مصری صدر کی برطرفی پر عالمی ردعمل

مصر میں فوج کی جانب سے ملک کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی ڈرامائی برطرفی پر عالمی رہنماؤں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ برطرفی حالیہ دنوں میں جاری تعطل اور مظاہروں کے بعد فوج کی جانب سے عمل میں آئی ہے۔
فوج کی جانب سے آئین کے تعطل پر مغربی دنیا کے رہنماؤں نے محتاط بیانات جاری کیے ہیں، ان میں سے کئی رہنماؤں نے نظم و ضبط اور امن و امان بحال رکھنے اور حکومت کی پرامن منتقلی کی بات کی ہے۔ جبکہ خلیج کے کئی ممالک نے مرسی کی برطرفی کا خیر مقدم کیا ہے۔
ذیل میں بعض اہم رہنماؤں کے ردعمل پیش کیے جا رہے ہیں:
امریکی صدر براک اوباما
’ہمیں مصری فوج کی جانب سے صدر مرسی کے ہٹائے جانے اور مصری آئین کو معطل کیے جانے پر گہری تشویش ہے۔
مصری فوج سے میری درخواست ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ اور ذمہ دارانہ انداز میں عمل کرے اور جس قدر جلد ممکن ہو جمہوری طور سے منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرے اور اس میں سب کو شامل کرے اور شفافیت برقرار رکھے۔ اس کے صدر مرسی اور ان کے حامیوں کو ہراساں کرنے سے پرہیز کرنے کو بھی کہا ہے۔
آج کی پیش رفت کے تحت میں نے متعلقہ شعبوں اور ایجنسیوں کو یہ حکم دے دیا ہے کہ وہ اس صورت حال کا جائزہ لے اور امریکی قانوں کے اعتبار سے مصری حکومت کو دیے جانے والے تعاون پر غور کرے۔
جن لوگوں نے پرامن طریقے سے مظاہرہ کیا ہے ان کی آواز کو سنا جائے بشمول ان کے جنہوں نے آج کی پیش رفت کا استقبال کیا ہے اور ان کی بھی آواز کو ملحوظ نظر رکھا جائے جنھوں نے مرسی کی حمایت کی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیر خارجہ، ولیم ہیگ
’مصری صورت حال واضح طور پر خطرناک ہے اور میں تمام فریقین کو نظم ضبط برقرار رکھنے اور تشدد سے پرہیز کی درخواست کرتا ہوں۔
ایک جمہوری نظام میں تنازعات کے حل کے لیے برطانیہ فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتا۔
مصری باشندوں نے اپنے ملک کے جمہوری مستقبل کو کافی محنت کے ساتھ ڈھائی سال قبل حاصل کیا ہے۔ لیکن مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ہم تمام فریقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مصر میں جمہوری منتقلی کو قائم رکھنے اور اس کی تجدید کے لیے قیادت اور ویژن کا مظاہرہ کریں۔
ان کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ مصری عوام کی خواہشات کا احترام کریں اور تیزی کے ساتھ ملکی معیشت اور سیاسی ترقی کو ملحوظ نظر رکھیں۔
ہمارے خیال سے اس میں سیاسی عمل شامل ہونا چاہیے اور تمام فریقین کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے، تمام پارٹیوں کو انتخاب لڑنے کے لیے مساوی حقوق حاصل ہوں اور انتخابات جلدی کرائے جائيں اور ایک جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آئے۔‘
اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری، بانگی مون
’اس وقت ملک میں موجود زبردست تناؤ اور غیر یقینی کی صورت حال میں جنرل سیکریٹری عام نظم و ضبط، امن، عدم تشدد، بات چیت کی اپیل کرتے ہیں۔
اس وقت تمام مصری باشندوں کی ضرورت اور تشویش کا تدارک ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی اور اجتماع اہم ہے۔
اپنے مظاہروں کے دوران بہت سے مصریوں نے اپنے گہری بے چینی اور جائز تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا کسی بھی ملکی معاملے میں فوج کی مداخلت تشویشناک ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جلد از جلد جمہوری طریقے سے عوامی حکومت کو بحال کیا جانا چاہیے۔‘
یورپی یونیین، خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن ایشٹن
’میں تمام فریقن سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تیزی کے ساتھ جمہوری عمل کی جانب آئیں جن میں آزادانہ اور شفاف صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک آئین کی منظوری شامل ہے۔ اسے شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوری منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے۔
میں سخت الفاظ میں تمام قسم کے تشدد کی مذمت کرتی ہوں اور مظاہرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں اور سیکوریٹی فورسز سے تمام مصری شہریوں جان و مال کی حفاظت کی درخواست کرتی ہوں اور تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ ضبط کے مظاہرے کی اپیل کرتی ہوں۔‘
سعودی بادشاہ، شاہ عبداللہ
’سعودی عرب کی عوام کی جانب سے اور اپنی طرف سے ہم مصری تاريخ کے اس نازک دور میں آپ کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد کرے تاکہ اپ پر جو ذمہ داری ہے اسے آپ نبھا پائیں اور اپنے ملکی مصری باشندوں کی خواہشات کا احترام کر سکیں‘
غزہ سے حماس کے رکن پارلیامان، یحیی موسی
حماس تحریک مصری معاملات میں دخل نہیں دیتی اس لیے مصری فوج کی جانب سے صدرمرسی کی برطرفی پر ہمیں کچھ نہیں کہنا ہے۔‘
متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عالی قدر عبداللہ بن زیاد النہاین کو پورا یقین ہے کہ مصری عوام اس مشکل گھڑی سے نکل آئیں گے۔
شیخ عبداللہ نے کہا ہے کہ مصر کی عظیم الشان فوج نے پھر سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ مصر کے دفاع کرنے والے ہیں اور ملک کے محافظ ہیں اور اس بات کی ضمانت ہیں کہ مصر ایک ادارے اور قانون کا ملک برقرار رہے۔‘
شامی صدر، بشار الاسد
مصر میں جو ہو رہا ہے وہ مبینہ سیاسی اسلام کا سقوط ہے۔ یہی دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کا مقدر ہے جو مذہب کو سیاست اور فرقہ واریت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘







