مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

جی پی ایس جیمنگ، مشرق وسطیٰ

،تصویر کا ذریعہWindward

،تصویر کا کیپشنجی پی ایس جیمنگ کی وجہ سے ایرانی ساحل کے قریب موجود بحری جہاز پانیوں کی بجائے زمین پر نظر آ رہے ہیں
    • مصنف, کرس بارنیئک
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر، بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

یہ منظر اِن سینکڑوں بحری جہازوں کا ہے جو غلط جگہ پر نظر آ رہے ہیں۔

میری ٹائم اے آئی کمپنی ونڈورڈ میں بحری انٹیلیجنس کی تجزیہ کار مشیل ویز بوکمین ایران، متحدہ عرب امارات اور قطر کے پانیوں میں کمرشل جہازوں کی لائیو پوزیشنز دیکھ رہی تھیں جب یہ منظر دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوئیں۔

آبنائے ہرمز اور قریبی علاقوں کا نقشہ دیکھتے ہوئے انھوں نے 35 مختلف کلسٹرز کی نشاندہی کی۔

ان کلسٹرز سے مراد نقشے پر پھیلے عجیب و غریب دائرے ہیں جو وہاں موجود ایک اصل بحری جہاز کی نشاندہی کرتے ہیں۔

لیکن بحری جہاز ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں ہوتے اور وہ نہ ہی کسی جھنڈ کی طرح دائروں میں جمع ہوتے ہیں اور وہ نہ ہی تیرتے تیرتے زمین پر پہنچ جاتے ہیں جہاں اکثر کلسٹرز دیکھے جا سکتے ہیں۔

دراصل ان جہازوں کے جی پی ایس کوارڈینیٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور ان کی اصل لوکیشن چھپائی گئی۔

سمندر کے اس نظام میں جی پی ایس جیمنگ کی گئی ہے جو کہ بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسمندر کے اس نظام میں جی پی ایس جیمنگ کی گئی ہے جو کہ بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

جنگیں صرف گولیوں اور بموں کے ساتھ نہیں لڑی جاتیں۔ ان میں الیکٹرو میگنیٹک ویوز کے ساتھ بھی لڑا جاتا ہے۔

جی پی ایس جیمنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر سمندری سفر میں خلل پیدا کیا جا سکتا ہے، مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر یہ بڑے حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حالیہ برسوں کے دوران یورپ میں جی پی ایس جیمنگ نے پروازوں کو متاثر کیا۔ ان میں سے ایک جہاز یورپی کمیشن کی صدر کے زیرِ استعمال تھا۔ یوکرین جنگ کے دوران اس کا روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہو رہا ہے۔

مگر اب جبکہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی جاری ہے تو الیکٹرانک وارفیئر دیگر خطوں میں بھی پھیل رہی ہے۔

اب جی پی ایس جیمنگ آبنائے ہرمز کے گرد بحری جہازوں کو متاثر کر رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ بحری انٹیلیجنس کی تجزیہ کار مشیل ویز بوکمین نے پہلی بار بحری جہازوں کے آٹومیٹک آئیڈنٹیفیکیشن سسٹم (اے آئی ایس) پر جی پی ایس جیمنگ کے اثرات دیکھے ہوں۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان گذشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بحیرہ بالٹک میں بھی الیکٹرانک مداخلت کی گئی تھی تاہم وہ کہتی ہیں کہ اس بار یہ بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

بوکمین کا کہنا ہے کہ ’سمندری نیویگیشن اور تحفظ کے لیے یہ کتنا بڑا خطرہ ہے، ہم اس بارے میں مبالغہ آرائی بھی نہیں کر سکتے۔‘

پاکستان کے نیشنل ہائیڈرو گرافک آفس نے بھی خطے میں الیکٹرانک مداخلت اور بحری جہازوں کی آمدورفت پر اس کے اثرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ اس نے نشاندہی کی تھی کہ خلیجِ عمان میں فجیرہ آف شور علاقوں میں سگنل اور اے آئی ایس کے نظام میں مداخلت کی گئی۔

