ملی بینڈ کے خلاف بیان، کنزرویٹو امیدوار کی رکنیت معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کی حزب اقتدار قدامت پسند جماعت کنزرویٹو پارٹی نے آئندہ انتخابات میں اپنی ایک امیدوار کی رکنیت اس لیے معطل کر دی ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایک یہودی کی جو لیبر پارٹی کے رہنما ہیں کبھی حمایت نہیں کر سکتیں۔
گلزبیں افسر جو کونسل کی ایک نسشت پر ڈربی سے آئندہ انتخابات کے لیے امیدوار تھیں اب کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔
گلزبیں نے ابتدا میں اپنے فیس بک کے صفحہ پر صرف یہ تحریر کیا تھا کہ ’وہ مسٹر ایڈ ملی بینڈ کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچ سکتیں۔‘ اس کے جواب میں ایک شخص زید امجد نے لکھا کہ انھیں مستقبل کے وزیر اعظم کی عزت کرنی چاہیے۔
جواباً گلزبیں نے لکھا کہ ’نہ بھائی، میں کبھی بھی اتنا نہیں گروں گی اور اہل یہود کی حمایت کروں۔‘
کنزرویٹو جماعت نے اس پر فوری اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا کہ متعلقہ امیدوار کی رکنیت معطل کی جا رہی ہے۔
اس بیان میں کہا گیا کہ رکنیت معطل کرنے کا فوری اقدام متعلقہ امیدوار کے ناقابل قبول اور ناگوار کلمات کی وجہ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ :’ ہماری جماعت ہر قسم کے تعصب کے خلاف ہے اور واضح طور پر ہم کسی ایسے شخص کی حمایت نہیں کر سکتے جو جماعت کی نمائندگی کرنے جا رہا ہو اور اس طرح کے عدم برداشت پر مبنی خیالات رکھتا ہو۔‘
بیگی شینکر جو ڈربی میں حکمران جماعت کے ترجمان ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ایک اقلیتی نمائندہ ہیں اور اس طرح کے کلمات مایوس کن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں گلزبیں سے اپنے کلمات کے بارے میں زیادہ محتاط رویے کی توقع تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ میں سات مئی کے عام انتخابات میں ایوان نمائندگان کے انتخابات کے علاوہ بیس ہزار مقامی کونسلروں کو بھی منتخب کیا جائے گا۔







