صدام حسین اور خامنہ ای: کیا امریکہ نے ایران میں وہی غلطی دہرائی ہے؟

- مصنف, گورڈن کوریرا
- عہدہ, سکیورٹی نامہ نگار، بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
نو اپریل 2003 کو بغداد کے مرکز میں واقع عراقی رہنما صدام حسین کا مجسمہ گرایا گیا۔ مجسمے کے ستون کے نیچے نصب دھاتی تختی اکھاڑ دی گئی اور سنگِ مرمر کے چبوترے کو ہتھوڑے سے توڑا گیا۔
ابتدا میں عراقی شہریوں نے خود یہ مجسمہ گرانے کی کوشش کی۔ وہ اس پر چڑھے اور اس کی گردن میں رسی ڈال دی۔ لیکن وہ اسے گرانے میں ناکام رہے۔ آخرکار امریکی فوجیوں نے ایک بکتر بند فوجی گاڑی کی مدد سے یہ مجسمہ زمین بوس کیا۔
یہ لمحہ حکومت کی تبدیلی یعنی رجیم چینج کی علامت بنا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی صرف 20 روز قبل عراق پر حملہ کر چکے تھے جس کا آغاز شدید بمباری اور کروز میزائلوں کے ذریعے عراقی لیڈر کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش سے ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGamma - Rapho via Getty Images
مجسمہ گرنے کے تین ہفتے بعد امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب لنگر انداز ایک امریکی طیارہ بردار جہاز پر نمودار ہوئے۔ ان کے پیچھے ایک بینر آویزاں تھا جس پر لکھا تھا کہ ’مشن کامیاب رہا‘۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔
عراق کی اس جنگ کا سایہ آج ایران کے ساتھ جاری موجودہ تنازعے پر گہرا ہے۔ یہ وہ جنگ تھی جس نے عراق میں گہرے زخم چھوڑے اور ایک ایسے سلسلے کو جنم دیا جو کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔
اس نے تباہی کا ایسا دھارا چھوڑا کہ تخمینوں کے مطابق 2003 سے 2011 کے درمیان عراق میں جنگ سے متعلقہ وجوہات کے باعث چار لاکھ 61 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس جنگ پر تین ٹریلین ڈالر کی لاگت آئی۔
اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا اور ان ممالک میں عوام کے سیاست دانوں پر اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا جنھوں نے یہ جنگ شروع کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGamma - Rapho via Getty Images
آج امریکہ خطے میں ایک اور ایسی کارروائی میں مصروف ہے جسے بہت سے لوگ ’وار آف چوائس‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس بار یہ جنگ عراق کے پڑوسی ایران کے خلاف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں تنازعات میں مماثلتیں اور بازگشت ضرور ہیں مگر اس بار ایسے بنیادی فرق بھی موجود ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ دنیا میں کیا کچھ بدل چکا ہے اور کیا امریکہ عراق جنگ کی ناکامیاں دہرانے سے بچ سکتا ہے۔
جنگ کے محرکات
امریکہ کی جانب سے عراق پر حملے کے کئی محرکات تھے۔ ان میں سے کچھ اُس وقت عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیے گئے تھے۔ لیکن بنیادی مقصد رجیم چینج تھا۔
صدر جارج بش کے اردگرد موجود کچھ لوگوں کو 1991 کی پہلی خلیجی جنگ سے ’نامکمل کام‘ کا احساس تھا: صدام حسین کو کویت سے نکال تو دیا گیا تھا مگر وہ برسرِ اقتدار رہے۔
صدر بش کے لیے یہ معاملہ شاید مزید ذاتی نوعیت کا بھی تھا کیونکہ اُن کے والد صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے ہی 1991 کی جنگ کی قیادت کی تھی۔ بعد میں صدام حسین نے اُنھیں قتل کرنے کی سازش بھی کی تھی۔
کئی لوگوں کا خیال تھا کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر بھی رجیم چینج ضروری ہے کیونکہ صدام حسین نے اپنے ہی لوگوں پر انتہائی ظلم ڈھایا تھا۔ خاص طور پر 1980 کی دہائی میں کرد شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ سب 1990 کی دہائی سے شروع ہونے والی اُس لبرل بیرونی مداخلت کی لہر سے بھی جڑا تھا جس کی برطانیہ کے ٹونی بلیئر نے حمایت کی تھی۔ مثلاً کوسووو میں خونریزی روکنے کے لیے مداخلت۔ عراقی تارکین وطن بھی صدام کی آمریت سے آزاد ایک نیا مستقبل چاہتے تھے۔
بعض ’نیو کنزرویٹو‘ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ازسرِنو ترتیب دینا چاہتے تھے۔ وہ وہاں جمہوریت لانا چاہتے تھے اور امریکہ مخالف ڈکٹیٹر ہٹانا چاہتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ بغداد کے بعد تہران کی باری ہو گی۔ نائن الیون حملوں کے بعد واشنگٹن کے سخت گیر حلقے امریکی جارحانہ طاقت کی بحالی چاہتے تھے۔
القاعدہ کے حملوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ممکنہ تباہی کے تصور کو بدل دیا۔ جلد ہی عراق امریکی ایجنڈے پر اوپر آگیا، حالانکہ 9/11 میں اُس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ افغانستان میں طالبان کو جلد شکست دینے سے بھی واشنگٹن کا اعتماد بڑھ گیا کہ وہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔
لیکن آخرکار جنگ کا جواز ایک اور چیز پر مرکوز ہوا، یعنی عراق میں مبینہ ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن پر۔ اس سے مراد جوہری، کیمیائی، حیاتیاتی ہتھیاروں کے منصوبے اور میزائل ٹیکنالوجی تھی۔
برطانوی اور امریکی عوام میں حمایت حاصل کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہی تھا کہ ان ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے خطرے پر زور دیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر عراق کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کرنا امریکی موقف کو قانونی جواز دلانے کا ذریعہ بنا۔
لیکن یہ ہتھیار اصل وجہ کبھی نہیں تھے، جیسا کہ اس وقت سی آئی اے کے عراق آپریشنز گروپ کے سربراہ لوئس روئیدا نے مجھے بعد میں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عراق پر حملہ کر دیتے، چاہے صدام حسین کے پاس ایک ربڑ بینڈ اور پیپر کلپ ہی کیوں نہ ہوتا۔ ہم کہتے: دیکھیں، یہ آپ کی آنکھ نکال سکتا ہے، چلو اسے ہٹا دیتے ہیں۔‘
تو اب ایران پر حملہ کیوں کیا گیا؟
ایران پر ہونے والا حملہ بھی بظاہر متعدد محرکات کے ایک پیچیدہ مجموعے سے جنم لیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اراکین کی جانب سے مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ جیسے ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا، اسے تباہیِ عامہ کے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، رجیم چینج کے ذریعے ایک زیادہ لچکدار ریاست قائم کرنا اور حکومتی کریک ڈاؤن سے متاثرہ عوام کی حمایت کرنا۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں نے واشنگٹن میں ایران سے متعلق حکمت عملی بدلنے کا عمل شروع کیا تھا۔
جیسے ہی اسرائیل میں خطرات کے اندازے بدلنے لگے اور اس نے ایران اور اُس کے پراکسی گروہوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو امریکہ کے لیے بھی اقدام کرنے کی راہ کھلتی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اس بار امریکہ میں ان مختلف اور بعض اوقات متضاد محرکات کو واضح طور پر ایک منظم موقف میں ڈھالنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔
خود ٹرمپ کبھی ایک جواز کی طرف جھکتے ہیں اور کبھی دوسرے کی طرف۔ سب اس پر منحصر ہے کہ وہ کس دن کس سے بات کر رہے ہیں۔
اس جنگ کو امریکی عوام کو بیچنے کی کوئی کوشش کی گئی۔ اس سے قبل عراق کے معاملے میں یہ کئی ماہ پر محیط عمل تھا۔ اس بار اقوامِ متحدہ کے ذریعے کسی بین الاقوامی جواز کی تلاش بھی نہیں کی گئی۔ جبکہ 2003 میں یہ بحث جاری تھی کہ کون سے ممالک کارروائی کی حمایت کریں گے۔
اس بار فیصلہ سازوں کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون تقریباً غیر متعلق نظر آئے۔ یہ سب ایک ایسی نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت پرانا عالمی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یعنی ایک غیرمتوقع صدر کو اب مختلف محرکات کو یکجا کر کے کوئی مربوط جواز پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
برطانیہ اور اتحادیوں کا کردار
2003 میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جنگ کا آغاز کیا جن میں سب سے نمایاں برطانیہ تھا۔ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ کھڑے تھے۔
انھوں نے 2002 کی گرمیوں میں بش کو ایک مشہور خفیہ خط لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ ہوں گے، ’چاہے جو بھی ہو‘۔
ان کا ماننا یہ تھا برطانیہ کو امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے امریکہ کے قریب رہنا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں ایران کے معاملے پر بھی یہی رائے ظاہر کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے مجھے حملے کی 20ویں برسی پر ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’جب میں وزیرِ اعظم تھا تو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا، چاہے صدر کلنٹن ہوں یا صدر بش۔ امریکی صدر سب سے پہلے برطانوی وزیرِ اعظم کو فون کرتے ہیں۔‘
لیکن ٹونی بلیئر کے قریبی ساتھی بھی ان کی اس غیر معمولی وابستگی سے محتاط تھے۔ ان کے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے بعد میں مجھے بتایا کہ ’جو بھی ہو‘ والا خط ’اچھا خیال نہیں تھا۔‘
ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر میں ٹونی بلیئر امریکی فیصلوں پر کتنا اثر انداز ہو سکے۔ انھوں نے واشنگٹن کو اقوام متحدہ کی منظوری لینے پر آمادہ کیا لیکن امریکہ کی جانب سے یہ جزوی کوشش آخرکار ناکام رہی۔
جب بلیئر کو جنگ سے پیچھے ہٹنے کا موقع دیا گیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔
انھوں نے 2003 میں مجھے بتایا کہ ’وزیر اعظم کی حیثیت سے آپ کو ایسے ہی فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ وہ مجھے ایک راستہ اس لیے دے رہے تھے کیونکہ انھیں میری سیاسی مشکلات کا احساس تھا۔ لیکن۔۔۔ اس سے باہمی تعلقات پر بُرا اثر پڑتا۔‘
اُن کے لیے واقعی اس کے سیاسی نتائج بہت بھاری ثابت ہوئے کیونکہ عراق میں ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن موجود نہیں تھے، جو کہ مداخلت کی بنیاد تھا۔ اس نے نہ صرف اُن کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سابق وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ ’اس نے عوامی زندگی میں اعتماد کو کمزور کیا۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔‘
جارج ڈبلیو بش کی صدارت کے آخری برس عراق کے ساتھ نمٹنے کی کوششوں میں گزر گئے۔ اس نے ان کی ساکھ متاثر کی اور امریکی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔
صدر اوباما اقتدار میں اس واضح موقف کے ساتھ آئے کہ وہ ایسی مداخلتوں سے دور رہیں گے۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ بھی اسی سوچ کے ساتھ آئے تھے۔
اس بار امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ یا دیگر اتحادیوں کے بجائے اسرائیل کے ساتھ کام کیا۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹامر نے واشنگٹن سے فاصلہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے ابتدائی حملے میں برطانوی اڈے دینے سے انکار کیا مگر بعد میں ’دفاعی مقاصد‘ کے لیے اس کی اجازت دی۔
یہ شاید لیبر پارٹی کے اندر عراق کی تلخ یادوں کی وجہ سے بھی ہو۔ لیکن ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہار بھی کہ وہ صدر ٹرمپ پر واقعی کتنا اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
سکیورٹی اور انٹیلیجنس کے شعبوں میں کام کرنے والے اہلکار اب بھی کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔
لیکن ساتھ ساتھ یہ احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ قربت اب بڑی حد تک ماضی کی روایت کی بنیاد پر قائم ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ اپنی سکیورٹی پالیسی کو نئی سمت میں لے جا رہا ہے اور اُس بین الاقوامی نظام کو کمزور کر رہا ہے جس میں برطانیہ نے دہائیوں سے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
ماضی میں بھی کچھ برطانوی وزرائے اعظم نے امریکہ کی جنگوں سے فاصلہ رکھا۔ مثلاً ہیرالڈ ولسن نے ویتنام جنگ میں شمولیت سے انکار کیا تھا۔
لیکن اس بار صورتحال مختلف محسوس ہوتی ہے۔
آگے کیا ہو گا؟
امریکہ کی عراق جنگ کی تاریخ سب سے زیادہ واضح اس بات میں جھلکتی ہے کہ واشنگٹن کے رہنما موجودہ تنازعے اور اُس وقت کی جنگ کے درمیان فرق پر کس قدر زور دے رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران، عراق سے مختلف ہے اور یہ جنگ ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ نہیں بنے گی۔‘
اس فرق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ امریکہ رجیم چینج کی بات تو کر رہا ہے مگر اب تک اُس نے زمینی فوج تعینات نہیں کی جیسا کہ 2003 میں کیا گیا تھا جب تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجی عراق بھیجے گئے۔ اس کے نتیجے میں صدام حسین (جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے لیکن بعد میں گرفتار ہوئے) کی تیز اور موثر حکومت کا خاتمہ ممکن ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عراق میں فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی سے بچنے کی موجودہ خواہش امریکی آپشنز کو محدود کرتی ہے کیونکہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے رجیم چینج لانا بہت مشکل ہے جب تک کہ زمینی سطح پر کسی بغاوت یا مسلح گروہ کے ساتھ اتحاد نہ ہو۔
