کوبانی کی جنگ اب یکطرفہ نہیں رہی

کوبانی کے کُردوں اور اتحادیوں کے فضائی حملے کے باعث کوبانی کو دولت اسلامیہ کے قبضے میں جانے سے ممکنہ طور پر بچا لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنکوبانی کے کُردوں اور اتحادیوں کے فضائی حملے کے باعث کوبانی کو دولت اسلامیہ کے قبضے میں جانے سے ممکنہ طور پر بچا لیا گیا ہے
    • مصنف, پال ایڈمز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

شام کے شہر کوبانی کے محاصرے کو ایک ماہ ہو گیا ہے۔ یہ جنگ سٹریٹیجک طور پر نہیں، بلکہ علامتی طور پر اہم ہے، اور اس میں لگ بھگ 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی ہے۔

دس روز قبل جب میں ترکی کے سرحدی علاقے سے نکلا تو اس وقت کوبانی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے امکانات روشن تھے۔ لیکن اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے اور لگتا ہے کہ شاید کوبانی پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ نہ ہو سکے۔

کوبانی کے اردگرد درجنوں چھوٹے دیہات پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

اس علاقے سے دو لاکھ کے قریب افراد ترکی نقل مکانی کر چکے ہیں اور عنقریب ان کی واپسی کے امکانات نہیں ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ دولتِ اسلامیہ علاقہ چھوڑنے سے قبل سب کچھ نیست و نابود کر دیتی ہے۔

لیکن کُردوں اور اتحادیوں کے فضائی حملوں کے باعث کوبانی کو دولت اسلامیہ کے قبضے میں جانے سے ممکنہ طور پر بچا لیا گیا ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو نئی پیش رفت ہوئی ہیں۔

اتوار کو امریکہ نے کہا کہ اس نے پہلی بار کوبانی میں کُرد جنگجوؤں کے لیے اسلحہ اور طبی اشیا پہنچائی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار عراقی کرد حکام نے فراہم کیے ہیں۔ مبینہ طور پر ہفتے کے روز امریکی صدر کی ترکی کے صدر سے ملاقات ہوئی تھی تو اس وقت براک اوباما نے طیب اردوغان کو ہتھیار فراہم کرنے کے ارادے سے مطلع کیا ہو گا۔

دس روز قبل جب ترکی کے سرحدی علاقے سے نکلا تو اس وقت کوبانی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے ختم کے امکانات روشن تھے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشندس روز قبل جب ترکی کے سرحدی علاقے سے نکلا تو اس وقت کوبانی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے ختم کے امکانات روشن تھے

پیر کو ایک اور پیش رفت ہوئی جب ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے اعلان کیا کہ ترکی کرد جنگجو تنظیم پیش مرگہ کے کوبانی میں داخل ہونے میں معاونت کر رہا ہے۔

عراق کے کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل کے حکام کا کہنا ہے کہ کرد صدر مسعود برزانی نے ترکی سے باضابطہ درخواست کی تھی کہ کرد پیش مرگہ جنگجوؤں کی کوبانی میں لڑنے کے لیے داخل ہونے میں معاونت کرے۔

ترکی کے ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ انقرہ کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ اس سے قبل اس نے کوبانی کو بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ’ترکی نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ کوبانی کو بچایا جا سکے۔‘ تاہم انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کوبانی کے دفاع میں مصروف پی وائی ڈی کے کُرد جنگجو شام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔

ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ان کا ہدف دولتِ اسلامیہ کی طرح شام کے چند علاقوں پر قبضہ کرنا ہے، اور جب تک پی وائی ڈی کا یہ ہدف ہے تب تک ان کو نہ تو ایف ایس اے اور نہ ہی ترکی سے کوئی مدد ملے گی۔‘

کوبانی میں کُرد رہنماؤں کے لیے پیش مرگہ کی آمد نعمت ہے بھی اور نہیں بھی۔

پیش مرگہ کوبانی کے کُردوں کی مخالف سیاسی تنظیم ہے۔ کُردوں کی پیچیدہ سیاست میں کے ڈی پی کے مسعود برزانی پی وائی ڈی کے حلیف نہیں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوبانی کے ’وزیر دفاع‘ عصمت حسن نے کہا کہ پیش مرگہ کو کوبانی میں لڑنے کے لیے معاونت کی درخواست ان کی اجازت کے بغیر کی گئی ہے۔

’اگر کوئی کوبانی میں آ کر لڑنا چاہتا ہے تو وہ کوبانی میں پہلے ہی سے لڑنے والوں سے پہلے مشورہ کرے۔‘

کوبانی کے ’وزیر دفاع‘ حسن نے کہا کہ کوبانی میں کُرد جنگجوؤں کو بھاری اسلحے کی ضرورت نہ کہ نفری کی
،تصویر کا کیپشنکوبانی کے ’وزیر دفاع‘ حسن نے کہا کہ کوبانی میں کُرد جنگجوؤں کو بھاری اسلحے کی ضرورت نہ کہ نفری کی

حسن نے کہا کہ کوبانی میں کُرد جنگجوؤں کو بھاری اسلحے کی ضرورت ہے نہ کہ نفری کی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوبانی کو بچانے میں امریکی قیادت میں اتحادیوں اور عراق کے کرُدوں کے علاوہ بالواسطہ طور پر ترکی بھی شامل ہے۔

کوبانی اب اتنا بے یارو مددگار نہیں جتنا کہ دس روز قبل لگ رہا تھا۔ کوبانی کو بچانے کے لیے تین بنیادی عناصر بے حد ضروری تھے اور وہ تھے فضائی حملے، کمک اور نفری۔ اور یہ تینوں عناصر اب کوبانی کو مل رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ یہ اقدامات کوبانی کو بچانے کے لیے کافی نہ ہوں۔ دولتِ اسلامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کامیابی کے لیے خون خرابے سے اجتناب نہیں کرتے۔

لیکن ایک بات واضح ہے کہ کوبانی کو بچانے کی لڑائی یک طرفہ نہیں رہی۔