جہادی کی شناخت کے قریب پہنچ گئے ہیں: برطانیہ

صحافی جیمز فولی کو نومبر سنہ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصحافی جیمز فولی کو نومبر سنہ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا

امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس برطانوی جہادی کو شناخت کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے جسے ویڈیو میں صحافی جیمز فولی کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سفیر پیٹر ویسٹمکوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے برطانیہ میں اپنے ساتھیوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہم اس شخص کی شناخت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

تاہم برطانیہ کی وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے سفیر کے اس بیان پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم سکیورٹی معاملات پر تبصرہ نہیں کیا کرتے۔‘

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی سفیر کا کہنا تھا کہ ’ہم جیمز فولی کے قاتل کی شناخت سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ ہم اس سلسلے میں بہت کچھ کر رہے ہیں۔‘

سفیر نے کہا کہ مبینہ قاتل کی تلاش میں آواز سے شناخت کرنے والی ’نہایت جدید‘ ٹیکنالوجی استعمال کی جاری ہے اور یہ تلاش امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی سربراہی میں ہو رہی ہے۔ ’اس موقعے پر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا، تاہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم اس شخص تک پہنچنے والے ہیں۔‘

یاد رہے کہ صحافی جیمز فولی کو نومبر سنہ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا اور دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ ہفتے ان کا سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی۔

شام اور عراق میں جاری تنازعے نسلوں تک جاری رہ سکتے ہیں: برطانوی وزیر دفاع

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشام اور عراق میں جاری تنازعے نسلوں تک جاری رہ سکتے ہیں: برطانوی وزیر دفاع

امریکہ میں برطانوی سفیر کے بیان سے پہلے برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے اتوار کو ’سنڈے ٹائمز‘ میں ایک مضمون میں کہا تھا کہ حکومت ’ایک وحشیانہ نظریے‘ سے نمٹنے کے لیے ’خاطر خواہ ذرائع‘ بروئے کار لا رہی ہے۔ مضمون میں مسٹر ہیمنڈ نے قارئین کو خبردار کیا کہ شام اور عراق میں جاری تنازعے نسلوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے بھی کہا تھا کہ آج تک امریکہ کو جتنے بھی خطروں کا سامنا کرنا پڑا ہے، شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ ان میں سب سے بڑا خطرہ ہے جو لمبے عرصے کے لیے ہے اور یہ کہ اسے شام اور عراق دونوں جگہوں پر لازمی طور پر شکست دینا ہوگی۔

سفیر کے بیان سے قبل برطانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عراق میں سکیورٹی کا ایک نیا نمائندہ تعینات کر دیا ہے۔ اطاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کے سینیئر دفاعی مشیر لیفٹیننٹ جنرل سائمن میال اس ہفتے عراق پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ملک کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

دوسری جانب برطانیہ کی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے نے کہا ہے کہ حکومت برطانیہ میں شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اداروں کو نئے اختیارات دینے کے بارے میں غور کر رہی ہے، لیکن حزب مخالف کی داخلہ امور کی شیڈو وزیر یووٹ کُوپر نے ٹیریسا مے کے بیان کے جواب میں مقامی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ویڈیو میں سر قلم کرنے والا برطانوی لہجے میں بات کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنویڈیو میں سر قلم کرنے والا برطانوی لہجے میں بات کر رہا ہے

’سنڈے ٹائمز‘ میں اپنے مضمون میں یووٹ کُوپر نے لکھا کہ ’برطانوی شہریوں کو اس وحشیانہ نظریے سے وابستہ ہونے سے روکنے اور جہادیوں کے واپس ملک آنے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیں زیادہ کوششیں کرنی چاہییں۔‘

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جمیز فولی کے مبینہ قاتل کا تعلق لندن یا جنوب مشرقی لندن سے ہو سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا تھا کہ امریکہ جیمز فولی کے قاتل کو پکڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ’ہم نے تفتیش شروع کر دی ہے اور جو لوگ اس قسم کی کارروائیاں کریں گے، انھیں اس محکمۂ انصاف، محکمۂ دفاع اور اس قوم کو سمجھنا چاہیے، ہماری یاداشت لمبے عرصے کی ہے اور ہماری رسائی بہت دور تک ہے۔ جو کچھ ہوا ہم اسے نہیں بھولیں گے اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہوگا۔‘

جیمز فولی کی عمر 40 سال تھی اور انھوں نے مشرق وسطیٰ میں کئی مقامات سے رپورٹنگ کی۔ وہ امریکی اخبار گلوبل پوسٹ اور دوسرے میڈیا اداروں کے لیے کام کر رہے تھے۔