’اگر ہم کھنڈرات اور اس موجودہ رجیم کے ساتھ رہ گئے تو کیا ہو گا:‘ ایران میں طویل ہوتی جنگ سے مایوس شہریوں کے خدشات

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہم نے سوچا تھا کہ وہ تمام سینیئر شخصیات کو قتل کر دیں گے اور حکومت دنوں میں گر جائے گی، لیکن ہم اب دوسرے ہفتے میں ہیں اور ہر رات میں دھماکوں سے جاگتے ہیں۔‘
یہ الفاظ ہیں تہران کے ایک رہائشی کے جنھوں نے شروع میں جنگ کی حمایت کی، لیکن بی بی سی سے گفتگو کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ اب مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
کچھ ایرانیوں نے قیادت میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہوئے ابتدا میں اس جنگ کی حمایت کی تھی اور انھیں اُمید تھی کہ اس سے سیاسی تبدیلی آئے گی۔ لیکن اب ان کی اُمید ایک تکلیف دہ منظر نامے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
بعض ایرانی شہری اب بھی یہ دلیل دے رہے ہیں کہ بیرونی فوجی دباؤ ہی نظام کو کمزور کرنے کا واحد حقیقت پسندانہ طریقہ ہو سکتا ہے۔
بہت سے اسرائیلی اور امریکی حکام نے اس مہم کو بڑی حد تک ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں اور خطرات کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کچھ لوگوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ حتمی مقصد حکومت کی تبدیلی ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہمیں اُمید تھی کہ بیرونی دباؤ تبدیلی لا سکتا ہے‘
ایران کے علما کی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ ناقدین کے لیے یہ تجویز ابتدائی طور پر اُمید افزا تھی۔ وہ اُمید کر رہے تھے کہ بیرونی دباؤ اس تبدیلی کو تیز کر سکتا ہے۔
اس کے باوجود ملک کے اندر کچھ ایرانیوں کے ساتھ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ اب صورتحال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنازع شروع ہونے کے بعد سے صحافیوں کے لیے ایران کے اندر لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ حکام نے 28 فروری کے بعد سے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔
مواصلاتی پابندیوں کے باوجود، بی بی سی متعدد ایرانیوں سے بات کرنے میں کامیاب رہا جو حکومت کی مخالفت کرتے ہیں اور جنھوں نے ابتدائی طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خیال کی مخالفت نہیں کی تھی۔
خاص طور پر ایک اور بغاوت کی کوشش اور ملک گیر مظاہروں کے بعد جو اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کا سب سے بدترین احتجاجی کریک ڈاؤن بن گیا تھا۔
ان شہریوں کے نام ان کی حفاظت کے لیے تبدیل کیے گئے ہیں، کیونکہ ایران میں اختلافِ رائے کا اظہار گرفتاری یا قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔
’لوگ خوفزدہ ہیں کہ کسی بھی وقت ان کا محلہ نشانہ بن سکتا ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تہران میں ایک 31 سالہ انجینیئر ساما نے کہا کہ جب ہڑتالوں کی خبر پہلی بار آئی تو انھیں امید کا ایک لمحہ محسوس ہوا۔
اُنھوں نے کہا کہ ہم نے برسوں سے احتجاج کیا ہے، ’جب بھی وہ ہمیں خاموش کرتے ہیں، وہ ہمیں مار دیتے ہیں۔ جب ہڑتالیں شروع ہوئیں تو میں نے سوچا کہ اب یہ حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔‘
سما نے کہا کہ اُنھوں نے یہاں تک کہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ جشن منایا جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’جب اس خبر کی تصدیق ہوئی تو میں خوشی سے چیخ رہی تھی۔‘ لیکن تنازع کے دو ہفتے بعد اُن کے بقول ان کے اردگرد اور بہت سے لوگوں کا مزاج بدل گیا ہے۔
سما کہتی ہیں کہ ’اب میں دیکھتی ہوں کہ کچھ لوگ خوفزدہ ہیں اور جن لوگوں کو میں جانتی ہوں، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب کسی بھی وقت ان کا محلہ بھی نشانہ بن سکتا ہے۔‘
’میں سو نہیں سکتی، دھماکوں کی آواز سے آنکھ کھل جاتی ہے یا جنگ کے حوالے سے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔‘
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق چھ لاکھ سے 10 لاکھ کے درمیان ایرانی گھرانے بے گھر ہو چکے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اس سے انسانی ضروریات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک شمالی شہر میں 28 سالہ ٹیچر مینا نے کہا کہ وہ اب بھی حکمران مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا خاتمہ چاہتی ہیں لیکن جنگ کے طویل المدتی نتائج سے خوفزدہ ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ یہ جنونی حکومت ہمارے لیے یہ جنگ لے کر آئی۔‘
مینا کہتی ہیں کہ ’جب آپ بڑے پیمانے پر آگ دیکھتے ہیں اور دھماکوں کی آوازیں سنتے ہیں، جب آپ چھوٹے بچوں کو خوفزدہ اور روتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو آپ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کیا یہ اس ملک کو برباد کر سکتا ہے جس سے آپ محبت کرتے ہیں اور رہتے ہیں۔‘
مینا کہتی ہیں کہ کچھ دوست جنھوں نے کبھی حکومت کے خاتمے کے امکان پر کھل کر بات کی تھی، جنگ جاری رہنے اور بہت سے اعلی عہدے داروں کے اپنی جگہ پر رہنے کی وجہ سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم کھنڈرات اور انھیں مذہبی رہنماؤں اور اسی حکومت کے ساتھ رہ جائیں تو کیا ہو گا؟ کیا ہمیں پھر سے جبر کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
31 سالہ دکاندار علی جو جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ عدم استحکام اور اندرونی تنازع کے امکان کی وجہ سے پریشان ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہر کوئی حکومت کی تبدیلی کے بارے میں بات کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اقتدار کون سنبھالے گا اور ملک کو افراتفری میں پڑنے سے کون روکے گا، اگر وہ حکومت گرانے میں کامیاب ہو بھی جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علی کا کہنا تھا کہ غیر یقینی صورتحال ان لوگوں پر بھی بھاری پڑتی ہے جو حکومت کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’میں آزادی چاہتا ہوں۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ یہ سب ختم ہونے پر ملک قائم رہے۔‘
کچھ لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ جب احتجاج اور اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی بات آتی ہے تو جنگ نے حکام کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کیا ہے۔
27 سالہ گرافک ڈیزائنر فاطمہ نے کہا کہ بیرونی حملے اکثر ’دشمن‘ کے بارے میں حکومت کے دیرینہ بیانیہ کو تقویت دیتے ہیں۔
اُن کے بقول وہ عوام کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھا؟ ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ سب دُشمن کا منصوبہ ہے۔ کیونکہ تنقید غداری بن چکی ہے اور وہ اسے اپنے لوگوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
فاطمہ کہتی ہیں کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے سڑکوں پر نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں معنی خیز اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کے لیے بات کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
اصفہان کے مرکزی شہر میں ایک 40 سالہ انجینیئر رضا نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ بیرونی دباؤ نہ صرف ضروری ہے بلکہ واحد قابل عمل راستہ ہے۔
اُنھوں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ تبدیلی اندر سے آنی چاہیے، گویا ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔ دو ماہ پہلے کئی لوگ مارے گئے تھے۔
کچھ کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے اقتدار میں رہنے کی قیمت جنگ کی لاگت سے زیادہ ہو گی۔
جنوبی صوبے خوزستان میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر میلاد نے کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ حکومت کی پالیسیاں اگر برقرار رہیں تو اس سے بھی بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔












