،تصویر کا کیپشنمصر میں احتجاجی گروپ کی جانب سے صدر مرسی کو اقتدار چھوڑنے کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی صدر کے حامی اور مخالفین دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف کی تحریک تمرد یعنی’باغی‘ نے صدر مرسی کو مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام پانچ بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صدر مرسی اقتدار سے الگ نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی
،تصویر کا کیپشنیہ الٹی میٹم پیر کو جاری کیا گیا تھا اس کے بعد مصری فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی
،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند روز میں قاہرہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کیا تھا
،تصویر کا کیپشنصدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کروڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں
،تصویر کا کیپشنمصر میں صدر مرسی کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی کا شکار رہا ہے
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا مطالبہ ہے کہ محمد مرسی اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں اور ملک میں نئے انتخابات منعقد کیے جائیں
،تصویر کا کیپشنقاہرہ میں اخوان الملسمین کے مرکزی دفتر میں سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنصدر مرسی کے حامیوں نے بھی ان کے حق میں ریلی نکالی۔ یہ منظر قاہرہ کے مضافاتی قصبے میں ایک جلوس کا ہے
،تصویر کا کیپشنمرسی 30 جون سنہ 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے