مغرب سے بیزاری یا جہادیوں کی کشش؟

یہاں اپنے شوہر ابو بکر کے ساتھ کھڑی خدیجہ دارے کا کہنا ہے کہ وہ ایک مغربی مغوی کو قتل کرنا چاہتی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیہاں اپنے شوہر ابو بکر کے ساتھ کھڑی خدیجہ دارے کا کہنا ہے کہ وہ ایک مغربی مغوی کو قتل کرنا چاہتی ہیں
    • مصنف, ڈاکٹر کیتھرین براؤن
    • عہدہ, لیکچرر دفاعی امور، کنگز کالج، لندن

ایک اندازے کے مطابق شدت پسند تحریک دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کی غرض سے برطانیہ سے پچاس سے ساٹھ خواتین ترکی کے راستے شام پہنچ چکی ہیں۔ شام پہنچ کر یہ خواتین اکیلی نہیں ہوتیں بلکہ وہاں انہیں امریکہ، آسٹریلیا، فرانس، ہالینڈ، کینیڈا، ناروے اور سویڈن سمیت کئی مغربی ممالک سے آئی ہوئی خواتین مل جاتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان ممالک سے خواتین دولت اسلامیہ میں شامل ہونے جا کیوں رہی ہیں؟

برطانوی خاتون یسریٰ حسین کے بارے میں یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ انھیں شدت پسندی کی راہ پر لگا دیا گیا تھا اور وہ واقعی شام جا چکی ہیں یا نہیں، تاہم برطانوی پولیس کا خیال یہی ہے کہ وہ شام پہنچ چکی ہیں۔

جہاں تک دیگر کئی خواتین کا تعلق ہے تو ان کی کہانیاں تو ٹوئٹر، ٹبملر، لِنکڈ اِن، اور آسک ڈاٹ ایف ایم جیسی معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ ان کہانیوں سے ایک بات تو واضح ہے کہ ایسی خواتین کے معاملے میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس کا کردار خاصا بڑا ہے۔ یہ ویب سائٹس خواتین کو نہ صرف سفر میں مدد اور اعانت فراہم کرتی ہیں بلکہ ان ہی ویب سائٹس کے ذریعے وہ دولتِ اسلامیہ کے پروپیگنڈے کی قائل بھی ہوتی ہیں جو انھیں ایک آئیڈیل اسلامی زندگی اور جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔

شروع شروع میں شام جانے والی مغربی خواتین کی اکثریت ان پر مشتمل تھی جو اپنے شوہروں سے ملنے وہاں گئی تھیں جو پہلے سے ہی وہاں جہاد پر جا چکے تھے۔ ایسی خواتین کے معاملے میں ان کے اپنے گھرانے کا کردار اہم رہا ہے۔

اس کے برعکس دیگر ایسی خواتین جن کے بارے میں ہم حالیہ دنوں میں خبریں سن رہے ہیں، ان کے معاملے میں آن لائن رابطوں کا کردار اہم نظر آتا ہے کیونکہ انٹر نیٹ پر بین الاقوامی سفر کا بندوبست کرنا اب بہت آسان ہو چکا ہے۔

حالیہ عرصے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں ہمیں آئے دن ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں جن میں ’جہادی دلہنوں‘ کا ذکر ملتا ہے۔ جہادی دلہنوں سے مراد ایسی خواتین ہیں جو شام میں لڑنے والے جہادی مردوں سے شادی کی غرض سے وہاں جاتی ہیں۔

یونیورسٹی کی طالبہ اقصا حسین نے شام جا کر ایک جہادی سے شادی کر لی ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنیونیورسٹی کی طالبہ اقصا حسین نے شام جا کر ایک جہادی سے شادی کر لی ہے

فرانس سے شام جانے والی لڑکیوں کے گھر والوں کو کئی شامی مردوں کے فون آ چکے ہیں جو ان کی بیٹیوں کا رشتہ مانگ رہے تھے۔ دوسری جانب جہادی مردوں کے آن لائن اکاؤنٹس میں ایسی خواتین کے پیغامات کی بھرمار ہے جو اُن کی بیویاں بننے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ماساچیوسٹ سے منسلک محقق میا بلُوم کے بقول جہادی مرد ایسی خواتین کو ’بچے پیدا کرنے کی فیکٹریاں‘ سمجھتے ہیں جن کا بہترین مصرف یہ ہے کہ وہ ایک نئی ’مکمل اسلامی‘ ریاست کو مستقبل کے شہری فراہم کریں۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ نوجوان خواتین محض شوہروں کی تلاش میں شام جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں ہم ان خواتین کی کہانی محض ’جہادی دلہن‘ کے نظریے سے نہیں دیکھ سکتے۔

ایسی خواتین کے سفر پر نکل جانے کے فیصلے کے کچھ دوسرے پہلو بھی ہیں۔ میرے خیال میں خواتین دولت اسلامیہ میں اس لیے شامل ہوتی ہیں کہ اس سے انھیں ایک ایسی سنہری سیاست میں شامل ہونے کا احساس ہوتا ہے جہاں وہ جہاد میں شامل ہونے کے علاوہ ایک نئی اسلامی ریاست کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اگر آپ ان خواتین کے آن لائن اکاؤنٹس دیکھیں تو ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے خیال میں مغربی ریاستیں انھیں یہ احساس دینے میں ناکام ہو گئی ہیں کہ وہ بھی ان معاشروں کی برابر کی شہری ہیں۔ ان کے خیال میں ان کی بطور مسلمان قدر نہیں کی جاتی اور یہاں مغرب میں ان کی زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے۔

اس خیال کی ایک مثال ہالینڈ سے شام گئی ہوئی ایک خاتون ہیں جن کا نام خدیجہ ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ ’المانیٹر‘ سے بات کرتے ہوئے خدیجہ کا کہنا تھا: ’میں ہمیشہ سے شریعت کے تحت رہنا چاہتی تھی۔ یہ یورپ میں کبھی بھی نہیں ہوگا۔‘

گزشتہ ماہ لاپتہ ہو جانے والی یسریٰ حسین کے بارے میں برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھی شام چلی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگزشتہ ماہ لاپتہ ہو جانے والی یسریٰ حسین کے بارے میں برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھی شام چلی گئی ہیں

ایسی خواتین اکثر مغربی معاشروں کی ناکامیوں کا ذکر کرتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اسلام پر عمل کرنے میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے (مثلاّ فرانس میں برقعے پر پابندی) اور وہ مغرب کے سیاسی نظام پر تنقید کرتی ہیں۔ تاہم ان کی باتوں میں آپ کو بہت جلد تضاد بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلاً یہ خواتین اپنے اکاؤنٹس میں قرانی آیات کے بہت حوالے دیتی ہیں، لیکن ان کی آن لائن گفتگو کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھیں نہ تو شام میں جاری تنازعے کے بارے میں زیادہ معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت یا اسلام کے بارے میں ان کی معلومات میں کوئی گہرائی ہوتی ہے۔

میرے خیال میں دولت اسلامیہ میں شمولیت کے لیے جانے والی مغربی خواتین کے اس فیصلے کے پیچھے سیاسی اور ذاتی دونوں قسم کی وجوہات موجود ہیں، لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ ان کے فیصلوں کے پیچھے ان کی سادہ لوحی اور ایک رومان بھی کارفرما ہوتا ہے۔