اے آئی ایس نظام استعمال کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بحری جہاز ایک دوسرے سے دور تیرنا چاہتے ہیں۔ ہزاروں ٹن تیل لے جانے والے 300 میٹر طویل ٹینکر کو مڑنے یا رُکنے میں کافی وقت لگتا ہے جبکہ پوری طرح اپنے مقررہ راستے پر گامزن ہونے سے پہلے سمندری جہاز ممکنہ طور پر کئی کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قریب دوسرے جہاز کہاں ہیں تو تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص کر رات کے وقت یا کم حد نگاہ کی صورت میں۔

یونیورسٹی آف سری کے ایلن وڈوارڈ کا کہنا ہے کہ ’مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ دوسرے جہاز کس طرف جا رہے ہیں۔‘

سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ جیمنگ کے پیچھے کون ملوث ہے تاہم عسکری امور کے ماہرین کو شک ہے کہ ایران جہازوں کی آمدورفت میں خلل ڈال رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔

تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے منسلک تھامس ودنگٹن کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران مقامی سطح پر تیار گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (جی این ایس ایس) یا جی پی ایس جیمنگ کے ٹولز استعمال کر رہا ہے، یا اس کے لیے روس یا چین سے سامان حاصل کیا گیا۔

انھوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ امریکی فورسز خطے میں اپنے اڈوں، فوجیوں اور جہازوں کو ڈرونز اور جی این ایس ایس کی مدد حاصل کرنے والے ہتھیاروں سے بچانے کے لیے جیمنگ کا سہارا لے رہی ہیں۔

رابطہ کیے جانے پر امریکی محکمۂ جنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آپریشنل سکیورٹی کی خاطر ہم خطے میں اپنی مخصوص صلاحیتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

شان گورمن نے جی پی ایس جیمنگ کی شناخت کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہZephr.xyz

،تصویر کا کیپشنشان گورمین نے جی پی ایس جیمنگ کی شناخت کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے ہیں

ٹیکنالوجی کمپنی زیفر ڈاٹ ایکس وائے زی (Zephr.xyz) کے شریک بانی شان گورمین نے یوکرین سمیت دیگر ملکوں میں جیمنگ کا جائزہ لیا۔

ڈیٹا سے یہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ کب کب جی پی ایس جیمنگ کی جا رہی ہے لیکن اب جبکہ ایران کی فضائی حدود بند ہے تو گورمین نے دیگر ذرائع تلاش کیے ہیں۔

حالیہ دنوں کے دوران انھوں نے سیٹلائٹ کا ریڈار ڈیٹا استعمال کر کے ایران میں جیمنگ کی تشخیص کی۔ بی بی سی اس ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

لیکن گورمین کا کہنا ہے کہ جیمنگ ڈیوائسز ریڈار سگنل میں الیکٹرانک مداخلت کے شواہد چھوڑ جاتی ہیں۔ اس سے وہ ملک بھر میں یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ کہاں کہاں جی پی ایس جیمنگ ہو رہی ہے۔

سنہ 2024 کے دوران انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یوکرین میں جی پی ایس جیمنگ پر تحقیق کرنے کے لیے ڈرونز پر سمارٹ فونز باندھ دیے تھے۔

ڈرونز کی پرواز کے دوران سمارٹ فونز نے جی پی ایس معلومات ریکارڈ کی اور پھر نقشے پر ان جگہوں کی نشاندہی کی جہاں مداخلت ہو رہی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ فونز کے ریکارڈ سے آپ یہ بھی پتا لگا سکتے ہیں کہ جیمر کہاں موجود ہے۔ گورمین کہتے ہیں کہ ’میں جیمنگ کی اس سطح سے حیران ہوا تھا کہ یہ کتنا طاقتور (ہتھیار) ہے۔‘

