فوج کا احتساب اور جرنیلوں کی برطرفیاں: لاکھوں اہلکاروں کو سزائیں دینے کے باوجود صدر شی کی بدعنوانی کے خلاف مہم کیوں جاری ہے؟

Chinese President Xi Jinping

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشی جن پنگ کی وسیع پیمانے پر انسدادِ بدعنوانی مہم نے ان کے دورِ اقتدار کو متعین کر دیا ہے
    • مصنف, یویٹ تان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
    • مقام, Singapore
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ایک پورے ہفتے تک ہزاروں مندوبین بیجنگ کے وسیع و عریض پیپلز گریٹ ہال میں داخل ہوتے رہے تاکہ چین کے سیاسی کیلنڈر کے سب سے اہم اجلاسوں میں سے ایک میں شریک ہوں۔

شی جن پنگ کی مضبوط قیادت میں جمعرات کو اختتام پذیر ہونے والی نیشنل پیپلز کانگریس، ہر سال یہ اعلان کرتی ہے کہ چین کس سمت جا رہا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا منصوبہ کیا ہے۔

لیکن اس بار نہایت منظم انداز میں ترتیب دیے گئے اجلاس سے شی کے بعض سابقہ قابلِ اعتماد ساتھی اور دیگر اعلیٰ حکام غائب تھے۔ تقریباً 100 مندوبین افتتاحی اجلاس میں موجود نہ تھے، سب حالیہ برطرفیوں کی لہر کی نذر ہو گئے۔

یہ خالی نشستیں اس مستحکم اور متحدہ طرزِ حکمرانی سے مختلف کہانی سناتی ہیں جسے شی اور چینی کمیونسٹ پارٹی پیش کرنا چاہتے ہیں۔

یہی سب سے واضح ثبوت ہیں شی جن پنگ کی وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کے، جو سنہ 2012 میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری بننے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

ایک دہائی سے زیادہ گزرنے کے باوجود اس کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے مگر ایسا کیوں؟

یہ بدعنوانی ہے، بالکل سیدھی اور سادہ

سنہ 2012 میں بدعنوانی واقعی چین میں ایک بڑا مسئلہ تھی۔

کنگز کالج لندن کے پروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی ایک وسیع ادارہ ہے، جس کے 10 کروڑ سے زیادہ ارکان اور لاکھوں افسران ہیں۔ ’لہٰذا یہ حیرت کی بات نہیں کہ کچھ لوگ غلطیاں کریں یا بدعنوان ہوں‘۔

پھر بھی، بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔

کیری براؤن کا کہنا ہے کہ افسران کو زیادہ تنخواہ نہیں ملتی اور نظام ایک چھوٹی سیاسی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے جس کے پاس بے پناہ طاقت ہے۔

شی جن پنگ کے پیش رو ہوجن تاؤ نے بدعنوانی کو ایک تباہ کن چیلنج قرار دیا تھا، جس کے بارے ان کی رائے تھی کہ ’یہ مرض پارٹی کو عوام کی حمایت سے محروم کر دے گی۔ اسی لیے شی نے اسے ختم کرنا اپنا مشن بنا لیا۔‘

The closing session of the National People's Congress at the Great Hall of People in Beijing, China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیشنل پیپلز کانگریس میں ہزاروں مندوبین موجود تھے لیکن زیادہ معنی خیز بات یہ تھی کہ کون موجود نہیں تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد ایک سلسلہ وار اور حیران کن گرفتاریاں سامنے آئیں۔ سنہ 2013-2012 میں خردبرد اور قتل کے ایک سکینڈل نے بو شی لائی کا پتا صاف کیا، جو پارٹی کا ابھرتے ہوئے ستارے اور شی جن پنگ کے بڑے حریف سمجھے جاتے تھے۔

