پیلمائرا میں تباہ ہونے والے معبد کی تصاویر شائع

،تصویر کا ذریعہAFP
دولتِ اسلامیہ نے شام میں بعل شمین کے قدیم معبد کی تصاویر جاری کی ہیں جسے اس نے تباہ کر دیا ہے۔
ان تصاویر میں شدت پسندوں کے معبد میں بم نصب کرنے اور اس کی تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
شامی حکام اور کارکنوں نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ معبد تباہ ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے نے اس اہم شامی ثقافتی ورثے کی تباہی کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکووا نے دولتِ اسلامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ شامی لوگوں سے ان کی شناخت، ثقافت اور ان کے ماضی چھین رہے ہیں۔
انھوں نے گذشتہ ہفتے پیلمائرا کے سابق ماہرِ آثارِ قدیمہ خالد الاسعد کے قتل پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے، جنھوں نے شدت پسندوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بعل شمین کا معبد دو ہزار سال پرانا ہے اور اسے پیلمائرا کے آثارِ قدیمہ میں سب سے اہم عمارت کا درجہ حاصل تھا۔ یہ معبد ان کھنڈرات کا حصہ ہے جو زمانہ ِقدیم میں ایک اہم ثقافتی شہر تھا۔
شام کے آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر مامون عبدالکریم نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے یونانی رومی دور کے اس معبد کو دھماکہ خیز مواد سے بھرا اور بعد میں اسے تباہ کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
منگل کوشائع کی جانے والی تصاویر میں تین افراد دھماکہ خیز مواد سے بھرے ڈرم معبد کے اندر اور باہر رکھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور تصویر میں ایک دھماکہ دکھایا گیا ہے اور بہت سا دھواں بھی عیاں ہے۔ جبکہ پانچویں تصویر میں مندر کا ملبہ نظر آ رہا ہے۔
ان تصاویر کی اب تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان تصاویر پر دولتِ اسلامیہ کی وہ مہر صاف نظر آ رہی ہے جو وہ پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس شدت پسند تنظیم نے مئی میں شامی فوج کو شکست دے کر پیلمائرا پر قبضہ کر لیا تھا۔
شام میں انسانی حقوق کے برطانوی ادارے سیئرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ یہ معبد ایک ماہ قبل تباہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ دولتِ اسلامیہ اس سے پہلے بھی کئی اہم اسلامی اور ثقافتی اعتبار سے اہم عمارتوں کو تباہ کر چکی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ بت پرستی کی نشانیاں ہیں۔
اس معبد کی تباہی سے قبل انھوں نے اسی علاقے سے ایک شیر کا بت بھی توڑا تھا۔ تاہم انھوں نے اس جگہ موجود ایک تھیٹر کو20 شامی فوجیوں کے قتل کے لیے استعمال کیا۔ ان فوجیوں کا قتل بچوں کے ہاتھوں کروایا گیا۔







