چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال: حکمراں پارٹی کو کس نظر سے دیکھا جائے؟

A girl wearing a mask whilst waving the national flag during the centenary of the founding of the CPC history lantern show at Expo Garden on June 25, 2021 in Wuhan, Hubei. China.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین میں کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال مکمل ہونے پر انتہائی شان و شوکت سے منائی جانے والی تقریبات میں دھوم دھام سے جشن منایا جائے گا اور آتش بازی کے مظاہرے ہوں گے
    • مصنف, جان سڈورتھ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، تائیپے

جہاں ایک جانب چین کی حکومتی جماعت کمیونسٹ پارٹی اپنے قیام کے سو سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے، وہیں دوسری جانب اس حوالے سے بحث بڑھتی جا رہی ہے کہ ملک میں رائج آمرانہ طرز حکومت پر تنقید اور اس پر مرکوز کی گئی توجہ سے کیسے نمٹا جائے جو کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے لیے یہ موقع فخر کا اور عوام کی تعریفیں سمیٹنے کا ہے، نہ کہ ایک نئی سرد جنگ کے آغاز کے بارے میں خدشات سے نمٹنے کا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سینیٹر اور 2014 سے 2017 تک چین میں امریکہ کے سفیر کی حیثیت سے وقت بتانے والے میکس باؤکس بھی اس نکتے سے اتفاق کرتے ہیں۔

’چینی عوام کی ایک واضح اکثریت کو زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ ان کی اپنی ذاتی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کو اس سے کوئی خاص سرو کار نہیں ہے کہ پارٹی میں کیا تبدیلی ہو رہی ہے یا نہیں۔ چین میں معیار زندگی گذشتہ 20 سالوں میں بہت بہتر ہوا ہے اور وہ اس سے بہت خوش ہیں۔‘

مگر چین کی کمیونسٹ پارٹی، ان کی ملک پر سخت ہوتی ہوئی گرفت، موجودہ چینی صدر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں کچھ کرنا ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

یہ واضح ہے کہ چین کی مقامی پالیسیوں کا ظالمانہ سمت میں جانا بین الاقوامی پالیسی اور بحث و مباحثے میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

لیکن جہاں امریکہ اور یورپی ممالک میں اس بارے میں نظریاتی اختلافات ہوتے ہیں اور میکس باؤکس جیسے لوگ یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ چین سے سٹریٹجک طور پر روابط قائم رکھے جائیں، چین کے اندر ہونے والی اس نوعیت کی بحث کے بارے میں جاننا آسان نہیں ہے، لیکن یہ بحث ہو ضرور رہی ہے۔

File picture of Cai Xia, a Chinese dissident who in the past was a high-ranking member of the Chinese Communist Party

،تصویر کا ذریعہRadio Free Asia

،تصویر کا کیپشنکائی زیا چین کے مشہور سینٹرل پارٹی سکول کی ایک سابق پروفیسر ہیں اور انھوں نے اپنی زندگی کمیونسٹ پارٹی کے اعلی افسران کو تربیت دیتے اور ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزاری

کائی زیا چین کے مشہور سینٹرل پارٹی سکول کی ایک سابق پروفیسر ہیں اور انھوں نے اپنی زندگی کمیونسٹ پارٹی کے اعلی افسران کو تربیت دیتے اور ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزاری ہے لیکن بعد ازاں چینی حکومت کے خلاف کی گئی تنقید کے باعث وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔

کائی زیا اس بات پر یقین نہیں رکھتیں کہ چینی عوام سیاسی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں اس بات پر یقین ہے کہ کمیونسٹ پارٹی سے رابطے قائم رکھنا، نہ رکھنے سے زیادہ بہتر ہے۔

'ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے اور چین کے پاس وقت ہے کہ وہ ایک مطلق العنان حکومتی نظام کو تبدیل کر کے جمہوری نظام میں تبدیل کر لے۔ اور جتنا جلد چین یہ کرے گا، اتنا ہی یہ چین کے لیے اور دنیا کے لیے بہتر ہو گا۔ شی جن پنگ نے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ 'پوری انسانیت کے لیے ایک جیسا مستقبل' چاہتے ہیں لیکن انھوں نے سرد جنگ شروع کر دی ہے اور وہ نہیں رکتی۔‘

