کوبانی:کرد جنگجواہم پہاڑی پر دوبارہ قابض

ترکی سمیت مغربی ممالک کے راہنما خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ کوبانی دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترکی سمیت مغربی ممالک کے راہنما خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ کوبانی دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں جا سکتا ہے

دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے انہوں نے شام اور ترکی کے قریب واقع جنگی اعتبار سے اہم چوٹی ’ٹال شیر‘ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

کرد جنگجوؤں نے یہ پیش رفت امریکی سربراہی میں قائم اتحاد کی دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کے بعد کی ہے۔

اس اہم چوٹی پر دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے دس روز قبل قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی صدر باراک اباما دولت اسلامیہ کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے آج منگل کو بیس سے زائد ممالک کے فوجی سربراہان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والی اس اہم اجلاس کے بارے میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں اتحاد قائم ہونے کے بعد یہ سب سے اہم اجلاس ہو گا۔

دولت اسلامیہ کے خلاف قائم ہونے والے اتحاد کا امتحان

شدید لڑائی کے باعث اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کوبانی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشدید لڑائی کے باعث اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کوبانی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں

کوبانی شہر میں کردوں کی اکثریت ہے اور امریکی سربراہی میں بننے والے اتحاد کے فضائی حملوں کی کامیابی کے لیے ایک کڑا امتحان بھی۔

گزشتہ دو ہفتوں کے فضائی حملوں کے بعد دولت اسلامیہ کی پیش رفت سست تو پڑ گئی ہے لیکن ترکی سمیت مغربی ممالک کے راہنما خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ کوبانی دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں جا سکتا ہے۔

منگل کی صبح کرد جنگجوؤں کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ’ٹال شیر‘ کی پہاڑی پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ پیر کے روز کوبانی کے جنوب اور مشرق میں شدید لڑائی کی اطلاعات تھیں۔

شام میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ نے کرد جنگجوؤں کے خلاف تین خوکش حملے بھی کیے ہیں۔ تنظیم کے بقول دولت اسلامیہ کوبانی کے پچاس فیصد علاقے پر قبضہ کر چکی ہے۔

شدید لڑائی کے باعث اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کوبانی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ کوبانی پر مکمل کنٹرول کے بعد، دولت اسلامیہ ترکی سے متصل شام کی سرحد کے ایک بڑے حصّے پر قابض ہو جائے گی۔

عراق میں دولت اسلامیہ کی پیشقدمی

مغربی عراق سے سینکڑوں میل دور واقع ھیت شہر پر دولت اسلامیہ نے اکتوبر کے اوائل میں قبضہ کر لیا تھا اور اب وہ انبار صوبے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ھیت شہر میں شدید لڑائی کے باعث ایک لاکھ اسی ہزار لوگ، شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انبار پر قبضے کے بعد دولت اسلامیہ دارالحکومت بغداد پر قبضے کے لیے سپلائی لائن بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

دریں اثناء ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے عراق میں شیعہ مسلمانوں نے سنیوں کو اغواء اور قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