ایسی ٹیکنالوجی بھی دستیاب ہے جو جی پی ایس جیمنگ سے تحفظ دیتی ہیں۔ مثلاً اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے غیر متاثرہ فریکوئنسی پر منتقل ہوا جا سکتا ہے یا جیمنگ کی نشاندہی کرنے والے خودکار نظام کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

برطانوی دفاعی کمپنی ریتھیون یو کے ’لینڈ شیلڈ‘ نامی ڈیوائس بناتی ہے جو اپنی سب سے چھوٹی قسم میں ایک گیند جتنی ہوتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گاڑیوں سے لے کر جہازوں تک اس اینٹی جیم انٹینا سسٹم کو نصب کیا جا سکتا ہے اور یہ جیمنگ سے بچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہے۔

ریتھیون یو کے میں انجینیئرنگ ڈائرکٹر الیکس روز پارفٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی اینٹی جیمنگ مصنوعات کی طلب اور صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دیگر کمپنیوں نے ایسے نیویگیشن ٹولز تیار کیے ہیں جو جی پی ایس کی خامیاں دور کرتے ہیں۔ آسٹریلیا میں قائم کمپنی ایڈوانسڈ نیویگیشن نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو جائرو سکوپس اور ایکسیلرومیٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر کسی گاڑی کی پوزیشن کا تعین کر سکتا ہے۔ ایکسیلرومیٹر وہی آلات ہیں جو آپ کے سمارٹ فون میں بھی استعمال ہوتے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ اسے ایک طرف گھمایا گیا یا نہیں۔

جہاں تک علاقائی پوزیشن کی بات ہے تو ایڈوانسڈ نیویگیشن کے شریک بانی اور سی ای او کرس شا کہتے ہیں کہ جب جی پی ایس دستیاب نہ ہو یا ناقابلِ اعتماد ہو جائے تو ان کی کمپنی متبادل ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔

اس میں مقام کے تعین کے لیے آپٹیکل تصاویر اور سیٹلائٹ کی تصاویر کی میچنگ کی جاتی ہے یا پھر ستاروں کی پوزیشن کا کمپیوٹر کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے۔

کرس شا کہتے ہیں کہ ’امیج پروسیسنگ بہت جدید ہے۔‘

اگرچہ ان کے بقول سٹار میپنگ بہت سستا ہے تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں اتنی درستی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقام اور پوزیشن معلوم کرنے کے لیے بیک وقت کئی طریقوں کا استعمال ضروری ہوسکتا ہے۔

جی پی ایس کی متبادل ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAdvanced Navigation

،تصویر کا کیپشنجی پی ایس کی متبادل ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے

تحفظ کے نظام میں خامیوں کے باعث موجودہ جی پی ایس نظام کمزور رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جی پی ایس سسٹمز کے سگنلز بہت کمزور ہوتے ہیں اور انھیں جیم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ افواج کے پاس ’ایم کوڈ‘ جی پی ایس تک رسائی ہوتی ہے جو ایک مستند اور خفیہ نوعیت کا سسٹم ہے جسے جیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

رائل انسٹیٹیوٹ فار نیویگیشن کے ڈائریکٹر ریمزی فیراگر کہتے ہیں کہ ایران کے پانیوں کے قریب جی پی ایس جیمنگ سے سمندری حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انھیں لگتا ہے کہ جیمنگ کے بڑھتے واقعات کے باعث نسبتاً محفوظ متبادل نظام کی طرف منتقلی ہو سکتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پہلے کی نسبت اب وائی فائی مفت اور باآسانی رسائی کے قابل نہیں اور انھیں پاسورڈ کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم جلد اس دور کو یاد کریں گے جب ہم جی این ایس ایس سگنلز استعمال کر رہے تھے۔ ہم پھر سوچیں گے کہ یا خدا! ہم کتنے احمق تھے۔ یہ بالکل سمجھ دارانہ قدم نہیں تھا۔‘