چین میں کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال مکمل ہونے پر انتہائی شان و شوکت سے منائی جانے والی تقریبات میں دھوم دھام سے جشن منایا جائے گا اور آتش بازی کے مظاہرے ہوں گے اور وہ ایک ایسے چین کا مظہر ہیں جو تیزی سے ترقی کے زینے چڑھ رہا ہے اور سرمایہ دارنہ نظام کو اپنا رہا ہے لیکن اس کے قلب میں وہی بے لچک لیننسٹ نظام ہے۔

یہاں پر سوال ایک بار پھر یہیں اٹھتا ہے کہ کیا یہ جشن نظر کا دھوکہ ہے جو بظاہر یہ دکھاتا ہے کہ چین میں انفرادی طور پر لوگ زیادہ امیر ہوئے ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں عام چینی شہریوں نے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کیا ہے۔

یا یہ سب ایک ایسی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ خوشحالی اور یہ طاقت سب ایک ہی پارٹی کی گرفت میں ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ گرفت مظبوط ہوتی جا رہی ہے اور وہ اس طاقت کو صرف اپنے ہی لوگوں پر نہیں بلکہ باقی دنیا پر بھی استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں رکھتے۔

File picture of Max Baucus, former US ambassador to China, at the US embassy in March 2014 in Beijing, China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سینیٹر اور 2014 سے 2017 تک چین میں امریکہ کے سفیر کی حیثیت سے وقت بتانے والے میکس باؤکس

میکس باؤکس اس نظریے کے حامی ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے چین کے ساتھ امریکی تعلقات کی بنیاد ہے، اور وہ نظریہ ہے کہ روابط قائم رکھنا اور تجارت کرنا بذات خود ایک مقصد ہیں۔

اس نظریہ کے تحت چین میں بڑھتی ہوئی خوشحالی اور متوسط طبقے کا سامنے آنا ایک ایسی امید کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کے تحت آہستہ آہستہ ملک میں سیاسی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا اور حتیٰ کہ وہ انتہائی سست رفتاری سے آئے، یا اگر نہ بھی آئے، معاشی طور پر چین سے روابط قائم رکھنا اس متبادل سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو کہ محاذ آرائی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

لیکن میکس باؤکس کو خدشہ ہے کہ اب یہ نظریہ اجتماعی طور پر تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور امریکہ میں سرد جنگ والی ذہنیت واپس آ رہی ہے۔

'میرے خیال میں واشنگٹن میں سب ایک جیسے خیالات کے حامی ہو گئے ہیں۔ یہ کانگریس، صدر، سب کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ چین کو سیاسی طور پر تنقید کا نشانہ بنائیں۔ اور دونوں جماعتیں اس پر متفق ہیں اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں چین کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ چینی اور امریکی لوگ ایک جیسے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کی پروا کرتے ہیں، ان کی پرورش کا سوقتے ہیں، اور میرے خیال میں پالیسی سازوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔'

لیکن کائی زیا اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔

گذشتہ برس اگست میں وہ امریکہ کے دورے پر تھیں جب ان کی کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت ختم کر دی گئی تھی اور اب وہ اپنی جان کو درپیش خطرے کے باعث اپنے وطن واپس نہیں جا سکتیں۔

ان کا خیال ہے کہ معاشی تبدیلیوں سے رونما ہونے والی مثبت باتوں پر توجہ دینے اور کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی پالیسیوں کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی۔

Performers take part in a show commemorating the 100th anniversary of the founding of the Communist Party of China at the National Stadium in Beijing, China, on 28 June 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین میں کمیونسٹ پارٹی کے سو سال پر بڑے جشن کا اہتمام کیا گیا ہے