سنہ 2014 میں چین کے وسیع سکیورٹی نظام کے سابق سربراہ کو گرفتار کیا گیا اور دو سال بعد ہوجن تاؤ کے سب سے قریبی ساتھی کو بدعنوانی کے الزام میں عمر قید کی سزا ملی۔

وزرا سے لے کر دیہاتی سربراہوں تک کوئی بھی شی کی ’شیر اور مکھیاں‘ مہم سے محفوظ نہیں رہا یعنی اعلیٰ اشرافیہ اور نچلی سطح کے افسران دونوں۔ نتیجہ یہ نکلا گذشتہ 14 برسوں میں لاکھوں اہلکاروں کو سزا دی گئی، برطرف کیا گیا یا جیل بھیجا گیا۔

پروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’حیرت کی بات یہ نہیں کہ لوگ رشوت یا ناجائز فائدے لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسا نہیں کرتے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ان میں سے کئی افراد کو بدعنوانی کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے، بالکل سیدھی اور سادہ بات۔‘

صرف 2025 میں ہی چین کے انسدادِ بدعنوانی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 لاکھ افراد کو سزا دی گئی۔ رواں سال جنوری میں ریاستی میڈیا کے مطابق 10 ’شیروں‘ کی بھی خبر لی گئی۔

تاہم کیری براؤن اعداد و شمار کے بارے میں محتاط ہیں۔ ان کے مطابق ’سزا دیے جانے کا مطلب صرف ڈانٹ کھانا بھی ہو سکتا ہے، یا ایک سخت نوٹس کا ملنا کہ دوبارہ ایسا نہ کریں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیل میں ڈال دیا جائے اور پارٹی سے نکال دیا جائے۔‘

لیکن ہر سرزنش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ انسدادِ بدعنوانی مہم شی کے لیے کس قدر مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے پارٹی کو نظم و ضبط میں لانے کی کوشش کی۔‘

Visitors read the statements of repentance written by some of the fallen top corrupted officials, while the pictures of six highest ranking corrupted officials are displayed, (from upper left to right) Zhou Yongkang, Bo Xilai, Guo Boxing, Xu Caihou, Sun Zhengcai, and Ling Jihua

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبو شی لائی اُن کئی اعلیٰ حکام میں شامل تھے جنھیں بدعنوانی کے الزام میں سزا دی گئی

برلن میں قائم تھنک ٹینک مرکس کے مطابق نظام سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنا مشکل ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ پہلے فوج میں پہلی بار تطہیر کے بعد بھی ’عہدے اور اگلے عہدوں پر ترقی کے لیے رشوت عام تھی۔‘

پروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’جب آپ کے پاس احتساب اور توازن کا وہ نظام نہیں ہوتا جو پارٹی کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے تو بدعنوانی سے نمٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی حقیقی بیرونی ذریعہ نہیں جو اسے قابو میں رکھ سکے۔‘

مرکس کی محقق ہیلینا لیگارڈا کہتی ہیں کہ یقیناً پارٹی کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق ’نئے کیسز سامنے آنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ کھودتے ہیں، اتنے ہی مسائل بڑھ جاتے ہیں۔‘

لیکن یہ تطہیر کی مکمل کہانی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسے رہنما ہیں جو پارٹی اور ملک پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

طاقت، وفاداری اور وراثت

ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے نیل تھامس کہتے ہیں کہ ’شی کی انسدادِ بدعنوانی مہم ہمیشہ بدعنوانی اور سیاست دونوں کے بارے میں رہی ہے۔ یہ پارٹی کو زیادہ مؤثر حکومتی مشین بنانے اور سیاسی مخالفین کو ہٹانے کا ایک ہتھیار ہے۔‘

پروفیسر کیری براؤن اسے ’ایک طرح کی کارپوریٹ صفائی، ایک انتظامی آلہ، جو لوگوں کو چوکس رکھتا ہے‘ قرار دیتے ہیں۔

