دولت اسلامیہ نے پیلمائرا میں ’قدیم عبادت گاہ تباہ کر دی‘

بعلِ شمین پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنبعلِ شمین پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا

شام کے حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دی جانے والی جگہ پیلمائرا میں واقع قدیم عبادت گاہ بعل شمین کو تباہ کر دیا ہے۔

شام کے آثار قدیمہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ کو اتوار کے روز تباہ کیا گیا۔

تاہم برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ کو ایک ماہ قبل تباہ کیا گیا ہے۔

شام کے آثار قدیمہ کے سربراہ مامون عبدالکریم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا: ’دولت اسلامیہ نے اتوار کے روز بعل شمین میں بڑی تعداد میں بارودی مواد نصب کر کے اسے دھماکے سے اڑا دیا جس کے باعث عبادت گاہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ عبادت گاہ کا اندرونی حصہ تباہ ہو گیا ہے اور اس کے ستون بھی تباہ ہوئے ہیں۔‘

تاہم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیلمائرا سے نکل جانے والے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ میں ایک ماہ قبل بڑی مقدار میں بارودی مواد نصب کیا گیا۔

بعل شمین پہلی سنہِ عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ چند دن قبل ہی شام کے معروف قدیمی شہر پیلمائرا (تدمر) میں رومی دور کے آثار کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس تنظیم نے شام اور عراق میں پہلے بھی کئی آثار کو تباہ کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے پیلمائرا کو کتنا نقصان پہنچایا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس تنظیم نے شام اور عراق میں پہلے بھی کئی آثار کو تباہ کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے پیلمائرا کو کتنا نقصان پہنچایا ہے

اس سال مئی کے مہینے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اس قدیم شہر پر قبضہ کیا تھا۔

اس تنظیم نے شام اور عراق میں پہلے بھی کئی آثار کو تباہ کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھوں نے پیلمائرا کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ اس کی تباہی ’انسانیت کے لیے بہت بڑا نقصان‘ ہو گا۔

شام کی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں شدید جنگ جاری ہے لیکن یہ تنظیم پیلمائرا ابھی تک قابض ہے۔