'مغربی سیاستدان اور ان کے سکالرز چین کو نہیں سمجھتے۔ جب چین نے دنیا کے لیے اپنے دروازیے کھولے تو ان کی امید تھی کہ وہ عالمی نظام کو استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کو بڑھائیں گے اور وہی ان کا اصل مقصد تھا۔ اسی لیے وہ دنیا کو ایک دوستانہ چہرہ دکھاتے ہیں لیکن حقیقت میں کمیونسٹ پارٹی کی سرد جنگ والی ذہنیت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔'

کائی زیا کہتی ہیں کہ مغربی ممالک کو یہ نظر ہی نہیں آ رہا ہے کہ وہ ایک نظریاتی جنگ میں فریق بن چکے ہیں، چاہے وہ اس میں حصہ لینا چاہیں یا نہیں۔

ڈینگ یووین چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک موقر اخبار دی سٹڈی ٹائمز کے سابق مدیر ہیں لیکن اب وہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انھیں چین واپسی پر گرفتاری کا ڈر ہے کیونکہ انھوں نے چینی نظام حکومت پر تنقید کی تھی۔

وہ اس نکتے سے اتفاق کرتے ہیں کہ چین کے تیزی سے بدلتے ہوئی معاشی حالات شاید ایک وقت میں ملک میں سیاسی اصلاحات کے عمل کے حصول کو ممکن بنا سکتے تھے۔

'دس سال قبل کمیونسٹ پارٹی پس منظر میں جا رہی تھی۔ لیکن شی جن پنگ اس تبدیلی سے خوش نہیں تھے اور ان کی نظر میں یہ ایک خطرہ تھا۔ تو پھر جو انھوں نے خود کہا، اس پر عمل کیا اور اب شمال سے جنوب، مشرق سے مغرب، ہر سمت سے کمیونسٹ پارٹی اب بھرپور طور پر چین کو کنٹرول کر رہی ہے۔'

ڈینگ یووین کہتے ہیں کہ چین پر کمیونسٹ پارٹی کا ایسے حاوی ہونے سے ملک بہت پیچھے چلا گیا ہے۔

چین میں جابرانہ تسلط بڑھتا جا رہا ہے جیسا کہ سنکیانگ کے خطے میں جو اقدامات لیے گئے ہیں یا ہانگ کانگ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، اور اب وہ یہی ذہنیت عالمی سٹیج پر بھی لے جانے کے خواہشمند ہیں۔

'چین طاقتور ہے۔ وہ دنیا کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے تو دیگر ممالک کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ چین کیسے کام کرتا ہے اور اس کے جذبات کیا ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے چین دوسرے ممالک پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔ چینی نظام اور چینی منطق کو تسلیم کرنے سے اگر مغرب آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگے گا تو یہ مغرب کے لیے خطرناک ہو گا۔'

Paramilitary police and police officers keep watch as people gather to they watch a light show celebrating the 100th founding anniversary of the Communist Party of China at The Bund in Shanghai, China, on 30 June 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

چینی کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے مزید پڑھیے

پروفیسر کائی زیا اس سے بھی آگے کی بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ چین کی جانب سے ایک باقاعدہ حکمت عملی کا حصہ ہے کہ اگر عالمگیریت کمیونسٹ پارٹی کو اصلاحات پر مجبور نہ کر سکی، تو اب چین انھی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی اقدار مغرب پر مسلط کرنے کے لیے تیار ہے۔

'چین نے پُرامن ارتقائی عمل میں رکاوٹ ڈالی ہے جس کی مدد سے شاید مغربی اقدار چین میں داخل ہو کر چینی عوام کو متاثر کرتیں، اور چین نے ہر ممکن طریقے سے ایسا ہونے نہیں دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چین مغربی دنیا کی آزادی اظہار رائے کی اقدار کو استعمال کرتے ہوئے اپنی معلومات، اپنا پروپگینڈا دیگر ممالک میں پھیلا رہا ہے۔'

اس کی واضح مثال اس طرح دیکھی جا سکتی ہے کہ بی بی سی نے پروفیسر کائی زیا کی سابقہ یونیورسٹی سمیت چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں درجنوں محققین اور سکالرز سے رابطہ کیا تاکہ ان سے کمیونسٹ پارٹی، اس کے معاشرے میں کردار اور اس کے قیام کے سو سال مکمل ہونے کے بارے میں بات کر سکیں۔