شی کے دور میں چین ایک عالمی اقتصادی قوت بن چکا ہے، جس نے اس کی جغرافیائی سیاسی حیثیت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ اربوں ڈالر جدید چِپس، مصنوعی ذہانت اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں لگائے جا رہے ہیں، وہ کلیدی شعبے جو دنیا میں بیجنگ کی پوزیشن اور امریکہ کے ساتھ اس کی دوڑ کے نتیجے کا تعین کریں گے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اضافہ انہی شعبوں میں ہوا ہے جنھیں حکومت سے زیادہ مالی معاونت مل رہی ہے، جیسے ٹیکنالوجی یا فوجی معاہدے۔ کیونکہ یہی وہ شعبے ہیں جنہیں شی اور اعلیٰ قیادت نے نہایت اہم قرار دیا ہے، اس لیے ان سے جڑی بدعنوانی کو خاص طور پر سنگین سمجھا جاتا ہے۔

کیری براؤن کہتے ہیں: 'قیادت کا خیال ہے کہ اگر پارٹی منظم نہ رہی، اگر وہ پیغام پر نہ رہی اور اگر وہ متحد نہ رہی، تو وہ دنیا کی تقریباً تمام دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح تقسیم اور چیلنج کا شکار ہو جائے گی اور یہ خطرہ وہ مول نہیں لے سکتے۔‘

مبصرین کے مطابق شی کے لیے بدعنوانی ایک وسیع اصطلاح بن چکی ہے جو صرف رشوت یا ناجائز فائدے ہی نہیں بلکہ نظریاتی کمزوری، چین کے عزائم سے عدم وابستگی اور سب سے بڑھ کر بے وفائی کو بھی شامل کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ شی کے بڑے خوف کو جنم دیتا ہے یعنی ایک بے قابو پارٹی چین کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک اور بڑی کمیونسٹ طاقت، سابق سوویت یونین کے ساتھ ہوا تھا، جس کے زوال کا ذکر وہ اکثر کرتے ہیں۔ ایسے کسی زوال کا امکان ان کے دور میں ان کی طاقت اور ان کی میراث دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

Zhang and He at the 2023 NPC session

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن اعلیٰ فوجی جنرلز ژانگ یو شیا (بائیں) اور ہہ وی ڈونگ کو حالیہ عرصے میں برطرف کر دیا گیا

جنوری میں شی نے حکام کو خبردار کیا کہ وہ ’چھپنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے‘ کیونکہ ’بدعنوانی کے خلاف جنگ ایک ایسا معرکہ ہے جسے پارٹی ہارنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور کبھی ہارنا نہیں چاہیے۔‘

اگر یہ وجودی خطرے کی طرح لگتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے۔ پروفیسر کیری براؤن کہتے ہیں کہ ’یہ انتخابات ہارنے جیسا نہیں، بلکہ سب کچھ کھو دینے جیسا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی اپنی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔‘

سادہ الفاظ میں، دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، شی طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں اور ان کی تاریخی تیسری مدت اگلے سال ختم ہو رہی ہے۔

جبکہ چین کا عالمی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے، شی ایک سست ہوتی معیشت اور نوجوانوں کی بے چینی سے بھی نبرد آزما ہیں۔ اسی لیے اتحاد، حب الوطنی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کو ’قومی احیاء‘ کے لیے ضروری قرار دینا محض نعرہ نہیں ہے۔

یہ مسلسل کوشش بھی ہے کہ کنٹرول برقرار رکھا جائے اور ہر ممکن خطرے یا چیلنج کو دور رکھا جائے۔

بقا

فوج میں یہ سب سے زیادہ واضح ہے۔

سنہ 2012 میں شی نے سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا، جو مسلح افواج کا سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ اس کے بعد کے برسوں میں انھوں نے پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی ساخت کو ازسرِ نو ترتیب دیا اور اسے براہِ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

