حزب اختلاف کا صدر مرسی پر دباؤ برقرار

مصر میں احتجاجی گروپ کی جانب سے صدر مرسی کو اقتدار چھوڑنے کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی صدر کے حامی اور مخالفین دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
حزب اختلاف کی تحریک تمرد یعنی’باغی‘ نے صدر مرسی کو مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام پانچ بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صدر مرسی اقتدار سے الگ نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔
یہ الٹی میٹم پیر کو جاری کیا گیا تھا اس کے بعد مصری فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی۔
صدر مرسی نے فوج کے بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا اس سے ابہام پیدا ہوگا۔ انہوں نے فوج کی جانب سے دی گئی اڑتالیس گھنٹوں کی مہلت کو مسترد کر دیا۔صدر کا اصرار ہے کہ وہ قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے اپنا لائحہِ عمل جاری رکھیں گے۔
تاہم مصری فوج نے بعد میں اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد فوجی بغاوت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں میں موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دینا ہے۔
دوسری جانب ریاستی خبر رساں ادارے مینا نے منگل کی صبح بتایا کہ وزیرِ خارجہ محمد کامل امر مستعفی ہو گئے ہیں۔
استعفٰی منظور ہونے کی صورت میں وہ چھٹے وزیر ہوں گے جنہوں نے ملک میں جاری احتجاج کے پیشِ نظر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔اطلاع ہے کہ منگل کو صدر اور کابینہ کے ترجمان نے بھی استعفٰی دے دیا ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے صدر مرسی سے اپیل کی کہ وہ اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کی عدالتِ عالیہ نے بھی صدر مرسی کی جانب سے مقرر کیے جانے والے پراسیکیوٹر جنرل کو برخاست کرنے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے۔
گذشتہ چند روز میں قاہرہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
صدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کروڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں۔
مظاہروں کے شروع ہونے کے ایک روز بعد قاہرہ میں صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے مرکزی دفاتر پر حملہ کیا گیا۔ اخوان المسلمین کے دفتر کے باہر ہونے والے تصادم میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اخوان المسلمین صدر مرسی کی جماعت ہے۔
اس سے قبل تحریر سکوائر سے بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول نے بتایا کہ’مظاہرے میں شامل بہت سے افراد کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صدر مرسی نے انھیں دھوکہ دیا۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ صدر مرسی کو مصری عوام کو متحد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی حالانکہ انھوں نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر کا اندازِ حکومت صرف اپنی پارٹی کے مفادات کو سامنے رکھتا ہے۔‘
’دوسری جانب صدر مرسی کا اس بات پر اصرار ہے کہ انھوں نے حزبِ مخالف کے گروہوں کو مشاورت کی دعوت تو دی ہے مگر انھوں نے تعاون نہیں کیا۔ صدر کے حامی کہتے ہیں کہ مصر میں جو بھی بڑے بڑے مسائل ہوں، استحکام کے لیے صدر مرسی کو اپنی مدت مکمل کرنی چاہیے۔‘
اس سے قبل اپنی صدارت کے ایک سال کے موقع پر صدر مرسی نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بے اطمینانی کے اظہار سے’مصر کے مفلوج ہونے کا خطرہ‘ ہے۔
مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراؤٹ کی زد میں رہا۔