لیکن چین میں معلومات کی ترسیل پر اس قدر ریاستی کنٹرول ہے کہ ان میں سے ایک شخص بھی یا تو بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا یا دستیاب نہیں تھا۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھی متعدد درخواستوں کے باوجود پارٹی کے بارے میں کسی ماہر سے رابطہ نہیں کرایا۔

وہ لوگ جو ابھی بھی چینی کمیونسٹ پارٹی سے روابط قائم رکھے کے حامی ہیں، چینی تاریخ میں اتنی اہمیت رکھنے والی جماعت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جتنی بھی خواہش ہو آپ انھیں نظر انداز نہیں کر سکتے یا ان کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔

میکس باؤکس کہتے ہیں کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مغربی اقدار کا پرچار کرتے ہیں۔

Visitors walk inside of the Memorial of the First National Congress of the Communist Party of China, on June 17, 2021 in Shanghai, China.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشنگھائی میں فرسٹ نیشنل کانگریس آف کمیونسٹ پارٹی کی یادگار پر آئے ہوئے سیاح

'اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ وہ بہتر ہیں۔ لیکن دوسری جانب، چین ایک مختلف طریقے سے تبدیل ہوا ہے اور وہاں ہونے والی ترقی بھی ایک مختلف نوعیت کی ہے، اور اگر ہم ان کو جمہوری نظام حکومت پر لانے کے لیے متاثر نہیں کر سکتے، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا اور اسی حقیقت کے ساتھ چلنا ہو گا۔'

جب میں نے ان سے سنکیانگ اور ہانگ کانگ کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں کمیونسٹ پارٹی اپنی سیاسی کنٹرول کو چھوڑنا نہیں چاہتی، لیکن پھر بھی اس کی ایک حد ہے۔

'وہ اپنے کنٹرول کو بڑے اچھے انداز میں نبھاتے ہیں، مطلب یہ کہ اگر وہ بہت زیادہ جابرانہ نظام کی طرف جا رہے ہوں تو لوگ اس کے خلاف ردعمل دیتے ہیں، لیکن دوسری جانب سے ایک حد سے زیادہ جابر نہیں ہو سکتے۔'

لیکن پروفیسر کائی زیا اس پارٹی کو اندر سے جانتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب حقیقت میں کمیونسٹ پارٹی میں اندرونی طور پر طاقت کو کنٹرول کرنے کے ذرائع بہت کم ہیں اور اب ایک نئے نظام کی ضرورت ہے جو روابط قائم کرنے اور تجارت کو اپنے طور پر ایک مقصد کے طور پر تصور کرنے کے بارے میں احتیاط سے کام لے۔

'میں امید کرتی ہوں کہ مغربی سیاستدان اور باقی دنیا چین کی صورتحال دیکھے اور اس کے خلاف قدم اٹھائے۔ یہاں رائج مطلق العنان نظام، وہ چاہے کہیں کا بھی ہو، کبھی ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہے گا۔ وہ ایک دن تبدیل ہوگا اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم وہاں تک پہنچ سکیں۔'

تو کیا ان کے پاس چین کی کمیونسٹ پارٹی کے لیے ان کی 100ویں سالگرہ پر کوئی مثبت بات کہنے کو ہے، جس پارٹی کو انھوں نے اپنی زندگی کے اتنے برس دیے؟

'چین میں سو سال کا ہونے کا مطلب ہے کہ ایک شخص نے اپنی زندگی بھرپور طور پر گزار لی ہے اور اب اس کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ اگر مجھے ان کے بارے میں کوئی مثبت بات کہنی ہے تو میں کہوں گی کہ میں امید کرتی ہوں کہ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی اپنی پالیسی سازی میں غلطیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے جن کے وجہ سے چینی عوام کو تکلیف اٹھانی پڑی ہے اور اتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ انھیں اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے، نہ کہ جشن منانا چاہیے۔'