’مر جاؤں تو بچوں کوبھی خبر نہ ہو‘

- مصنف, جم میور
- عہدہ, بی بی سی نیوز، شمال مشرقی شام
شمال مشرقی شام میں شامی کرد وائی پی جی کے جنگجوؤں کے ایک گروہ سے ملاقات کے دوران فوجی وردی میں ملبوس ایک ہلکی سی داڑھی والا لڑکا سیپان بھی بالکل ان جیسا ہی لگتا ہے۔
لیکن دراصل وہ ان جیسا نہیں ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو اس کے انگریزی لہجے میں امریکہ کے جنوب کی آمیزش صاف نظر آتی ہے۔ سیپان کا اصل نام جیرمی ہے اور اس کا تعلق امریکی ریاست مسی سپی سے ہے۔
اسے یہاں آئے ہوئے ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے لیکن وہ اس جگہ کو گھر سے دور گھر کہتا ہے۔
جیرمی وڈورڈ ان چند امریکی سابق فوجیوں میں سے ہے جو آدھی دنیا کا سفر طے کر کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ لڑنے یہاں آئے ہیں۔
اس کا اپنا سارا سامان اس وقت اس سے چھن گیا جب دولتِ اسلامیہ نے جیزا پر قبضہ کیا جہاں وہ رہ رہا تھا۔ تین دن کے بعد دولتِ اسلامیہ کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا۔ سیپان کہتا ہے کہ اس نے دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا۔
’میں اس سے کوئی برا شخص نہیں بن جاتا۔‘
’وہ معصوم لوگوں کو مارتے ہیں، عورتوں اور بچوں کو ریپ کرتے ہیں اور انھیں غلاموں کے طور پر بیچتے ہیں۔ میرے مطابق دولتِ اسلامیہ کے رکن کو ہلاک کرنا دنیا کے لیے ایک اچھا کام ہے۔ ان سب کا صفایا ہونا چاہیے۔‘

دوسرے امریکی رضاکاروں کی طرح جو کہ کسی ایک یونٹ میں نہیں بلکہ ایک بڑے علاقے میں کئی محاذوں پر پھیلے ہوئے ہیں، سیپان نے شام کی جنگ انٹرنیٹ اور فیس بک کے ذریعے دیکھی اور پھر سوشل میڈیا کے ذریعے ہی رابطہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیپان نے ایک اور امریکی زاگروس عرف برائن ولسن کا پیچھا کیا جن کے کردوں سے تعلقات تھے اور جو انھیں ایک مہینہ پہلے ترکی کے راستے عراقی کردستان لائے۔
برائن شمال مشرقی شام کے مغربی علاقے میں ایک اور محاذ راس العین پر لڑ رہے ہیں جو کرد جنگجوؤں اور اس کے سیاسی دھڑے پی وائی ڈی کے کنٹرول میں ہے۔ یہ بذات خود عبداللہ اوجلان کی ترک ’پی کے کے‘ جماعت کی ہی ایک شاخ ہے۔
برائن نے مجھے بتایا کہ ’یہاں کچھ لڑکے تھوڑی بہت انگریزی بول لیتے ہیں اور وہ مجھے کردی سکھا رہے ہیں۔‘
’میں چاہتا تھا کہ یہاں آ کر کردوں کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کروں۔ میرے لیے یہ بہت سادہ سی بات ہے۔ دولتِ اسلامیہ والے برے لوگ ہیں اور یہ اچھے لوگ۔ کرد کسی کے علاقے پر قبضہ کرنے نہیں آئے بلکہ وہ اپنے گھروں کا دفاع کر رہے ہیں۔‘
سیپان کی طرح برائن بھی کہتا ہے کہ شاید اسے یہاں لمبا عرصہ رہنا پڑے۔ اگرچہ ریاست اوہائیو میں اس کی سابقہ بیوی سے اس کے دو بچے بھی ہیں۔
جب ہم اس سے ملے تو وہ ایک ساتھی کے جنازے سے ہو کر آ رہا تھا۔
اس نے کہا کہ اگر میرے ساتھ ایسا ہو جائے تو شاید میرے بچوں کو اس کی سمجھ بھی نہ آئے۔ حقیقت میں امریکہ میں بہت سے لوگ شاید اس کو نہیں سمجھ سکیں گے۔‘
جیرمی وڈورڈ بھی موت کو بہت قریب سے دیکھ چکا ہے۔ ایک گرینیڈ حملے میں اس کا دانت ٹوٹ گیا تھا اور وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے ہلاک ہونے کے امکانات بھی کافی ہیں۔
جب میں نے اس سے پوچھا کہ یہاں سے جانے کا ’کٹ آف پوائنٹ‘ کیا ہے تو اس نے ہنس کر کہا: ’میری موت۔‘







