برطانیہ میں انتخابات سے قبل بھرپور انتخابی مہم

سات مئی کو انتخابات منعقد ہوں گے
،تصویر کا کیپشنسات مئی کو انتخابات منعقد ہوں گے

برطانیہ کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنما سات مئی کے عام انتخابات سے قبل اختتام ہفتہ پر بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں تاکہ ان ووٹروں کو ساتھ ملا لیں جنھوں نے اب تک فیصلہ نہیں کیا کہ کسے ووٹ دیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے جو حکمراں جماعت ٹوری پارٹی کی طرف سے دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ حکمتِ عملی کے تحت یوکِپ یا لبرل ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ووٹ دینے کے بجائے ’ترجیحی وزیرِاعظم‘ کا انتخاب کریں۔

ان کے برعکس اپوزیشن کی بڑی جماعت لیبر پارٹی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا سات مئی کے انتخابات مستقبل کے دو ایسے تصورات کے مابین معرکہ ہے جنھوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کیسے کامیاب ہوگا۔

لبرل ڈیموکریٹ کی طرف سے نِک کلیگ نے ووٹروں سے کہا کہ امکان کم نظر آتا ہے کہ لیبر پارٹی یا کنزرویٹو پارٹی بھرپور فتح حاصل کرےگی۔

اپنی تقریر میں ڈیوڈ کیمرون نے لوگوں سے کہا کہ اگر وہ آٹھ مئی کو ایڈ ملی بینڈ کو ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ (برطانوی وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ) میں داخل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں تو وہ کنزرویٹو پارٹی کو ووٹ دیں۔

ان انتخابات میں معیشت اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں، برطانیہ کی یورپی اتحاد کی رکنیت، این ایچ ایس کا مستقبل اور امیگریشن جیسے موضوعات نمایاں ہیں
،تصویر کا کیپشنان انتخابات میں معیشت اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں، برطانیہ کی یورپی اتحاد کی رکنیت، این ایچ ایس کا مستقبل اور امیگریشن جیسے موضوعات نمایاں ہیں

ڈیوڈ کیمرون نے بی بی سی کے پروگرام ’بریک فاسٹ‘ میں بات کرتے ہوئے کہا ’بالآخر ایک شخص ہی وزیرِاعظم کی رہائش گاہ کے دروازے سے داخل ہو کر جمعہ کو وزیرِ اعظم بنے گا۔ لہذٰا اگر آپ چاہتے ہیں کہ وزیرِاعظم وہ شخص بنے جسے آپ ترجیح دیتے ہیں تو پھر اسی کو ووٹ دیں۔ یہ خطرہ مول نہ لیں کہ آپ لبرل ڈیموکریٹ کو ووٹ دیں اور چاہیں کہ آپ کا پسندیدہ شخص وزیرِاعظم بن جائے گا یا آپ یو کِپ کو ووٹ دیں گے اور امید کریں گے کہ شاید یہ پارٹی جیت جائے۔‘

ادھر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سابق شیڈو وزیرِ داخلہ این ویڈکومب نے کارڈیف میں کہا ووٹر چھوٹی جماعت کو نظر کر کے دو بڑی جماعتوں ٹوری پارٹی اور لیبر پارٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

ایس این پی جماعت کی نکولا سٹرجین نے سکاٹ لینڈ کے شہر انورنیس میں کہا ’ہمیں وہ موقع ہر صورت میں حاصل کرنا ہے جس سے ٹوری پارٹی کو حکمرانی سے باہر نکالا جا سکے۔‘

یو کِپ جماعت کے رہنما نائیجل فراج نے مشرقی برطانیہ میں کینٹ میں کہا اس انتخابی مہم میں انھیں صرف ایک غلطی لگی اور وہ یہ کہ انھوں نے سوچا کہ لیبر پارٹی کے ایڈ ملی بینڈ یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ریفرنڈم کی پیشکش کریں گے۔