شام کے شہر کوبانی پر کنٹرول کے لیے شدید لڑائی

،تصویر کا ذریعہAP
شام کے شمالی شہر کوبانی میں دو دنوں کے نسبتاً پرسکون ماحول کے بعد ایک بار پھر سے شدید جنگ چھڑ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرد جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو اس شہر اور اس علاقے پر قبضے کے لیے کئی ہفتوں سے کوشاں ہیں۔
دریں اثنا امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے کوبانی شہر کے اطراف میں اتوار اور پیر کے درمیان چھ بار فضائی حملے کیے۔
ترکی کی سرحد سے ملحق شام کے شہر کوبانی پر کنٹرول حاصل کرنا دولت اسلامیہ کے اہداف میں بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر قبضے کی جنگ کے نتیجے میں زیادہ تر شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
تازہ لڑائی اس وقت چھڑ گئی جب ترکی نے کہا کہ وہ عراق کے کرد فوجی پیشمرگ کو سرحد عبور کرکے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کی اجازت دیں گے۔
ترکی کی سرحد پر موجود بی بی سی کی نمائندہ کسری ناجی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کوبانی شہر کا دفاع کرنے والوں کے ’حوصلے بلند‘ ہوئے ہیں اور ان کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
عراق کے کرد علاقوں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام کے لیے اپنی فوج بھیجنے کو تیار ہیں لیکن انھیں ابھی کوئی حکم نہیں ملا ہے۔
یاد رہے کہ ترکی کو اپنے ہی کرد باشندوں کی جانب سے ایک عرصے تک مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے اب تک کردوں کو سرحد عبور کر کے شام جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ تاہم نمائندوں کا کہنا ہے کہ انقرہ عراق کے کردوں کے متعلق زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوبانی کے دفاع کے ذمہ دار ایک سینیئر کرد اہلکار عصمت حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی فوج کو دولت اسلامیہ کے خلاف برتری حاصل ہے اور انھیں مزید جنگجوؤں سے زیادہ بھاری اسلحے کی ضرورت ہے۔
کوبانی کے شمالی علاقوں میں پیر کی رات شدید جنگ چھڑ گئی اور رات ہوتے ہی زبردست دھماکے شروع ہو گئے، پھر اس کے بعد چھوٹے ہتھیاروں سے شدید گولی باری ہوتی رہی یہاں تک کہ اتحادی فوج نے اس علاقے میں فضائی حملے شروع کر دیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
اس تازہ لڑائی کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو شہر کے نواح میں کئی قدم پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی والے اتحاد نے کوبانی کے اطراف میں اتوار اور پیر کو چھ فضائی حملے کیے اس کے علاوہ عراق میں فلوجہ اور بیجی کے مقام پر فرانسیسی اور برطانوی طیاروں نے علیحدہ چھ حملے کیے۔
ایک حملے میں اس فوجی سازوسامان کے بنڈل کو تباہ کردیا گیا جو گذشتہ دنوں ہوائی جہاز سے گرائے جانے کے وقت غلط جگہ گر گیا تھا اور اس سامان کے بارے میں خدشہ تھا کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھوں میں نہ پڑ جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اطلاعات کے مطابق باقی تمام 26 بنڈل بحفاظت مطلوبہ مقامات تک پہنچ چکے ہیں۔
شام اور عراق کے بڑے علاقے پر دولت اسلامیہ کے تیزی سے قابض ہوجانے نے مغربی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا اور انھیں فضائی حملے کی تحریک دی۔
پیر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ایوان سیمونووک نے اقلیتوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
اس ضمن میں بطور خاص یزیدی اقلیت کے خلاف ظلم کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا۔







