برطانیہ میں ووٹروں کو قائل کرنے کی آخری کوششیں

اب تک کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہیں ہیں
،تصویر کا کیپشناب تک کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہیں ہیں

برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم بدھ کو اپنے آخری دن میں داخل ہوگئی ہے اور سیاسی جماعتوں کے رہنما اور ان کے امیدوار ووٹروں کو قائل کرنے کی آخری کوششیں کر رہے ہیں۔

برطانوی دارالعوام کے ارکان کے انتخاب کے لیے پولنگ سات مئی کو ہوگی۔

<link type="page"><caption> اہم جماعتیں اور اہم مسائل کیا ہیں؟ قندیل شام کی رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/05/150504_elex_explain_qs" platform="highweb"/></link>

برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما ملک کے طول و عرض میں اہم نشستوں پر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جنھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔

بدھ کو انتخابی مہم کے آخری دن وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’ملک گذشتہ پانچ سال کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے اور ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

لیبر پارٹی کے ایڈ ملی بینڈ نے لوگوں پر زور دیا کہ ’ملک میں سخت محنت کا دوبارہ صلہ‘ دینے کے لیے انھیں ووٹ دیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے رہنما نک کلیگ نے ملک کو کو ’استحکام بخشنے‘ کی بات کی ہے۔

اب تک کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہیں ہیں۔

گذشتہ الیکشن میں 258 نشستیں جیتنے والی لیبر پارٹی ان انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے پرامید ہے
،تصویر کا کیپشنگذشتہ الیکشن میں 258 نشستیں جیتنے والی لیبر پارٹی ان انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے پرامید ہے

سیاسی امور کے لیے بی بی سی کے نائب مدیر جیمز لینڈل کا کہنا ہے کہ سیاست دان انتخابی تجزیہ کار اور میڈیا سبھی ان انتخابات کے بارے میں واضح پیشن گوئی کرنے سے قاصر ہیں۔

ان کے مطابق اس وجہ سے اس امر پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے کہ اگر کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آیا تو کیا ہو گا۔ لینڈل کے مطابق ’عین ممکن ہے کہ جمعرات اس عمل کا آخری دن نہ ہو اور یہ درمیانی وقفے کی سیٹی کا کام کرے۔‘

انتخابی مہم کے آخری دن وزیرِ اعظم کیمرون شمال مغربی اور وسطی انگلستان کے علاوہ سکاٹ لینڈ کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ ایڈ ملی بینڈ کی منزل شمالی انگلینڈ کے وہ حلقے ہیں جہاں گذشتہ انتخابات میں ان کی مخالف کنزرویٹو جماعت معمولی فرق سے جیتی تھی۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جنوبی ویلز میں دن کا آغاز کیا اور اب وہ انگلینڈ کے شمالی مغربی علاقوں، سکاٹ لینڈ اور مڈ لینڈز جا رہے ہیں جبکہ ایڈ ملی بینڈ شمالی علاقوں کے دورے پر ہیں جہاں ان کی مخالف جماعت کنزرویٹو جماعت نے گذشتہ انتخاب میں معمول فرق سے برتری حاصل کی تھی۔

لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے رہنما نک کلیگ نے منگل کو لینڈز اینڈ سے اپنی سفر کا آغاز کیا تھا اور اس وقت سکاٹ لینڈ کے حلقوں سے ہوتے ہوئے جان اؤ گروٹ جا رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون کی جماعت نے 2010 کے الیکشن میں 307 نشستیں جیتی تھیں۔ وہ ایک بار پھر ایسی اقلیتی لیبر حکومت کے امکان کی امید رکھیں گے جسے حکومت سازی کے لیے سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی کی مدد درکار ہو سکتی ہے۔

برطانوی دارالعوام کے ارکان کے انتخاب کے لیے پولنگ سات مئی کو ہو گی
،تصویر کا کیپشنبرطانوی دارالعوام کے ارکان کے انتخاب کے لیے پولنگ سات مئی کو ہو گی

وہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایس این پی کی حمایت والی لیبر حکومت ایک ’خوفناک منظر‘ ہو گا۔

جمعرات کو اپنی تقاریر میں وہ کہیں گے کہ ’برطانوی عوام کو ایک نسل کا سب سے اہم فیصلہ کرنا ہے اور جب آپ کل پولنگ بوتھ میں جائیں تو یہ سوچ کر جائیں کہ آپ کا ووٹ فرق ڈال سکتا ہے۔‘

گذشتہ الیکشن میں 258 نشستیں جیتنے والی لیبر پارٹی ان انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے پرامید ہے۔

جماعت کے مرکزی رہنما ایڈ ملی بینڈ انتخابی مہم کے آخری دن ووٹروں کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کے پاس ’نوکری پیشہ افراد کو مقدم رکھنے والی حکومت اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے کام کرنے والی حکومت کے درمیان انتخاب کا موقع ہے۔‘