوں نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ترکی کی سرحد سے ملحق کوبانی شہر پر کنٹرول حاصل کرنے سے باز رکھا تھا۔
دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے خطے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور کوبانی پر کنٹرول حاصل کرنا ان کی عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس شہر میں کئی ہفتوں سے شدید جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر شہری ترک وطن پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کوبانی میں امریکی فضائیہ نے اب تک 135 بار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔







