چینی قیادت کیسے منتخب ہوتی ہے

کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکمیونسٹ پارٹی کے پانچ سالہ اجلاس کے اختتام پر پولٹ بیورو کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کا اعلان ہوتا ہے

ہر پانچ سال بعد چین کی کمیونسٹ پارٹی ایک اجلاس منعقد کرتی ہے جو پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ اس اجلاس کا ایجنڈا ہوتا ہے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کا انتخاب۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے یہ لیڈر پھر چین کے ایک اعشاریہ تین ارب لوگوں کی قیادت کرتے ہیں اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت کا اس عمل میں کوئی کردار نہیں۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں کانگریس اٹھارہ اکتوبر سے شروع ہو گی اور مختلف سطح پر قیادت میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے، لیکن عام خیال یہی ہے کہ ملک کی صدارت ژی جن پنگ کے ہاتھ میں رہے گی۔

صدر ژی جنپنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر ژی جن پنگ کا اپنے عہدے پر قائم رہنے کا امکان

کانگریس کا کام کیا ہے؟

اکتوبر کے وسط میں ملک بھر سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے نمائندے بیجنگ کے 'گریٹ ہال آف دی پیپل' میں جمع ہوں گے۔ پارٹی کے 2300 نمائندوں میں سے اس بار 2287 اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق 13 نمائندوں کو 'غیر مناسب رویے' کی وجہ سے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔

بند دروازوں کے پیچھے پارٹی کے یہ نمائندے 200 ارکان پر مشتمل انتہائی طاقتور سینٹرل کمیٹی کا انتخاب کرے گی۔ یہ کمیٹی 'پولٹبیورو' چنتی ہے اور اس میں سے پھر 'پولٹبیورو سٹینڈنگ کمیٹی' کا جنم ہوتا ہے۔ یہ ہیں چین کے اصل بااختیار ادارے۔

اس وقت پولٹبیورو کے ارکان کی تعداد 24 ہے اور اس کی سینٹرل کمیٹی میں 7 ارکان ہیں۔ ان اداروں کے ارکان کی تعداد ماضی میں تبدیل ہوتی رہی ہے۔

کہنے کو تو نئی قیادت ان کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو موجودہ قیادت ہی چنتی ہے اور یہ صرف ان کے فیصلوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

پارٹی کی سینٹرل کمیٹی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا بھی انتخاب کرتی ہے جو پھر ملک کے صدر قرار پاتے ہیں اور اس بار یہ عہدہ ژی جن پنگ کے پاس ہی رہے گا۔

دی گریٹ ہال آف دی پیپل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکمیونسٹ پارٹی کا اجلاس بیجنگ کے ’دی گریٹ ہال اف دی پیپل‘ میں ہوتا ہے

2017 کے اجلاس سے توقعات

کمیونسٹ پارٹی کے 19 ویں اجلاس میں سب کا دھیان دو باتوں پر ہو گا۔

پہلی صدر ژی کی تقریر جس سے ماہرین چین کی اگلے پانچ سالہ پالیسی کی سمت کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ اس بار توقع ہے کہ پولٹبیورو کی سینٹرل کمیٹی میں بھی تمام ارکان تبدیل ہو جائیں گے۔ ان تمام ارکان کی عمریں 68 سال سے زیادہ ہیں جو کہ ریٹائرمنٹ کی عمر سمجھی جاتی ہے۔

ان میں انسداد رشوت ستانی کے ادارے کے سربراہ بھی شامل ہیں اور ایک خیال یہ بھی ہے کہ انہیں کام جاری رکھنے کے لیے کہا جائے گا۔

عام طور پر کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں مستقبل کی قیادت کو بھی متعارف کرایا جاتا ہے جو پانچ سال بعد ملک کی قیادت سنبھالتی ہے۔ تاہم کچھ ایسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ صدر ژی روایت کے بر عکس اس بار اس میں کچھ تاخیر سے کام لیں۔

صدر ژی جنپنگ کے لیے اجلاس کی اہمیت

امکان یہی ہے کہ ان کا اقتدار پر کنٹرول مزید مستحکم ہوگا۔ ان کے ہم خیال ارکان کو اجلاس میں مختلف عہدوں پر تعینات کیا جائے گا اور یہ بھی امکان ہے کہ ان کی پالیسیوں کو 'ژی جن پنگ کے خیالات' کے عنوان کے ساتھ پارٹی کے چارٹر میں شامل کر لیا جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں ان کا مقام چین کی سیاسی تاریخ میں ماؤ زے تنگ کے برابر ہو جائے گا۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہہو سکتا ہے کہ ژی جن پنگ ایک اور روایت سے ہٹتے ہوئے دو بار سے زیادہ اپنے عہدے پر فائز رہیں۔

صدر ژی کے 2012 میں صدر بننے کے بعد شروع کی جانے والی انسداد رشوت ستانی کی مہم میں لاکھوں افسران کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے۔ اس مہم کو مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے استعمال کیے جانے کے الزام کا سامنا بھی ہے۔

صدر ژی کے نام کی ایک پروپیگینڈہ مہم بھی سامنے آئی ہے جس میں ان کو 'ژی دادا' یعنی 'انکل ژی' کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

بیرونی دنیا کے لیے اجلاس کی اہمیت

ماہرین کا خیال ہے کہ سٹینڈنگ کمیٹی میں نئے چہرے کچھ تبدیلیوں کا باعث بنیں گے، لیکن بالعمعوم چین کی موجودہ سمت قائم رہے گی۔ چین اپنے آپ کو متبادل عالمی قیادت کے طور پر دیکھنا چاہے گا اور اس کے 'ون بیلٹ ون روڈ' اور بحیرہ جنوبی چین میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تاہم ایک مشکل ضرور ہے۔ شمالی کوریا اور اس کا جوہری پروگرام۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ چین کسی فیصلہ کن کردار سے اجتناب کرے گا اور کمیونسٹ پارٹی کے اس اجلاس کے بعد بھی یہ بحث جاری رہے گی کہ اپنے اس گرم مزاج ہمسائےِ سے کیسے نمٹا جائے۔