دو ہزار سالہ شامی معبد کی تباہی

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دی جانے والی جگہ پیلمائرا میں واقع قدیم معبد بعل شمین کو تباہ کر دیا ہے۔

شام کے حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دی جانے والے پیلمائرا میں واقع قدیم معبد بعل شمین کو تباہ کر دیا ہے۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ کو اتوار کے روز تباہ کیا گیا، تاہم برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ معبد ایک ماہ قبل تباہ کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنشام کے حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دی جانے والے پیلمائرا میں واقع قدیم معبد بعل شمین کو تباہ کر دیا ہے۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ کو اتوار کے روز تباہ کیا گیا، تاہم برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ معبد ایک ماہ قبل تباہ کیا گیا تھا۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے آرٹس کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس قدیم عبادت گاہ کی تعمیر دو ہزار سال پہلے کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی ورلڈ سروس کے آرٹس کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس قدیم عبادت گاہ کی تعمیر دو ہزار سال پہلے کی گئی۔
رواں سال مئی میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اس قدیم شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ پیلمائرا کا شمار ان جگہوں میں ہوتا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کے قدیم ترین آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنرواں سال مئی میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اس قدیم شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ پیلمائرا کا شمار ان جگہوں میں ہوتا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کے قدیم ترین آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق ریگستان میں گھرا پیلمائرا زمانۂ قدیم کے اہم ترین ثقافتی مراکز میں سے ایک تھا۔
،تصویر کا کیپشنیونیسکو کے مطابق ریگستان میں گھرا پیلمائرا زمانۂ قدیم کے اہم ترین ثقافتی مراکز میں سے ایک تھا۔
بڑے بڑے ستونوں والی ا یک گلی کے حصار میں واقع اس قدیم شہر کا تعلق پہلی اور دوسری صدی کے رومی دور سے جوڑا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبڑے بڑے ستونوں والی ا یک گلی کے حصار میں واقع اس قدیم شہر کا تعلق پہلی اور دوسری صدی کے رومی دور سے جوڑا جاتا ہے۔
ایک کلومیٹر طویل گلی کے جنوب میں یہ عظیم معبد ہے۔ پہلی صدی کے اس اہم معبد کی عمارت انوکھے ڈیزائن کی حامل ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک کلومیٹر طویل گلی کے جنوب میں یہ عظیم معبد ہے۔ پہلی صدی کے اس اہم معبد کی عمارت انوکھے ڈیزائن کی حامل ہے۔
پیلمائرا شام کے دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیر الزور کے درمیان سڑک پر واقع ہے۔ دیر الزور پر قبضے کے لیے دولت اسلامیہ اور شامی فوجوں میں لڑائی جاری رہتی ہے ۔
،تصویر کا کیپشنپیلمائرا شام کے دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیر الزور کے درمیان سڑک پر واقع ہے۔ دیر الزور پر قبضے کے لیے دولت اسلامیہ اور شامی فوجوں میں لڑائی جاری رہتی ہے ۔
اس مقام کو گذشتہ چار سال کی خانہ جنگی نے خاصا نقصان پہنچایاہے۔
،تصویر کا کیپشناس مقام کو گذشتہ چار سال کی خانہ جنگی نے خاصا نقصان پہنچایاہے۔
واروک یونیورسٹی میں قدیم تاریخ کے پروفیسر کیون بچر کا کہنا ہے کہ پیلمائرا مشرق وسطیٰ کی ایک عظیم کامیابی تھی اور یہ شہر رومی دور کے دیگر شہروں سے بہت مختلف تھا۔
،تصویر کا کیپشنواروک یونیورسٹی میں قدیم تاریخ کے پروفیسر کیون بچر کا کہنا ہے کہ پیلمائرا مشرق وسطیٰ کی ایک عظیم کامیابی تھی اور یہ شہر رومی دور کے دیگر شہروں سے بہت مختلف تھا۔
پروفیسر بچر کا کہنا ہے کہ ثقافت اور خوبصورتی کے اعتبار سے یہ ایک بہت مختلف شہر تھا۔ دیگر شہروں میں بڑے بڑے زمیندار شہر کا نظام چلاتے تھے لیکن پیلمائرا کی سیاست اور انتظام پر تاجروں کا کنٹرول تھا۔ پیلمائرا کے باسی ریگستان پار جانے والے تجارتی قافلوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بھی ماہر تھے۔
،تصویر کا کیپشنپروفیسر بچر کا کہنا ہے کہ ثقافت اور خوبصورتی کے اعتبار سے یہ ایک بہت مختلف شہر تھا۔ دیگر شہروں میں بڑے بڑے زمیندار شہر کا نظام چلاتے تھے لیکن پیلمائرا کی سیاست اور انتظام پر تاجروں کا کنٹرول تھا۔ پیلمائرا کے باسی ریگستان پار جانے والے تجارتی قافلوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بھی ماہر تھے۔
وینس کی طرح اس شہر کے باسیوں نے تجارت کا ایک وسیع نیٹ ورک بنایا تھا جس میں ریگستان کو سمندر اور اونٹوں کو کشتیوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنوینس کی طرح اس شہر کے باسیوں نے تجارت کا ایک وسیع نیٹ ورک بنایا تھا جس میں ریگستان کو سمندر اور اونٹوں کو کشتیوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