نیل تھامس کے مطابق ’تطہیری کارروائیاں ہر سطح پر بڑھ گئی ہیں، لیکن پی ایل اے اس میں سب سے نمایاں ہے۔ اس کی زیادہ تر اعلیٰ قیادت شی کی تیسری مدت کے دوران تادیبی کارروائیوں سے ختم ہو گئی ہے۔ یہ کارروائیاں حقیقی بدعنوانی سے شروع ہوئیں لیکن بعد میں سیاسی بے وفائی کے شبہات تک پھیل گئیں۔‘

سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سینٹر کے مطابق پی ایل اے کی تقریباً 52 فیصد قیادت متاثر ہوئی ہے۔

سب سے بڑی کارروائی 2025 کے آخر میں ہوئی، جب نو اعلیٰ جنرلز، بشمول ہہ وی ڈونگ اور میاؤ ہوا جو دونوں سی ایم سی میں شامل تھے، کو ’انتہائی بڑی رقم اور نہایت سنگین نوعیت کے جرائم‘ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

پھر جنوری میں ریاستی میڈیا کے مطابق چین نے جنرل لیو ژین لی اور ژانگ یو شیا کو ’ضابطے اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ پر برطرف کر دیا۔ ژانگ، جو شی کے قریبی فوجی اتحادیوں میں سے ایک تھے، سی ایم سی کے نائب چیئرمین تھے۔

یہ طاقتور ادارہ، جس کی قیادت شی کرتے ہیں، اب سات افراد سے گھٹ کر صرف دو پر مشتمل رہ گیا ہے جن میں شی بھی شامل ہیں۔

ہیلینا لیگارڈا کہتی ہیں کہ ’ژانگ اور لیو کی برطرفی کے بعد سرکاری بیانیہ واضح کرتا ہے کہ ان کی برطرفیاں سیاسی نوعیت کی تھیں اور شی اور ان کے مقاصد کے ساتھ وفاداری کی کمی، خواہ حقیقی یا تصوراتی پر مبنی تھیں۔‘

Collage showing the change in the CMC. Top picture is from 2023, followed by 2025 and 2026

،تصویر کا ذریعہCCTV

وفاداری پر زور اس بات کی علامت ہے کہ ذاتی بقا سب سے اہم ہے۔

برائن ہارٹ اپنی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ شی جانتے ہیں کہ پی ایل اے پر کنٹرول اُن کے طویل مدتی سیاسی سفر کے لیے بہت اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ملٹری کمیشن کے سابق سربراہ نے اپنے جانشین کو کمزور کرنے کے لیے مستعفی ہونے کے بعد دو سال تک ملٹری کمیشن کی چیئرمین شپ اپنے پاس رکھی۔ ہارٹ کہتے ہیں کہ شی اس روایت کو بدلنا چاہتے ہیں تاکہ وہ پی ایل اے پر دیرپا اثر رکھ سکیں۔

سزائیں اور برطرفیاں کمیونسٹ پارٹی کی سیاست کا اہم حصہ ہیں اور کمیونسٹ چین کے بانی ماو زے تنگ بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔

لیڈن یونیورسٹی کے پروفیسر فرینک پائیک کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات صدر شی کی سیاست کا خاصہ بن گئے ہیں اور اسے اُنھوں نے اپنی طاقت کی بنیاد بنا لیا ہے۔

چین کے وزیر اعظم نے بھی گذشتہ ہفتے ہونے والی کانگریس میں کہا تھا کہ وہ فوج کے اندرصفائی کا عمل جاری رہے گا۔

پائیک کہتے ہیں کہ شی کے قابل اعتماد ساتھیوں کا حلقہ اب چھوٹا ہوتا جا رہا ہے اور بہت سے ایسے لوگوں کو خارج کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ایسے لوگ نہیں رہ جاتے، جنھیں شی نے خود بنایا ہے۔

تھامس کہتے ہیں کہ شی جتنے مضبوط ہوتے جائیں گے، اتنی ہی برطرفیاں بھی بڑھیں گی۔