بیلجیئم: جہادی بھرتی کرنے پر 46 افراد پر مقدمہ

،تصویر کا ذریعہAFP
بیلجیئم کے شہر انٹرویرپ میں 46 افراد پر ایک ایسے گروپ سے تعلق رکھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے جو جہاد کرنے والوں کو شام بھیجتے تھے۔ یہ بیلجیئم میں اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کیس ہے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ شریعہ فار بیلجیئم (sharia4belgium) نامی نتظیم نے بھرتے کیے گئے جہادیوں کو دولتِ اسلامیہ جیسے شدت پسند تنظیموں کے پاس بھیجا۔
ان ملزمان میں سے صرف آٹھ افراد عدالت میں پیش ہوئے۔خیال کیا ہے کہ باقی جہادی یا تو شام میں میدانِ جنگ میں ہیں یا مر گئے ہیں۔
یورپی ممالک شام اور عراق میں لڑنے والے اپنے شہریوں سے پیدا ہونے والے خطرے سے پریشان ہو رہے ہیں۔
دولتِ اسلامیہ نے اس سال موسمِ سرما شمالی عراق میں مہم جوائی کا آغاز کیا اور شام میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایک نئی پٹی کا اضافہ کیا۔
امریکہ، یورپ اور اس کے عرب اتحادیوں نے جواباً دولتِ اسلامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر بمباری کی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ 3000 سے زائد پورپی مسلمان شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلق النصریٰ فرنٹ کے ساتھ مل ک لڑنے کے لیے گئے ہیں۔
یورپ کی سکیورٹی اجنسیوں کا خیال ہے کہ جہادی واپس لوٹ کر مقامی اہداف کو شدت پسند حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے اندازے کے مطابق بیلجیئم کے 400 سے زیادہ شہری شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان میں 10 فیصد افراد کا تعلق شریعہ فار بیلجیئم سے ہے۔
اس گروپ کے مبینہ سربراہ فواد بلقاسم عدالت میں پیر کو حاضر ہونے والے افراد میں شامل تھے۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ فواد بلقاسم خود شام نہیں گئے لیکن تفتیش کاروں کا کہنا ہے انھوں نے دوسروں کو شام میں جہاد کے لیے جانے کے لیے اکسایا۔
اگر ان پر یہ الزام ا ثابت ہوتا ہے تو انھیں 20 سال کی قید ہو سکتی ہے۔
امکان ہے کہ دفاع کے وکلا منگل کو جوابِ دعوی ٰ داخل کرائیں۔
بالقاسم نے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک کھلے خط میں اپنے اوپر لگائے گیے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی شام جانے کے لیے لوگوں کو بھرتی نہیں کیا اور نہ ہی جنگجوؤں کو وہاں بھیجا۔







