جمہوریت یا افراتفری؟

مصر میں صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے سیاسی استحکام نہیں آ سکا ہے
،تصویر کا کیپشنمصر میں صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے سیاسی استحکام نہیں آ سکا ہے
    • مصنف, راجر ہارڈی
    • عہدہ, ماہر برائے امورِ مشرق وسطیٰ، لندن سکول آف اکانومکس

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب صرف ایک فریبِ نظر تھا، بظاہر جمہوریت کی علمبردار عرب سپرنگ نامی تحریک نے افراتفری کے سوا کچھ نہیں دیا۔

کچھ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عرب یا مسلمان فرقہ واریت میں اس قدر گِھرے ہوئے ہیں کہ جمہوریت اُن کے بس کی بات ہی نہیں۔

حقائق پرکھنے پر یہ دونوں باتیں غلط ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بات تو واضح ہے کہ دو ہزار گیارہ کے وہ دن جب عرب عوام نے سڑکوں پر نکل کر تین آمروں کو گرا ڈالا، اب ایک یاد ہی بن کر رہ گئے ہیں۔

دو سال قبل اُن مظاہروں میں شرکت کرنے والے بہت سے افراد کی آنکھوں پر سے اب جیسے پردہ ہٹ گیا ہو۔ اُن کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ بہت سی جگہ تو اُن کی زندگی بدتر ہوئی ہے۔

تاہم یہ سوال کرنا اہم ہے کہ اس سارے معاملے میں کہانی بگڑی کیسے اور پھر اس سے کونسے درست سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

نمبر ایک: یہ نہ آسان ہونا تھا، نہ جلد ہونا تھا

سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ عرب سپرنگ ایک تقریب نہیں، کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک عملی سلسلہ ہے۔

عرب حکمرانوں اور اُن کے حامی اشرافیہ نے ایسے ہی تو مر مٹ نہیں جانا تھا۔

مغرب کا کردار تو ہونا ہی دو طرفہ تھا۔ ایک طرف وہ ان نومولود جمہوریتوں کی حمایت کر رہا تھا اور دوسری جانب اُن پرانے اقتدار کے محوروں سے بھی دور نہیں جانا چاہ رہے تھے۔

اور ایسے معاشرے جنہیں بہت عرصے تک دبایا گیا ہو اُن میں سے چند ہی روز میں مکمل طور پر تیار ایک روادار، اکثریت میں رچی بسی، انسانی حقوق کے لیے پرعزم جمہوریت کا جنم ہونے کا امکان بہت کم تھا۔

پورے خطے پر محیط یہ ایک نسل کی تحریک ہے۔

نمبر دو: اس کا کوئی مخصوص انداز نہیں۔

اب شاید ہمارے سامنے یہ واضح ہے کہ اس عمل میں مختلف حالات مختلف نتائج پیدا کرتے ہیں۔

تیونس میں فوج نے آمر کا ساتھ چھوڑ دیا اور پھر سیاسی منظر سے غائب ہوگئی۔

مصر میں اس کا الٹ ہوا۔ دو بار بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد فوج نے مداخلت کی اور حکمران کو برطرف کر دیا۔

مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد انھوں نے طاقت کا استعمال ٹھیک سے نہیں کیا۔ یہ خیال کہ فوج جمہوریت کے لیے ایک آلہ بن سکتی ہیں، شاید شروع سے ہی مشکوک تھا۔

لیبیا میں مغربی ممالک کی مداخلت نے پانسا پلٹا اور آمر کی قسمت کا فیصلہ کیا۔

شام میں مغربی ممالک مداخلت کرنے سے کترا رہے ہیں اور مقامی قوتوں کو ہی لڑ جھگڑ کر حتمی سیاسی چہرہ تیار کرنے دے رہے ہیں جس میں اب تک کسی کو صاف برتری حاصل نہیں ہے۔

اس سارے عمل کا کوئی مخصوص انداز نہیں اور اسی لیے کسی مخصوص نتیجہ کی امید بھی غلط ہوگی۔

نمبر تین: اسلام پسند قوتوں کو اب اپنی راہ چننی ہوگی

تیسرا اہم سبق یہ ہے کہ پورے خطے میں اسلام پسند قوتوں نے اقتدار کا مزہ چکھا ہے مگر سب نے اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا۔

تیونس میں انھیں سمجھ آگئی کہ وہ اکیلے حکومت نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب مصر میں انھوں نے اپنے مخالفوں کے خلاف کارروائیوں کی غلطی کر دی۔ ان کی سوچ میں دوسروں کی بے اعتباری اس قدر پختہ ہوگئی تھی کہ انھوں نے ہر طرح کی مخالفت کو بغاوت کی علامت سمجھا۔ اور پھر انھوں نے فوج کی طاقت کا ایک بار پھر غلط اندازہ لگایا جو ان کی ناکامی کی وجہ بھی بنا۔

پوری عرب دنیا میں اسلام پسند قوتیں مصر کو کس نظر سے دیکھیں گی؟
،تصویر کا کیپشنپوری عرب دنیا میں اسلام پسند قوتیں مصر کو کس نظر سے دیکھیں گی؟

تاہم یہ خیال کہ خطے بھر میں اسلام پسند قوتیں زوال پر ہیں غلط ہے۔ انھیں نقصان ضرور پہنچا ہے مگر شکست نہیں ہوئی۔

سوال یہ اہم ہے کہ وہ حالیہ واقعات سے کیا سبق اخذ کرتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ چند مصری اسلام پسند یہ مان لیں کہ وہ تمام دیگر عناصر کو اپنے مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہر سکتے، اُنھیں اقتدار ملا اور انھوں نے اسے کھو دیا۔

ادھر مصر اور شام میں شاید کچھ لوگ یہ فیصلہ کر لیں کہ جمہوریت کسی چیز کا حل نہیں اور اسلامی ریاست کا قیام تشدد کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

نمبر چار: عوامی طاقت کافی نہیں

عرب مظاہروں نے عوامی احتجاج کی طاقت اور کمزوریوں دونوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

عوام کی طاقت پر یقین پختہ ہوگیا ہے اور سیٹلائیٹ ٹی وی اور عوامی رابطوں کی ویب سائٹوں نے اس سوچ کو پذیرائی دی ہے۔ کوئی بھی ملک اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔

عرب سپرنگ نے شاید خطے میں طاقت کا توازن تو نہیں تبدیل کیا تاہم اس کے بارے میں عوامی رائے ضرور تبدیل کر دی ہے۔

یہ سوچ کی تبدیلی ہے۔

مگر افسوسناک سبق یہ ہے کہ صرف عوامی طاقت ہی تبدیلی کے لیے کافی نہیں ہے۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ عوامی احتجاج اور عوامی غصے کو ایک حقیقی اور طویل المدتی تبدیلی بنایا جائے۔

اگر یہ نہ ہو سکا تو عرب سپرنگ کی روح اور عزم ضائع ہو جائے گا۔