چین کے وہ کون سے ’چار تاریخی ادوار‘ ہیں جو وہ سب کو پڑھانا چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
چین میں رواں سال جولائی میں کیمونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے قیام کی صد سالہ تقریبات کی مناسبت سے ملک میں ’چار تواریخ‘ کی تشہیر اور تعلیمی مہم چلائی جا رہی ہے۔
اس مہم کے علاوہ ملک کے صدر اور کیمونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل شی جی پنگ نے رواں برس فروری کی 20 تاریخ کو کیمونسٹ پارٹی کے ارکان کو کیمونسٹ پارٹی کی تاریخ سے روشناس کرانے کی ایک مہم کا آغاز کیا تھا۔
چین کو درپیش، کووڈ کی وبا، معاشی چیلنج اور دیگر تنازعات جیسے مسائل کے پس منظر میں چین کی قیادت کا خیال ہے کہ سرکاری طور پر تصدیق شدہ اس تاریخ سے عوام کو روشناس کرانے سے رائے عامہ کو ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور حکمران جماعت کے اقتدار کو اخلاقی جواز ملے گا اور ترقی کے بارے میں اس کے تصور کی عوامی حمایت بڑھے گی۔
چار تواریخ کیا ہیں؟
چار تواریخ کا مطلب سی سی پی کی تاریخ، جدید چین کی تاریخ، چین میں اصلاحات اور معیشت کو کھولنے کی تاریخ اور گزشتہ پانچ صدیوں میں عالمی سطح پر سوشلسٹ سوچ کے فروغ کی تاریخ ہے۔ تاریخ کی یہ تشریح درحقیقت حکمران جماعت سی سی پی کے ذہن اور نقطہ نگاہ سے کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کی حکمران جماعت نے ہمیشہ ہی جماعت اور ملک کی تاریخ کی تعلیم پر زور دیا ہے لیکن سی سی پی کی موجودہ قیادت صدر شی جی پنگ کی رہنمائی میں حکمران جماعت کے ارکان پر چین میں اصلاحات اور معیشت کو کھولنے کی تاریخ اور سوشلسٹ سوچ کی ترویج اور ترقی کی تاریخ سے روشانس ہونے پر بھی زور دے رہی ہے۔ انھیں توقع ہے کہ اس طرح جماعت کے اراکین اور عوام کی سوچ اور خیالات میں پختگی آئے گی۔
سی سی پی کی طرف سے 25 مئی کو جاری ہونے والے ایک اعلان کے بعد یہ ملک گیر مہم بن گئی ہے۔ اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ 'چار تاریخوں' کی تشہیر اور ان کی آگاہی خاص کر نوجوان میں پیدا کی جانی چاہیے تاکہ انھیں سمجھنے میں مدد ملے کہ 'سی سی پی کیوں کامیاب ہے، مارکسزم کیوں موثر ہے اور چین کی طرز کا سوشلزم کیوں اچھا ہے؟'
چین میں انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اخبار اور ذرائع ابلاغ جن کے قارئین، سامعین اور ناظرین اکثر بیرونی دنیا کے لوگ ہوتے ہیں ان میں شاید ہی چار تواریخ کے بارے میں چلائی جانے والی مہم کا ذکر نظر آئے۔ لیکن چینی زبان میں چلائے جانے والے جرائد اور ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں تبصروں تجزیوں اور مضامین کی بھرمار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی سی پی کی کامیابیوں کے بارے میں آگاہی

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کی حکومت کی ان کاوشوں کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ نئے چین کے بنانے میں سی سی پی کے کردار کو اجاگر کیا جائے جس نے ملک میں معاشی اصلاحات متعارف کروائیں اور معیشت کو سرمایہ کاری کے لیے کھولا اور یوں ملک نے معاشی ترقی کی اور عوام میں خوشحالی آئی۔
سی سی پی کو توقع ہے کہ ان چار تواریخ کا علم عام ہونے سے اس کے اس دعوے کو تقویت ملے گی کہ حکمران جماعت چین کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جانے کی اہل ہے اور یوں وہ عوام میں اپنی مقبولیت اور حمایت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حکمران جماعت کے ایک اخبار کے 31 مئی کے شمارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں وضاحت کی گئی کہ اس مہم کا مقصد جماعت کے تمام اراکین اور معاشرے میں چینی قوم کے لیے سی سی پی کی خدمات اور کامیابیوں کے بنیادی نکات کے بارے میں سمجھ میں اضافہ کرنا ہے۔
چین کی طرز کے شوشلسٹ نظام کی ترویج
سی سی پی سمجھتی ہے کہ چار تواریخ کے مطالعے سے اس خیال کو بھی تقویت دینے میں مدد ملے گی کہ چین کا شوشلسٹ نظام دوسرے سیاسی نظاموں کے مقابلے میں بہتر ہے اور اس سے ملک میں جاری اس بحث کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی کہ چین کو سیاسی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ دنیا میں جہاں مغربی سیاسی روایات اور سوچ کو فوقیت دی جاتی ہے وہاں وہ اکیلا نہ رہ جائے۔
حکمران جماعت کی سرپرستی میں چلائِے جانے والے ایک اور اخبار 'گوانگمن ڈیلی' میں 15 جون کو شی جی پنگ کی جدید دور میں چینی طرز کے شوشلزم کے بارے میں سوچ پر تحقیق کرنے والے لی ہونگوائی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ چار تواریخ کے مطالعے سے یہ سمجھنے میں لوگوں کو آسانی ہو گی کہ کسی طرح سے چین نے چینی طرز کے سوشلزم کا کامیاب راستہ اختیار کیا اور دنیا بھر کے لوگوں کو یہ دکھایا اور یقین دلایا کہ شوشلزم اور کیمونزم کام کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ارتقا کے تاریخی عمل اور دو نظریات اور دو سماجی نظاموں کے درمیان کشمکش میں شوشلزم اور کیمونزم کے حق میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
چار تواریخ کی تعلیم کو تاریخ کے اس بیانیے جسے سی سی پی کی اصطلاح میں 'تاریخی فنائیت' کہتے ہیں کو بھی رد کرنے میں مدد ملے گی۔
چین، ہانگ کانگ اور تائیوان کے علاوہ کچھ دوسرے ملکوں کے تاریخ دانوں نے بھی چین کی حالیہ تاریخ کے بارے میں علمی کام کیا ہے لیکن ان کے خیالات کا چین کی حکمران جماعت کے خیالات سے ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں ہے۔
چین کی قیادت اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہے اور چاہتی ہے کہ چین کی تاریخ پر ’چار تواریخ‘ کے پرچار سے چین کی گرفت مضبوط رہے۔
صدر شی جی پنگ نے سنہ 2013 میں ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ دشمن قوتیں ملک کے اندر اور ملک کے باہر سی سی پی اور جدید چین کی تاریخ پر حملہ آور ہیں جس کا بنیادی مقصد لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا اور انھیں چین کی موجودہ قیادت اور چین کے شوشلسٹ نظام کو ختم کرنے پر اکسانا ہے۔












