دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ دو طیارے تباہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شام میں صدر اسد کی حکومت کے مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کی فوج کی جانب سے باغیوں کے ٹھکانوں پر ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے اور حالیہ دنوں میں شام کی فضائیہ نےتقریباً دو سو حملے کیے ہیں۔
شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی حقوق انسانی کی برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملے اتوار کی شب اور منگل کی سہ پہر کے درمیان کئیے گئے۔
’سیرین آبزرویٹری گروپ‘ نے تعداد تو نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے کافی جانی نقصان ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شام کی فوج نے یہ حملے ایسے وقت میں کئے ہیں جب امریکی سربراہی میں اتحادی ممالک، دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی اور عرب ممالک کی طرف سے کرد اکثریتی شہر کوبانی میں دولت اسلامیہ پرفضائی بمباری کا سلسلہ جاری ہے ۔
کرد حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد، 120 کے قریب کرد پیشمرگا جنگجو دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے کوبانی جا رہے ہیں۔
دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ لڑاکا طیارے تباہ:
’سیرین آبزرویٹری گروپ‘ کے مطابق شام کی فضائیہ نے باغیوں کے زیر قبضہ کونیٹرا، ڈیرا، دمشق کے دیہاتی علاقوں حملہ اور ایدلب پر بمباری کی۔
مشرقی صوبے ڈیر الزور پر بھی شدید بمباری کی گئی ہے، یہ وہ صوبہ ہے جہاں شام کی فوج دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
’سیرین آبزرویٹری گروپ‘ کا کہنا ہے کہ شام کی فضائیہ باغیوں کے خلاف روزانہ بارہ اور بیس کے درمیان حملے کیا کرتی تھی۔ لیکن گزشتہ چھتیس گھنٹوں کے درمیان دو سو دس حملے سے یہ ظاہر ہے کہ ان حملوں میں کافی تیزی آئی ہے۔
شام کے وزیر اطلاعات امران ضوبی کا کہنا ہے کہ شام کی فضائیہ نے دو لڑاکا طیارے تباہ کر دئیے ہیں جو کہ دولت اسلامیہ نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
ان طیاروں کو مشرقی الیپو کے ائیر بیس پر تباہ کیا گیا۔ لیکن شام کی ائیر فورس کا ایک اور طیارہ ابھی بھی لا پتہ ہے۔
جمعہ کے روز دولت اسلامیہ نے عراقی فضائیہ کے ایک سابق پائلٹ کی مدد سے ان جنگی طیاروں کے ذرئعیے پرواز بھی کی تھی۔