ایران کے خلاف کردوں کو مسلح کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے 2003 میں بھی کردار ادا کیا تھا لیکن اُس وقت وہ امریکہ اور اس کے بڑے اتحادی فوجی دستوں کے ساتھ تھے، تنہا نہیں۔
2003 کی ابتدائی فوجی فتح کے بعد ایک طویل قبضہ شروع ہوا جس دوران بغاوت اور خانہ جنگی نے جنم لیا۔ امریکہ دوبارہ اس دلدل میں پھنسنا نہیں چاہتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کے بڑے اہداف یا رجیم چینج بڑے پیمانے پر فوجی عزم کے بغیر حاصل کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
وینزویلا کی طرح نظام برقرار رہے مگر کسی ایک رہنما کو بدلنا ایک الگ بات ہے۔
ماضی سے ایک مماثلت یہ ہے کہ آج بھی مستقبل کے لیے منصوبہ بندی نہیں ہے۔ اس کا تعلق اس ابہام سے ہے کہ اصل مقصد کیا ہے۔
2003 میں عراق سے متعلق مختلف تصورات کبھی واضح نہیں کیے گئے۔ فوجی کارروائی کے بعد کے دور کے لیے کوئی موثر منصوبہ نہیں تھا۔
سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے مجھے بیس برس بعد بتایا کہ ’غلطی یہ تھی کہ ہم نے عراق کے لیے نئی حکومت بنانے کی کوشش کی۔ ہمیں عراقیوں سے کہنا چاہیے تھا: مبارک ہو، اپنی حکومت خود بنائیں۔ یہ لیں، فیڈرلِسٹ پیپرز اور گڈ لک!‘
یہ نقطۂ نظر اُن لوگوں سے مختلف تھا جو مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت پھیلانے کے حامی تھے اور عراق کو اس کا آغاز بنانا چاہتے تھے۔
آج عراق کی حالت اُس ابتدائی بحران کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے اور بہت سے لوگ صدام حسین کے ہٹائے جانے کو مثبت قدم سمجھتے ہیں۔
لیکن وہ جمہوری لہر جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ پورے خطے میں پھیلے گی، وہ کبھی نہیں آئی۔
بلکہ حملے کا سب سے بڑا فاتح ایران ثابت ہوا۔ اس کا سب سے بڑا علاقائی دشمن ہٹا دیا گیا اور اسے عراق اور خطے کے دیگر حصوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔
اس جنگ نے برطانیہ اور وسیع تر مغرب کے اندر دہشت گردی کے خطرے میں بھی اضافہ کیا۔
جنگیں ہمیشہ وہ نتائج نہیں لاتیں جن کی توقع یا خواہش کی جاتی ہے۔
کوئی واضح پلان نہیں
عراق اور ایران دو بالکل مختلف ممالک ہیں لیکن کیا ان سے کوئی سبق سیکھا جا سکتا ہے؟
ابھی تک اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں کہ امریکہ کیا تبدیلی لانا چاہتا ہے یا ایران کے لیے وہ کیسا مستقبل تصور کر رہا ہے۔
اس بار بظاہر یہ بے ربطی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے جس سے صدر ٹرمپ کو یہ آزادی مل جاتی ہے کہ وہ وقت آنے پر مختلف اقدامات میں سے کسی ایک کو ’فتح‘ قرار دے سکیں۔
وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایران کی میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کر دینا ہی کافی تھا اور رجیم چینج تو ویسے بھی ایرانی عوام کا معاملہ تھا۔ وہ خود مختلف مواقع پر رجیم چینج کی خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
ایسا نتیجہ ایران کی حکومت کو کمزور مگر مزید تلخ اور سخت گیر کر دے گا، جیسے 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد ہوا۔ تب صدام حسین کو کویت سے نکالا گیا تھا مگر وہ بغداد میں اقتدار میں برقرار رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس کا نتیجہ برسوں کی کشیدگی، کبھی کبھار بمباری، تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خدشات اور آخر کار 2003 کی ایک اور جنگ کی صورت میں نکلا۔
عراق سے جو ایک بڑا سبق ملا وہ یہ کہ ایک ریاست کو جنگ میں توڑنا نسبتاً آسان ہوتا ہے مگر اسے بعد میں دوبارہ بنانا بہت مشکل۔
اس وقت ایران کی ریاست کے کچھ حصے واقعی ٹوٹ رہے ہیں۔
موجودہ جنگ امریکہ کے اتحادیوں (خصوصاً برطانیہ اور خلیجی ممالک، جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں) کو اپنی حقیقی سلامتی کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔
اور جنگ شروع کرنے والوں کے لیے اندرونی سیاسی اثرات، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے لیے، بھی غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ معاشی نقصان کے اثرات ایسے طریقوں سے پھیل رہے ہیں جن کی انھیں توقع نہیں تھی۔
ایک ممکنہ سبق یہ ہے کہ فوجی مداخلتوں کا آغاز کرتے وقت عاجزی بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
جنگیں فطری طور پر غیر متوقع ہوتی ہیں اور ان کے نتائج اور اثرات کئی دہائیوں تک گونجتے رہتے ہیں۔












